عوام کی ایک بڑی تعداد توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے حق میں نہیں

0
1522

اسلام آباد: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں اپریل 2017ء میں صحافت کے 25برس کے طالب علم مشال خان پر افواہوں پہ مبنی توہینِ مذہب کا الزام عائد کیے جانے اور ان کے بہیمانہ قتل کے تین روز بعد مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مقتول کے آبائی قصبے زائدہ میں جمع ہوئی اور انہوں نے مشال خان کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔

زائدہ میں نکالی گئی اس احتجاجی ریلی میں مقامی شہری، سیاسی کارکن، طالب علم، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے جنہوں نے مشال خان کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے قصبے کے مرکزی بازار میں مارچ کیا، مظاہرین ’’معصوم مشال کو انصاف دو‘‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ قبائلی ثقافت کے حامل صوبے خیبرپختونخوا کے ایک گاؤں میں لوگوں نے توہینِ مذہب کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور مشتعل ہجوم کے اس اقدام کی مذمت کی۔ انہوں نے مشال خان کے خاندان سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔

13اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علموں اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد شعبۂ صحافت کے باہر جمع ہوئی اور انہوں نے مشال خان پر توہینِ مذہب کے الزامات عائد کرنا شروع کردیے جو ان کے اساتذہ کے مطابق ایک ذہین اور لائق طالب علم تھے۔بعدازاں وہ زبردستی شعبہ کے دفتر میں داخل ہوئے، انہوں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ ڈالے اور مشال خان کے ایک دوست پر مشال خان کا عقیدہ جاننے کے لیے تشدد کیا۔ شعبۂ صحافت کے ایک طالب عمیر خان کہتے ہیں:’’میں اس وقت لیبارٹری میں کھڑا تھا جب طالب علم جمع ہونا شروع ہوئے۔ وہ مشتعل تھے اور کہہ رہے تھے کہ مشال اللہ اور رسولﷺ پر یقین نہیں رکھتا۔‘‘

مشتعل ہجوم بعدازاں یونیورسٹی کے ہاسٹل کی جانب بڑھ گیا، جو شعبۂ صحافت سے قریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر قائم ہے، وہ ہاسٹل کی تیسری منزل پر پہنچے ، مشال نے اپنی جان بچانے کے لیے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا تھا، وہ اسے گھسیٹ کر باہر لے آئے اور پولیس سکواڈ اور یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز کی کی موجودگی میں ان پر گھونسے برسائے، اور ڈنڈوں اور اینٹوں سے ان پر تشدد کیا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبۂ صحافت کے سربراہ شیراز پراچہ نے کہا:’’ ہم نے مشال خان کے بارے میں کبھی ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی۔ اس کے خلاف کوئی شکایت جمع نہیں کروائی گئی تھی اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ثبوت موجود تھا۔ ‘‘

ریلی میں شامل سیاسی کارکن ڈاکٹر سعید محسود نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ابتدائی معلومات اور تفتیش سے یہ ثابت ہوا کہ مشال خان توہینِ مذہب میں ملوث نہیں تھے۔ ہماری معلومات کے مطابق انہوں نے اپنے اوپر عائد کئے جانے والے اس الزام سے کچھ روز قبل یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سماج میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے اور مذہب کے نام پرکسی پر بھی تشدد کرے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے نام پر تشدد کے فروغ پذیر رجحان کو واضح کرنے کے لیے سانحہ گوجرہ ایک بہترین مثال ثابت ہوسکتا ہے۔

2009ء میں چند ہزار افراد پر مشتمل مشتعل ہجوم نے گوجرہ کی کرسچن کالونی پر دھاوا بول دیا، یہ وسطی پنجاب کا ایک شہر ہے،ہجوم نے گھروں کو آگ لگا دی جس سے ایک خاندان کے سات ارکان آگ میں جھلس کر ہلاک ہوگئے۔

2012ء میں ہزاروں افراد نے جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ذہنی معذور ایک شخص کو تشدد کرکے مار ڈالا اور اس کی لاش جلاڈالی۔ مظاہرین نے اس پولیس سٹیشن پر بھی پتھراؤ کیا جہاں اس شخص سے تفتیش کی جارہی تھی اور اسے اپنی حراست میں لے لیا۔ لیکن اس نوعیت کے واقعات کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آئی۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین میں 1980ء کی دہائی میں فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ترامیم کی گئیں اور متعدد سخت سزائیں متعارف کروائی گئیں۔تعزیراتِ پاکستان میں شق نمبر 295اے، بی اور سی شامل کی گئی اور اسلام کی مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا الفاظ کے استعمال پر 10برس قید، قرآن پاک کی بے حرمتی پر عمرقید اور نبی اکرمﷺ کی گستاخی پر سزائے موت متعارف کروائی گئی۔

