پاکستانی صحافی ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں

    0
    613

    رپورٹ:(عرفان اطہر منگی)پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے مشکل ترین ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ریاستی  اور حکومتی پابندیوں اور سختیوں کے علاوہ نان اسٹیٹ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث صحافت کرنا آسان کام نہیں رہا۔

    اگرچہ درجنوں صحافی مشکلات اور سیکیورٹی مسائل کے باوجود ملک میں صحافت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم بعض صحافی ایسے بھی ہیں جنہوں نے دھمکیوں، مناسب سیکیورٹی نہ ملنے اور اہل خانہ کی حفاظت کی خاطر نہ صرف صحافت بلکہ ملک کو ہی خیرباد کہا۔

    ایسے ہی صحافیوں میں صوبہ بلوچستان کے صحافی محمد ادریس بھی ہیں جو اپنے مذہبی اقلیتی فرقے اور صحافت کی وجہ سے بار بار نشانہ بننے کے بعد آخر کار 2014 میں ملک چھوڑ کر دیار غیر میں بسنے پر مجبور ہوئے۔

    محمد ادریس اپنی کہانی خود بتاتے ہیں کہ “ہم چھ بہن بھائی ہیں ۔ سب شادی شدہ اور اپنی اپنی خوشحال زندگی میں مگن ہیں۔ میں نے اپنی تمام تعلیم کوئٹہ سے ہی حاصل کی، اس کے بعد میں بلوچستان یونیورسٹی سریاب روڈ سے ماسٹرماس کمیونیکیشن  اینڈ میڈیا جنرل ازم میں ایم-اے کیا” ۔

     ان کا مذید کہنا تھا کہ “اس کے بعد  میں نے باقاعدہ طور پر الیکٹرونک میڈٰیا میں بطور رپورٹر  کام کا آغاز کیا ۔اس سے قبل شروع میں ایک لوکل اخبار آواز نسل نو میں سب ایڈیٹر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں۔ میرا رجحان الیکٹرونک میڈیا کا ذیادہ تھا ۔ بعد میں مجھے سماء ٹی وی جیسے بہترین ادارے میں بطور رپورٹر کام کرنے کا موقعہ ملا ۔ اس کے بعد جب تک میں پاکستان میں رہا تو آخری ایام میں سچ ٹی وی میں بطور بیورو چیف اپنی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ اس کے بعد ملک چھوڑ کر دیار غیر آنا پڑا”۔

     انھوں نے کہا “ملک کیوں چھوڑا اور دیار غیر کیوں آیا؟ یہی سوال جب میں کبھی تنہائی میں خود سوچتا ہوں تو مجھے بھی ہنسی آجاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ہجرت بہت آسان ہے۔ لیکن یہ میں اور میرا خدا جانتا ہے ہجرت کا دکھ کیا ہوتاہے اس کے رنج وعلم کیا ہوتے ہیں ۔ کیسے اپنوں کےبغیر جیا جاتاہے اپنی پہنچان کھوہ کر کسی اور ملک میں ثقافت میں ڈھلنا کسی عذاب تکلیف اور کرب سے کم نہیں ہوتا۔

    جب 2013میں علمدار روڈ پر دھماکا ہوا ۔میرا گھر دھماکے والے مقام کے بہت قریب تھا میں جب وہاں پر رپورٹنگ کرنے گیا تو میں خود بھی زخمی ہوگیا دوسرے دھماکے میں نہ مجھے اپنے ادارے کی طرف سے کوئی مدد ملی نہ صحافی تنظیموں کی طرف سے کوئی مدد ملی میں زخمی ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا میں پڑھتا رہتاہوں حق اور سچ لکھنے کی پاداش میں آپ مارے جاتے ہیں۔ متعدد مسائل کی وجہ سے جب سچ نہیں لکھ پا رہا تھا اور عوام کی ترجمانی نہیں کر پا رہا تھا تب میں نے 2014 میں ملک چھوڑ کر جرمنی میں اپنا پڑائوڈالا” ۔

    کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال مخدوش تھی۔سماء ٹی وی میں کام کرنے کے بعد ادریس کو کہیں کام نہ ملا۔ کوئٹہ کے مقامی بیورو چیف نے انہیں ملازمت کرنے کا کوئی موقع فراہم  نہیں کیا۔ سچ ٹی وی نے بطور بیور چیف انہیں تعینات کردیا اور وہ جب تک کوئٹہ میں رہے اسی عہدے پر فائز رہے۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث گھر سے باہر نکلنا اور ہرایونٹ پر پہنچنا انکے لیے ممکن نہ تھا۔ پھر انہوں نے دیار غیر جانے کا کا فیصلہ کیا اور پانچ سال وہاں رہنے کے بعد انکی اہلیہ بھی انکے پاس جرمنی چلی گئیں۔

