لاہور (ماریہ لاریب سے) یہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کا ایک منظر ہے‘ طالب علم پانی کے ایک بلند ٹینک کے قریب جمع ہوئے ہیں اور اپنے ایک ساتھی طالب علم شکیل کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ سالانہ امتحانات میں ناکام ہونے کے بعد خودکشی کرنے کی غرض سے پانی کے ٹینک پرکھڑاتھا۔ تاہم اس کے ساتھی اس کو نیچے اتارنے اور واپس لانے میں کامیاب رہے۔
15اپریل کو 16سالہ لڑکی لاریب نے اپنے والدین کے ساتھ معمولی جھگڑے پر لاہور کے ایک مقامی ہوٹل کی چھٹی منزل سے کود کر خودکشی کرلی تھی۔
پشاور میں 14برس کے سلیمان نے ایک کمسن لڑکی کی جانب سے نظرانداز کیے جانے پر سرحد گرامر سکول، گل بیلا میں خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔
سرحد گرامر سکول کی پرنسپل فرح نے ٹیلی فون پر نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑکے نے اسی سکول میں زیرِتعلیم جماعت چہارم کی طالبہ کی جانب سے اپنی محبت کو رَد کیے جانے پر شدید ترین ڈپریشن کے باعث خودکشی کی تھی۔
پاکستان میں مختلف وجوہات کے باعث خودکشی کرنے کی شرح اور رجحان میں اضافہ ہوا ہے جن میں غربت، محبت کے معاملات اور گھریلو مسائل وغیرہ شامل ہیں۔
شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور سے منسلک سائیکاٹری کے پروفیسر ڈاکٹر سعد ملک نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ پاکستان میں 30برس قبل خودکشیوں کی شرح صفر تھی جس میں گزشتہ 20برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا:’’خودکشیوں کی شرح میں اضافے کابراہِ راست تعلق سماج میںتھراپی اور نفسیاتی مدد کے حوالے سے پائے جانے والے منفی رویے کے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے مایوسی کے ساتھ مزید کہا کہ لوگوں کی اکثریت ذہنی بیماریوں کو ہنوز ’’ پاگل پن‘‘سے تعبیر کرتی ہے۔
یہ اَمر انتہائی تکلیف دہ ہے کہ خودکشیوں کے باوجود متاثرہ افراد کے خاندان نفسیاتی مدد کوایک بہتر حل کے طور پر نہیں دیکھتے۔ یونیورسٹی آف پنجاب کے سنٹر فار کلینیکل سائیکالوجی( سی سی پی) کی جانب سے شایع ہونے والے سالانہ جرنل کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی میں سے 25فی صد سے بھی کم لوگ بدترین حالات میں نفسیاتی مدد کے حصول کے حوالے سے آگاہ ہیں۔
 ڈاکٹر سعد ملک نے خودکشیوں کی شرح میں اضافے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سماج کے تین بنیادی نظام زوال پذیر ہیں جن میں خاندانی نظام، پڑوسیوں، کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعلقات اور مذہبی ادارے شامل ہیںجس کے باعث نوجوان نسل ذہنی طور پر تنہا ہوئی ہے۔ وہ ان کمزور اداروں میں پناہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی خود کو عہدِ حاضر کے سماج کے مطابق ڈھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ایک لڑکی منال ( شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے نام تبدیل کیا گیا ہے)، جس نے خودکشی کی کوشش کی تھی، نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ آٹھ ماہ قبل میری منگنی ٹوٹ گئی تھی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے منگیتر کو بھلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔‘‘
اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ میں محسوس کرتی ہوں کہ میرا مستقبل تاریک ہے اور کوئی بھی مجھے قبول نہیں کرے گا کیوں کہ اب میں مزید قبول کیے جانے کے قابل نہیں رہی۔‘‘
منال نے درجنوں نیند کی گولیاں کھا کے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ خوش قسمتی سے اس کی ماں کو فوری طور پراس بارے میںعلم ہوگیا جو اسے قریبی نجی ہسپتال لے گئیں۔ 45منٹ کے اندر اندر اس کے معدے کی صفائی کر دی گئی۔
نفسیاتی مدد حاصل کرنے کے حوالے سے گومگو کا شکار منال نے کہا:’’ میری خواہش ہے کہ ماہرِ نفسیات سے اپنا معائنہ کروائوں لیکن میری ماں کہتی ہیں کہ وہ نیند کی گولیاں تجویز کرنے کے علاوہ میری کوئی مدد نہیں کرے گا۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ میری حالت بہتر نہیں ہوگی۔‘‘
