عوام کی آواز بالا ایون تک پہنچانے والے پروفیشنل صحافی مشکلات سے دوچار

0
540

صحافی سحرش کوکھر کو ڈیجیٹلی اور فیزیکلی ہراسانی کا سامنہ

رپورٹ: (حضور بخش منگی )  سکھر کی رہائشی سینئیر صحافی سحرش کوکھر (اے آر وائے) نیوز میں بطور سینئیر رپورٹر ہے ، سحرش کوکھر نے کہا کہ ” 1جولائی سال 2023 کو روہڑی میں اے آر وائے نیوز کے دفتر سے واپسی پر نو لوگوں نےجسمانی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہاتھاپائی ہوئی تو میرے بازو سے لباس پھٹ گیا اور انہوں نے مجھےدھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ فیس بوک سے صحافی امداد پھلپوٹہ کی پوسٹ ڈیلیٹ کردیں ورنہ سگین نتائج کا سامنہ کرنا ہوگا۔ میرے چیخنے چلانے پر وہ نو افراد فرار ہوگئے۔  اس واقعے کے عینی شاہدین میرے دو کیمرامین ہیں ،میں نےصحافی امداد پھلپوٹہ ابتک نیوز کے رپورٹر کی بلیک میلنگ کا پردہ فاش کیا تھا اس بلیک میلر کی ایف آء آر کی کاپی اور اس کی تصویر اپلوڈ کی ہوئی تھی تاکہ اس بلیک میلرکو عوام کے سامنے لاسکوں جو پروفیشنل صحافیوں کو بدنام کرتے ہیں  (اس پوسٹ کا سکرین شاٹ اس خبر کے ساتھ منسلک کیا ہے) جس کی بنیاد پر نو افراد نے مجھ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کے۔علاوہ مذکورہ دونوں ملزمان نے آن لائین فیس بوک کی فیک آئیڈیز پر میری کردار کشی کرتے رہے”۔  سحرش کے مطابق کچھ زرد صحافت کرنے والے یہ وہ عناصرہیں جن کا کام ہی پروفیشنل   صحافیوں کو دھمکیاں اور ہراساں کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر میرے خلاف میری عزت کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے  والے یہ دو نام نہاد صحافی ہیں جن کے خلاف میری مدعیت میں پولیس نے 9 جولائی 2023 کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ ( ایف آء آر ) تھانہ سی سیکشن پر داخل کردی، مقدمے میں مرکزی دونوں ملزم امداد پھلپوٹو ابتک نیوزاور ساحل جوگی سماء نیوز شامل ہیں، مقدمے میں ہراساں کرنے کے دفعات 509/496/354/506 شامل کیے گیے ہیں۔

اس کے ساتھ میں نے سائبر کرائیم کیس کے لیے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) سے رجوع کیااور درخواست دی ، میں نے درخواست میں یہ لکھا کہ فیک  فیس بوک آئیڈیزپر میری تصاویر وائرل کرکے میری عزت نفس کو نقصان رسایہ گیاہے ان تصاویر  کے سکرین شاٹس پیش کیے ہیں۔ ان پوسٹس میں مذکورہ نام نہاد صحافیوں کی رائیٹنگ سے معلوم کیاگیا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ انہوں نے فیک آئی ڈیز بنا کر میرے خلااف الزامات لگا رہے ہیں ، یہ درخواست 10 جولائی 2023 کو متعلقہ ادارہ ایف آئے اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر امجد عباسی کو سائبر کرائم کے مطابق جمع کروائی ہے، جس کی تحقیقات کی جارہی ہے ، ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق دو ماہ تک انکوائری ہوگی اس کے بعد ملزمان کی شناخت کی جاسکے گی  مذکورہ واقعہ کا پولیس کیس ایک ہفتے کے دوراں چالان ہوکر سکھر کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت تک پہنچ گیا ادھر ملزمان نے ضمانتیں منظور کروالیں جو اس وقت زیر سماعت ہیں ، عدالت میں تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے تاہم تاحال تک انصاف فراہم نہیں ہوسکا ہے۔سحرش نے یہ بھی کہا کہ سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ2021 کے مطابق مجھے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف سخت سزائیں مرتب کی جائیں تب جاکر مجھے انصاف حاصل ہوسکے گا۔

سکھر کے تھانہ سی سیکشن کے ایس ایچ او سے اس واقعے کے متعلق معلومات فراہم کی گئی تو انہوں دو ٹوک جواب دیا کہ یہ صحافیوں میں آپس کا معاملہ ہے۔

 