انتہاپسندی پر تحقیق کرنے والے تحقیقی ادارے سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق پاکستان میں 2005ء سے 2017ء کے دوران توہینِ مذہب کے الزام پر 70افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے۔

غیرسرکاری تنظیم نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس اپنی رپورٹ میں کہتی ہے کہ نئی ترامیم اور سخت سزائیں متعارف کروانے کے بعد توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج کی تعداد چند ایک سے بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔

مشال خان کے قتل کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں پر توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے حوالے سے بہت سے مباحثے ہوئے، سول سوسائٹی کی تنظیموں نے احتجاج کیا اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مشال خان کے خاندان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

مشال خان کے والد محمد اقبال نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہمارے کچھ پڑوسیوں اور ایک مقامی مولوی نے اعلانیہ طور پرلوگوں کو مشال کے جنازے میں شریک ہونے اور ان کے خاندان سے تعزیت کرنے سے روکا۔ تاہم، ریلی کے بعد وہ ہمارے پاس آئے اورا نہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کا اظہار کیا کہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نہ کرنے پر ان سے غلطی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے مذہب کے نام پر اس نوعیت کے قوانین کے غلط استعمال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا:’’ یہ صرف میرا دکھ نہیں ہے بلکہ یہ پوری قوم کا دکھ ہے۔‘‘ محمد اقبال نے مزید کہا کہ پورے سماج کو ان کے بیٹے کی پریشان کن موت کے بعد ان حالات کو مثبت طورپر تبدیل کرنے اور امن و رواداری کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے بھی اس مولوی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جس نے لوگوں کو مشال خان کے جنازے میں شریک نہ ہونے پر اُکسایا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل سروپ اعجاز کہتے ہیں کہ یہ ادراک پیدا ہوا ہے کہ توہینِ مذہب کا یہ قانون مختلف مواقع پر غلط استعمال ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگرچہ مشال کا معاملہ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک بدترین مثال ہے، لیکن اس ایک واقعہ سے سماجی روایات کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔ بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لیے حکومت اور سیاسی قوتوں کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور باعثِ افسوس امریہ ہے کہ اس حوالے سے عملی طورپر کوئی پیشرفت نہیں ہورہی۔ ( اور صرف لایعنی بیانیہ ہی دہرایا جارہا ہے۔)‘‘

سروپ اعجاز کا کہنا تھا کہ مشال خان کے بہیمانہ قتل نے توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے پرتشدد اور پریشان کن نتائج واضح کیے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’توہینِ مذہب‘‘ کا قانون ذاتی وجوہ کی بنا پر تشدد اور سزا دینے کے لیے ایک حربے کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان اب واضح ہورہا ہے اور یہ امید موجود ہے کہ یہ حالات ایک سنجیدہ قومی بیانیے کی بنیاد بن سکتے ہیں جو بالآخر اصلاح کی بنیاد ثابت ہوں گے۔‘‘

شیراز پراچہ نے سروپ اعجاز کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا:’’ حالات میں بہتری لانے کے لیے حقیقی چیلنج مائنڈسیٹ میں تبدیلی لاناہے۔ ہمیں جرأت مندانہ فیصلے کرنے اور معاملات کو نظرانداز کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
یونیورسٹی کا کیمپس مشال خان کی موت کے چھ ہفتوں بعد کھل گیا ہے اور اس دوران مشال خان کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے احتجاج جاری رہا ہے۔ مشال کے والد نے کیمپس کے کھلنے پر ایک بار پھرانصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ پر توہینِ مذہب کے نام پر تشدد کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے پولیس کے روبرو سرکاری طورپر ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں بھی یہ کہا ہے کہ:’’ عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے میرے بیٹے کو قتل کیا ہے تاکہ وہ اپنے حکام کی غیرقانونی سرگرمیوں پر پردہ ڈال سکیں اور انہوں نے احتساب سے بچنے کے لیے اس پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here