اس نے جذبات کے بہائو میں تسلیم کیا:’’ اگر میری طبیعت بہتر نہیں ہوتی تو میں اس زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہوں گی کیوں کہ مجھے تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔‘‘
کلینیکل سائیکاٹرسٹ اور پرائیویٹ پریکٹیشنر نیلم شاہین کہتی ہیں:’’ پاکستان میں 15سے 25برس کے نوجوان مرد و خواتین میں خودکشی کی اہم ترین وجوہات میں سماجی دبائو جیسا کہ خاندانی دبائو، ہراساںکیا جانا، بلیک میلنگ اور تعلقات میں پیدا ہونے والا اتار چڑھائوہے۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی:’’ ان سب سے بڑھ کر غصبی خلیوں میں پیدا ہونے والا عدم توزن بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کے لیے ادویات استعمال کرنے اور کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘‘
منال کے بھائی حبیب علی (حقیقی نام نہیں ہے) نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میرے لیے یہ بیان کرنا مشکل ہے کہ منال کی خودکشی کی کوشش کے باعث ہمیں کن حالات سے گزرنا پڑا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ میرے والدین اور میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم منال پر نظر رکھیں گے تاکہ وہ دوبارہ ایسی کوشش نہ کرے۔‘‘
  وہ اپنی بہن کی ذہنی حالت سے آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے کہا:’’ میں اسے خاندان کے پیر کے پاس لے کے جارہا ہوں تاکہ وہ ’’قلبی سکون‘‘ حاصل کرسکے۔‘‘
سینئر سائیکاٹرسٹ اور اندور سائیکاٹرسٹ یونٹ ای کے رجسٹرار ڈاکٹر صداقت بلوچ کہتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران70فی صد سے زائد مریضوں اور ان کے خاندانوں میں نفسیاتی مدد حاصل کرنے کے حوالے سے تذبذب کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران خودکشی کا رجحان رکھنے والے 10فی صد سے بھی کم مریضوں نے منشیات چھوڑنے یا پھر نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے مدد حاصل کی ہے جو ہسپتالوں کے آئوٹ ڈور وارڈز میںخودکشی کی کوشش کرنے والے مریضوں کی شرح سے کم ہے۔
ڈاکٹر سعد ملک نے اس تذبذب کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا:’’ خاندان کے 10ارکان (والدین) میں سے ایک ہی اپنے بچے کا بروقت علاج کرواتے ہیں۔‘‘
نیوز لینز پاکستان کو وزارتِ صحت اور نیشنل بیورو برائے شماریات سے مشاورت کے بعد معلوم ہوا ہے کہ خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے کوئی شماریاتی رپورٹ مرتب یا شایع نہیں کی گئی اورنہ ہی آبادیاتی بنیادوں پر کوئی رپورٹ دستیاب ہے جس میں لوگوں کے نفسیاتی بیماریوں کے حوالے سے رویے کا نفسیاتی تجزیہ کیا گیا ہو جس کے باعث وہ نفسیاتی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں ، یوں مریض خود اپنی جان لے لیتا ہے۔
نیلم شاہین نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ڈاکٹروں کو خودکشی کے پیچیدہ کیسز کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ اس حوالے سے قومی سطح پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ ہم نے 2009ء میں خودکشیوں سے بچائو کے لیے ’’ مائنڈ آرگنائزیشن‘‘ کے نام سے ٹیلی فون ہیلپ لائن شروع کی تھی لیکن حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کے باعث اسے بند کرنا پڑا۔‘‘
مائنڈ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 35شہروں میں 2013ء سے 2015ء کے درمیان تین سو افراد نے خودکشی کی۔ 2010ء میں تقریباً پانچ ہزار افراد نے خودکشی کی۔
 مزید برآں نیوز لینز پاکستان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستان کی وزارتِ صحت نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے 2009ء میں ایک جامع رپورٹ شایع کی تھی جس میں ملک میں ذہنی صحت کے حوالے سے تفصیل بیان کی گئی تھی۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائریشن کی ورلڈ ہیلتھ رینکنگ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں ایک لاکھ لوگوں میں خودکشی کی شرح 9.16فی صد ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 13,377لوگ خودکشی کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here