    محمد اعظم  بھی ایسے ہی حالات کے پیش نظر ملک چھوڑ کر دیار غیر جا بسےانہوں نے اپنی کہانی کچھ اس طرح بیان کی۔ میں ایک عام آدمی تھا جسے جنون تھا صحافت کرنا لوگوں کی آواز بننا۔لوگوں کا درد محسوس کرنا۔ صحافت آسان نہیں پاکستان  بلخصوص بلوچستان میں  جب کام کررہا تھا بلوچستان میں تو میری قومیت میرا مذہب یہ دو میری بنیادی وجوہات تھی صحافت چھوڑنے کی اور اپنا ملک چھوڑنے کی۔ان دنوں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی دھماکے ہورہے تھے۔جب میں کام کررہا تھا بلوچستان میں ڈائریکٹ اور ان ڈٖائریکٹ تھریٹس تھے۔ کوئٹہ پریس کلب میں  میری انٹری بند کردی گئی تھی کہ آپ کی وجہ سے کوئی خودکش دھماکا ہو سکتا  ہےفائرنگ ہوسکتی ہے اس طرح کے واقعات ہوسکتے ہیں۔بہت سارے واقعات اورباتیں تھی جو ملک چھوڑنے کی اصل وجوہات بنی۔

    باقاعدہ طور پر بلوچستان کےسینئر صحافی جو پریس کلب میں صحافیوں کے نمائندے ہیں جو پاکستان میں جاننے جانتےہیں جو صحافیوں کےہمدرد ہیں انہوں  مجھے باضابطہ طور پر کہاکہ آپ یہ ملک چھوڑ کر چلے جائےیہ جگہ آپ کےلیے نہیں ۔ آپ آسٹریلیا چلے جائے یورپ چلے جائےکینیڈا چلے جائیں۔آپ کے برادری کے لوگ آپ کے مذہب کے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو کوئٹہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور پھر میں بھی اپنے مذہبی اقلیتی فرقے اور صحافت کی وجہ سے دیار غیر میں جا بسا۔-

    دس جنوری 2013 کو کوئٹہ علمدار روڈ دھماکے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ یہ انتہائی خوفناک دھماکا تھا جن میں محمد اعظم کابڑا بھائی بھی شامل تھا۔اہل خانہ کے تمام افراد نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ انہیں یہ ملک چھوڑ کر چلے جانا چاہیے ورنا یہاں محفوظ رہنا ممکن نہیں ۔ محمد اعظم کی تمام فیملی آج بھی کوئٹہ میں مقیم ہے اور وہ مارچ 2015میں  دیار غیر میں جا بسے۔

    وقاص احمد گورایہ لاہور کے رہائشی تھے۔ صحافت میں طویل عرصے سے کام کررہے تھے۔  وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ فیس بک پر موچی کے نام سے ایک پیج چلایا کرتےتھے پھر حالات کی وجہ سے انہوں نے بھی خود کو غیر محفوظ پایا اور دیار غیر جا بسے۔

    احمد وقاص گورایہ کا شمار بھی انہی صحافیوں میں ہوتاہے۔2007 سے اپنے اہل خانہ کےہمراہ نیدر لینڈ ز میں مقیم ہے 2017بہن کی شادی میں پاکستان جانا ہوا تھا انہیں وہی سے  اغوا کیاگیا تشدد کا نشانہ بنایا پھر آٹھ دن بعد رہائی ملی۔ حالانکہ صحافت کی وجہ سے وہ پہلے ہی ملک چھوڑ چکے تھے اس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان نہیں گئے۔

    احمد وقاص گورایہ 2017 میں وہ نیدرلینڈ چلے گئے فروری 2020 میں ، گوریا پر روٹرڈم میں واقع اپنے گھر کے باہر دو افراد نے حملہ کیا اور انہیں دھمکیاں دیں جون 2021 میں ایک برطانوی پاکستانی محمد گوہر خان کوکراو ن پراسیکیوشن سروس نے ایک احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش کاالزام لگایا۔ دسمبر 2018 میں وقاص گورایہ کو ایف بی آئی کی جانب سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وہ ایک ‘کل لسٹ‘ (قتل کی فہرست) پر ہیں۔

