خیبرپختونخوا: فنڈز کی قلت و تربیت کا فقدان، قتل کے غیر حل شدہ مقدمات کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

0
1141

پشاور:تین برس قبل عمر دین پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے نقل مکانی کرکے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آباد ہوگئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ فیصلہ ’’اپنے بچوں کے بہتر مستقبل‘‘ کے لیے کیا۔

کچھ ہی عرصہ گزرا ہوگا جب 25اگست 2013ء کو عمر دین کی سات برس کی بیٹی حسنہ پشاور شہر کے علاقے غریب آباد کی ایک مسجدسے واپس آتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔وہ قرأن مجید پڑھنے مسجد گئی تھی۔

غروبِ آفتاب کے بعد بھی جب بچی گھر واپس نہیں لوٹی تو عمر دین نے اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن حسنہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ خاندان نے حسنہ کی تلاش میں غریب آباد کا چپہ چپہ چھان مارا۔ وقت گزرتا گیا اور حسنہ کی واپسی کی امید بھی دم توڑتی چلی گئی۔

اگلے روز صبح کے وقت پڑوسیوں کوایک خالی پلاٹ سے حسنہ کی لاش ملی۔ انہوں نے اس دل دہلا دینے والی خبر سے عمر دین کو آگاہ کیا جنہوں نے اس بارے میں پہاڑی پورہ پولیس سٹیشن سے رابطہ قائم کیا۔

پولیس نے لاش ہسپتال منتقل کردی اور پوسٹ مارٹم کے بعد نامعلوم قاتلوں کے خلاف اغوا، ریپ اور قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ عمر دین تین بیٹوں کے باپ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تین برس گزر چکے ہیں اور پولیس اب تک قاتلوں کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوپائی۔

انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش سے مکمل طورپر مایوس ہوچکا ہوں۔‘‘

پشاور نے حالیہ برسوں کے دوران ہدفی قتلوں اور دہشت گردی کی بہت ساری کارروائیوں کا سامنا کیا ہے جس کے باعث قتل کے غیر حل شدہ مقدمات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ شہر کی پولیس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق2016ء کے دوران پشاور میں قتل کے 188مقدمات رپورٹ ہوئے۔ قتل کے ان 188مقدمات میں سے پولیس صرف75 مقدمات ہی حل کرسکی ہے جب کہ باقی مقدمات اب تک حل طلب ہیں جن میں حسنہ کے قتل کا معاملہ بھی شامل ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

2015ء میں نامعلوم قاتلوں نے 148افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ پشاور کے محکمۂ پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیس 43مقدمات میں قاتلوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوچکی ہے جب کہ 92مقدمات اب بھی حل نہیں ہوسکے۔

عمر دین کہتے ہیں:’’ میں نے اپنی بیٹی کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے پولیس کی ہدایات پر سراغراساں کتا خریدنے پر ہزاروں روپے خرچ کردیے لیکن مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس عہد میں یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک کمسن بچی کے قتل اور ریپ کی طرح کے پرتشدد جرم کی گتھی اب تک نہیں سلجھ سکی۔‘‘

حسنہ کے قتل کے ایک برس بعد اس مقدمے کی فائل بند کر دی گئی۔ تفتیش کے مرکزی افسر ریٹائر ہوگئے۔عمر دین کہتے ہیں:’’ 2013-14ء میں تفتیشی افسر اکثر و بیشتر ہم سے رابطہ کرتے رہے لیکن انہوں نے تفتیش کے بارے میں ہم سے کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے ہم سے صرف یہ کہا کہ ہم صبر کریں اور ان پر یقین رکھیں۔‘‘

حسنہ کے قتل کا مقدمہ قتل کے ان سینکڑوں غیر حل شدہ مقدمات میں سے ایک ہے جو گزشتہ برس پشاور میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔
پولیس کہتی ہے کہ انہوں نے مقدمے کی فائل بند کردی ہے کیوں کہ قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

صوبۂ خیبرپختونخوا کے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ سے منسلک ڈپٹی ڈائریکٹر اور سابق پبلک پراسیکیوٹر ملک مقصود علی کہتے ہیں:’’ پولیس عموماً کسی مقدمے کی فائل اس وقت بند کرتی ہے جب وہ ملزموں کا سراغ لگانے میں ناکام ہوجاتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسروں کی اکثریت تفتیشی ذمہ داریوں کو ’’سزا‘‘ سے تعبیر کرتی ہے۔ ملک مقصود علی کہتے ہیں:’’