صحافی امداد پھلپوٹو اور ساحل جوگی کا مشترکہ موقف

سینئیر صحافی امداد پھلپوٹو ابتک نیوز کے رپورٹر  اور ساحل جوگی سماء نیوز کے رپورٹر نے مشترکہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ سحرش کوکھر ایک اچھی جرنلسٹ ہے اور اس کی عزت کرتے ہیں ، یہ جو ڈرامہ رچایا گیا ہے دراصل  سحرش نے اپنے بوس کو خوش کرنے کے لیے ہمارے اوپر الزام عائد کیا ہے جو سراسر بے بنیاد ہے ، ہمارا مسئلہ لالا اسد پٹھان سے ہے جو عرصہ دراز سے چل رہا ہے جس نے ماضی میں کئی بار ہمارے اوپر جھوٹے مقدمات درج کروائے تھے ، سحرش کوکھر اے آر وائے نیوز میں بطور رپورٹراور اپنے بوس کو خوش کرنے کے لیے ایسا گٹھیا الزام لگا کر مقدمہ درج کیا ہے، ہم نے کبھی بھی سحرش کے نام سے نا کوئی پوسٹ کی ہے نا ہی سوشل میڈیا پر کبھی نام دیا ہے ۔ امداد پھلپوٹو نے کہا کہ ہمارے دو صحافتی تنظیمیں ہیں ( پی ایف یو جے ) عاجز جمالی گروپ کی رجسٹرڈ تنظیم ہے جس کا میں مرکزی صدر ہوں۔ ہم خود پروفیشنل جرنلسٹ ہیں ہم نے ہمیشہ عورتوں کو عزت کی نگاہ دیکھا ہے، بہرحال سحرش سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے  اور ناہی  کسی قسم کی بدتمیزی کی ہے ، جو الزام دیا گیا ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے ۔اس واقعے کی انکوائری کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے اور عدالتوں پر ہمیں پورا بھروسہ ہے انشاء اللہ انکوائری کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے

لالا اسد پٹھان

پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالا اسد پٹھان نے کہا کہ “سندھ میں صحافیوں کے تحفظات کے حوالے سے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر عملدرآمد نا ہونے کے باعث صحافیوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ ایک رپورٹر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے ادارے کو خبر دینے کے چکر میں خود خطرناک علاقوں میں جا پہنچتا ہے۔ جہاں پر انہیں اپنی زندگی کی پرواہ کم جبکہ جلد خبر کو ادارے تک رسائی کی فکر ہوتی ہے۔ اس رپورٹر کی نا کوئی انشورنس ہوتی ہے نا ہی ریکارڈ ایمپلائی ہوتا ہے۔ اداروں کی پالیسیاں بھی عجیب ہیں پاکستان میں قانون بنانے سے قبل پہلے اس کا حل نکالا جاتا ہے۔لالا اسد پٹھان نے مزید کہا کہ اس ایکٹ 2021 کے مطابق صحافیوں کو اپنی معلومات کے ذرائع ظاہر نہ کرنے سے متعلق استثنیٰ حاصل ہے اور آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت صحافیوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے”۔

پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا سیفٹی پروفیشنلز ایکٹ 2021

سندھ بار کائونسل کے میمبر ایڈوکیٹ عبدالغنی بجارانی نے صحافیوں کے قانون ایکٹ 2021 کا حوالہ دیا

سندھ بار کائونسل کے میمبر ایڈوکیٹ عبدالغنی بجارانی نے کہا کہ پاکستان پینل کوڈ 1860 میں بیان کردہ سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021 کے تحت ہراساں کرنے ،تشدد اور تشدد کی دھمکیوں کی کاروائی کا احاطہ کیا گیا ہے

اس قانون میں صحافیوں کے یہ واقعات شامل ہوں گے

قتل عام (PPC 300)

قتل شبہ (PPC319)

چوٹ (PPC332)

غلط پابندی (PPC339)

غلط قید (PPC340)

فورس (PPC349)

مجرمانہ قوت(PPC350)

حملہ (PPC351)

اغوا(PPC351)PPC359,PPPC360,PPC362

غلط طریقے سے چھپانا یا قید میں رکھنا ، اغوا شدہ یا اغوا شدہ شخص ۔(PPC368)

جنسی بدسلوکی (PPC377)

مجرمانہ تجاوز(PPC441)

ہائوس ٹریسپس (PPC 442)

مجرمانہ دھمکی (PPC503

مئی 2021 کو سندھ اسمبلی نے سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021 متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2021 میں وفاقی سطح پر پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021 بنایا گیا۔ تاہم ایک برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی باقی تین صوبوں میں یہ قانون اب تک نہیں بن سکا۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن بنادیا گیا

میڈیا پریکٹیشنرز صحافیوں کی 14 رکنی کمیشن چار آفیشل میمبراں شامل ہی۔ِکمیشن ممبراں میں