    احمد نورانی ایک معروف صحافی کے طورپر جانے پہنچانے جاتے ہیں۔ فراڈ ہیومن رائٹس پر کمال مہارت رکھتے ہیں۔ان پر 2017 میں اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے قریب حملہ کیاگیا رپورٹس کے تحت انکی اہلیہ عنبرین فاطمہ پر بھی 2021  میں حملہ کیاگیا ۔ان دنوں امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہےہیں یہ حملہ 25 نومبر 2021 کوکیاگیا لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق عنبرین فاطمہ جو کہ خود بھی ایک صحافی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے رات کو 8 بجے باہر نکلیں اور جب گلی میں پہنچی تو اس کے ساتھ ملحق تنگ گلی سے نامعلوم شخص تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا احمد نورانی اور عنبرین فاطمہ کے مطابق انکے کام کی وجہ سے مختلف بااثر افراد کی جانب سے یہ حربے استعمال کئے جاتے رہے۔

    احمد نورانی کی صحافت نے انہیں غیر محفوظ بنادیا۔ کچھ بااثر افراد کی جانب سے جان کو خطرہ لاحق ہوا۔ پھر یہ طے پایا کہ اب کام سے ذیادہ جان بچانا بہتر ہے پھر دیار غیر جا بسے۔

    2018 سے طحہٰ صدیقی نامی صحافی پیرس میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دس جنوری 2018 کو اسلام آباد ایئر پورٹ جاتے ہوئے مسلح افراد نے اپنی گاڑی میں زبردستی بیٹھانے کی کوشش کی لیکن بمشکل ان سے جان چھوڑنے میں کامیاب ہوئے۔باقی آئے روز پاکستان میں دھمکیاں ملنا معمول تھا۔انکے مطابق صحافت کی وجہ تھی ملک چھوڑنے کی ورنا معاشی لحاظ سے ہم اپنے ملک میں بھی خوشحال زندگی بسر کررہے تھے۔

    ملک چھوڑ کر جانے والے اہم ناموں میں صابر شاکر2022 میں ملک چھوڑ کر چلے گئے مختلف اداروں کی جانب سے دھمکیاں اور آئے روز کیسسز کی وجہ انہوں نے اے۔آر۔وائے سے بھی ریزائن دے دیاتھا۔ اور ارشد شریف جیسے صحافی شامل تھے۔ ارشد شریف تو پاکستان چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد کینیا میں قتل کر دیے انہیں 23 اکتوبر 2022  کو قتل کیاگیا اور ان کی ہلاکت کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    اس کے علاوہ سندھ میں خاص طور پر کراچی سے صحافی دیار غیر گئے ہیں جب ان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔

    پاکستان پریس فریڈم فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2002 سے لے کر اب تک پاکستان میں 73 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صحافیوں اور میڈیا میں کام کرنے والے کارکنان کو قتل کیا جاچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2015 تک 40 کے قریب صحافیوں کو ہراساں کیا جاچکا ہے اور ان کو دھمکیاں دی جاچکی ہیں۔

    پاکستان ٹیلی ویژن کے سینئر پروڈیوسر میر سلام جوگیزئی سے جب صحافیوں کے دیار غیر جانے کے حوالے سے بات کی تو انکا کہنا تھاکہ جب جان ہی محفوظ نہیں ہوگی تو بھلا یہاں کون رہےگا۔

    سینئر صحافی راجہ کامران  کہتےہیں کہ حالات ایسے بنا دیئے جاتے ہیں کہ انسان ملک کے اندر بھی محفوظ نہیں رہتا نتیجتا  وہ ملک چھوڑ ہی جانے کو ترجیح دیتاہے۔

    صحافت  ایک مشکل پیشہ ہے جب انسان کو اس پر گرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ بہترین اسٹوریاں کرنا شروع کردیتاہے تو کچھ قوتوں کی جانب سے اسے دھمکیاں ، زدکوب اور دیگر حربے استعمال کئے جاتے ہیں کہ وہ آگے نہ بڑھے لیکن صحافت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے چکر میں خطرناک موڑ پر آجاتا جس کے بعد اسے جان بچانے کے لیے نہ صرف گھر شہر بلکہ ملک چھوڑنا ہے ہی راہ نجات رہ جاتاہے شاید یہی وجہ ہے صحافت سے وابستہ افراد جنہیں قانونی موقعہ ملتاہے وہ دیار غیر جا بستے ہیں اور لوٹ کر نہیں آتے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here