محکمۂ پولیس کو تفتیشی ٹیم کو ترغیب دینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ان کی کارکردگی میں بہتری آئے۔ بہت سے مقدمات میں تفتیشی ونگ مختص شدہ فنڈز حاصل نہیں کرپاتے جس کے باعث تفتیشی عمل متاثر ہوتا ہے۔ محکمۂ پولیس کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ سراغرساں بھرتی کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ بہت سے تفتیش کاروں میں یہ صلاحیت مفقود ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ عینی شاہدین غلط معلومات فراہم کرسکتے ہیں لیکن واقعاتی شہادتیں حقیقت کے قریب تر ہوتی ہیں۔ ملک مقصود علی نے کہا:’’ محکمۂ پولیس کو اہلکاروں کی واقعاتی شہادتیں جمع کرنے کے حوالے سے صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘

بری تفتیشی صلاحیتیں ہی وہ واحد وجہ نہیں ہیں جن کے باعث عدالتوں کی قتل کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے اہلیت متاثر ہوتی ہے۔ ملک مقصود علی نے کہا کہ اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ مقتول کا خاندان پولیس یا عدالتوں کی مدد حاصل کرنے کے بجائے ملزم سے ’’بدلہ ‘‘ لینے کو ترجیح دیتا ہے۔

کچھ اسی طرح ملزم سے تفتیش کرنا اکثر خطرات کا باعث بن جاتا ہے اور خاص طورپر جب وہ شکایت کنندہ سے زیادہ طاقت ور ہو۔ ملک مقصود علی کہتے ہیں:’’ لوگ پولیس پر یقین کرنے پر تیار نہیں ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ پولیس پشاور کو شہر میں پنجاب فارنزک لیبارٹری کی طرح کاادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے یا دوسری صورت میں وہ تربیت کے لیے تفتیش کاروں کو لاہور کی پنجاب فارنرک لیبارٹری بھیجے۔

ملک مقصود علی کے مطابق قتل کے واقعات کے عینی شاہدین کہتے ہیں کہ پولیس عموماً جائے وقوعہ پر اس وقت پہنچتی ہے جب ملزم فرار ہوچکے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب قریبی پولیس سٹیشن چند ہی منٹ کی مسافت پر کیوں نہ واقع ہو۔

انہوں نے مزید کہا:’’پولیس اہلکار اکثر و بیشتر واضح نوعیت کے شواہد جمع کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں جن میں گولیوں کے خول وغیرہ شامل ہیں یا وہ گواہوں اور مشتبہ افراد سے تفتیش نہیں کرتے۔ اس کے بجائے پولیس مقتول کے ورثا پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ مقدمہ درج کرواتے ہوئے یہ بتائیں کہ ان کے خیال میں کون ایسا کرسکتا ہے۔‘‘

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف مقامات اور قریبی قبائلی علاقوں سے آسانی کے ساتھ اسلحہ اور گولیاں دستیاب ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس اسلحے کو رجسٹرکرے اور اسلحہ ڈیلروں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرے۔ متذکرہ بالا اقدامات سے تفتیش کاروں کو قاتلوں کا سراغ لگانے میں مدد حاصل ہوسکتی ہے۔‘‘

ملک مقصود علی کی طرح کے ماہرین قتل کے مقدمات میں ملوث جرائم پیشہ افراد کی گرفتار ی میں پولیس کی ناکامی کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں کرپشن، متعلقہ اہلکاروں کی عدم دلچسپی اور غلط تفتیش شامل ہے۔ 

جرائم، قتل کے مقدمات اور دہشت گردی کے واقعات کی بڑی تعداد کے باعث بھی پولیس کی غیر حل شدہ مقدمات پر توجہ مرکوز کرنے کی اہلیت متاثر ہوئی ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انوسٹی گیشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر مسعود سلیم کہتے ہیں:’’مذکورہ وجوہ کے باعث بھی محکمۂ پولیس میں تفتیش کاروں کی تعداد بتدریج کم ہوئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پشاور میں پولیس کارروائیوں کے دوران انوسٹی گیشن ونگ کو ترجیح نہیں دی جاتی۔

ایک پولیس تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:’’ایک جانب تو قتل اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب تفتیش کاروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری سمت ہی درست نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہل کاروں کو جائے وقوعہ پر جانے، چھاپے مارنے اور جرائم پیشہ افراد کا تعاقب کرنے کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام آپریشنل فنڈنگ سینئر پولیس افسروں کے استعمال میں آجاتی ہے اور اس کا بہت کم حصہ ہی پولیس تھانوں کو موصول ہوتا ہے جس کے باعث مقدمات پر پیشرفت متاثر ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here