سیکریٹری اطلاعات ، سیکریٹری داخلہ ، سیکریٹری قانون،ایک سیکریٹری اور نو غیر سرکاری میمبراں جن میں کے یو جے کے فہیم صدیقی،ای پی این ایس کے قاضی اسد عابد،سی پی این اے کے ڈاکٹر جبار خٹک،پی بی اے سے اطہر قاضی ،سندھ بار کائونسل سے ایاز تنیو،ایچ آر سی پی سے پروفیسر توصیف خان ، ایم پی اے شازیہ عمر ،اور سیدہ ماروی راشدی ، ای پی این ای سے غلام فرید الدین شامل ہیں۔

کمیشن کے ممبر فھیم صدیقی

کے یو جے کے صدر فھیم صدیقی کا کہنا ہے کہ “اس کمیشن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ہر صوبے سے ایک یعنی چار نمائندے شامل ہوں گے ، ایک نمائندہ نیشنل کا جبکہ ایک نمائندہ ہر صوبائی پریس کلب سے شامل ہوگا۔ جبکہ وزارت اطلاعات اور انسانی حقوق کا بھی ایک ایک نمائندہ اس کمیشن کا حصہ ہوگا ۔ اس کمیشن کا چیرمین ایک ریٹائرڈ جج ہوگا جس کا انسانی حقوق میں 20 سال کا تجربہ رکھنے شخص ہو” ۔

اگر کسی صحافی کو ہراساں کیے جانے یا تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعے پیش آتا ہے تو اس واقعے کی تفصیلات 14 روز کے اندر کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں گی اور کمیشن 14 روز میں اس کے متعلق فیصلہ کرے گا ۔

کمیشن کے اختیارات

فھیم صدیقی نے یہ بھی کہا کہ” کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کے دوراں کسی بھی شخص کو طلب کرسکتا ہے۔ اور کسی بھی ادارے سے اس کے متعلق دستاویزات یا رپورٹ طلب کرسکتا ہے ۔اس کے علاوہ اس مجوزہ قانون میں میڈیا مالکان پر یہ لازم قرار دیا گیا کہ ہر صحافی کو نوکری پر رکھنے کے ایک سال کے اندر انھیں ذاتی حفاظت سے متعلق تربیت دی جائے گی ، لیکن کمیشن تو بن گیا  ہے مگر کام کوئی نظر نہیں آرہا ہے ، اکثر ایسے کیسسز جو صحافیوں کے یونینز کی وجھ سے مقدمات درج نہیں ہوتے اور دوسرا اس کمیشن تک رسائی دینے والے یونینز کے سربراہاں تعلقات تک محدود رہتے ہیں جس کی وجھ سے کمیشن تک کیسسز کم ہی پہنچ پاتے ہیں”۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا خوش آئین قدم

13 جون 2023 حکومت کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس کے اعلان پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے اعزاز میں (پی ایف یو جے ) نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں استقبالیہ تقریب کے دوراں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کی نوید سناتی ہوں ، مریم اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی کاوشوں سے 18 سال کے بعد آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کی منظوری دے دی گئی ہے ، اتحادی حکومت نے کبھی صحافیوں پر ظلم تشدد نہیں کیا ، پیمرا کے قانون میں پہلی بار کونسل آف کمپلین بنائی گئی ہے اور اس کے ساتھ سیکیورٹی آف جرنلسٹس کا قانون اطلاعات کمیٹی میں موجود ہے، فرائض کی ادائیگی کے دوراں قربان ہونے والے شہید صحافیوں کے لیے بھی ہیلتھ انشورنس میں فنڈز مختص کردیئے ہیں ، بجٹ میں کم از کم ویج 32 ہزار کا اطلاق صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے بھی ہوگا کم از کم تنخواہ کے احکامات متعلقہ فورم پر بھیجے جا چکے ہیں ۔ھیلتھ انشورنس کا طریقہ کار آن لائین پرائیم منسٹر کی ویب سائیب پر دے دیا گیا ہے جس میں پریس کارڈ ، پریس کلب کارڈ ، شناختی کارڈ ، ایکریڈیشن کارڈ و دیگر معلومات درج کر کے مستفید ہوسکے گیں ۔ جس کا افتتاح 07 آگسٹ سے شروع کردیا ہے اس ھیلتھ کارڈ کا معیاد ایک سال تک رکھا گیا ہے۔

ملک کے تمام صحافیوں کو چاھئے کہ ہراسانی سمیت دیگر  واقعات کو فورن فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آء آر ) سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021 کے تحت درج کروائیں جائے تاکہ اس قانون پر عملدرآمد ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here