پشاور (سلمان یوسف زئی سے) انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی اور مالی وسائل محدود ہونے کے باعث خیبر پختونخوا میں حال ہی میںقائم ہونے والے ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کی صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کی صلاحیت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے وکیل ارشاد احمد، جو انسانی حقوق کے مقدمات میں مہارت رکھتے ہیں، کہتے ہیں:’’ صوبائی سطح پر انسانی حقوق کا ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کا تصور شاندار ہے لیکن اس سے مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے حکومت کی عملی سرپرستی کی ضرورت ہے۔‘‘
ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق سے منسلک ایک افسرنے ، جنہوں نے جاب سکیورٹی کی وجوہات کے باعث نام ظاہر کرنے سے انکارکرتے ہوئے،کہا کہ ڈائریکٹوریٹ تک’’ عام لوگوں کی نہ صرف زیادہ رسائی نہیں ہے بلکہ عملے کی کمی کا سامنا بھی ہے۔‘‘
 مذکورہ افسر نے کہا:’’ ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق اس وقت دو لوگ چلا رہے ہیں جن میں ایک ڈائریکٹر اور ایک انتظامی افسر ہیں۔ حکومت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ صوبہ بھر کے14اضلاع میں ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کے دفاتر کھولے جائیں گے جن سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلقہ مسائل کی شناخت میں مدد حاصل ہوتی۔لیکن معاشی مسائل کے علاوہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطے نہ ہونے کے باعث مختلف محکموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کی فراہمی میں مماثلت پیدا ہوگئی ہے۔ جیسا کہ محکمۂ سماجی بہبود خیبرپختونخوا اور ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کے اغراض و مقاصد کسی حد تک یکساں نوعیت کے ہیں۔‘‘
2012ء میں صوبے میں انسانی حقوق کی فراہمی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے پشاور کی سطح پرانسانی حقوق سیل قائم کیا گیاجسے بعدازاں پاکستان تحریکِ انصاف کی خیبرپختونخوا میں برسرِاقتدار صوبائی حکومت نے جولائی 2014ء میں ایک خودمختار ڈائریکٹوریٹ بنا دیا۔خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی ترقی، تحفظ و فروغ کے ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق نے درپیش چیلنجوں کے باوجود 2015ء میں موصول ہونے والی پانچ سو شکایتوں میں سے 475 پر فوری کارروائی کی۔
ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر نور زمان خٹک نے کہا کہ مختلف نوعیت کے معاملات کی، جو محکمۂ تعلیم،محکمۂ صحت، گھریلو جھگڑوں، مختلف محکموں میں بھرتیوں اور تبادلوں میں ضابطوں پر عمل پیرا نہ ہونے، اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں وغیرہ کے متعلق تھے، ڈائریکٹوریٹ نے عملے کی کمی کے باوجود پیروی کی۔
وہ شکایات، جو ڈائریکٹوریٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتیں، متعلقہ محکموں کو حل کے لیے ارسال کر دی جاتی ہیں اور ڈائریکٹوریٹ اس کا فیڈ بیک حاصل کرتا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ ایسے معاملات کی تفتیش نہیں کرسکتا جن کا تعلق خارجہ امور سے ہو اور وہ پاکستان کے دفاع سے جڑے ہوئے ہوں یا ایسے معاملات جو مسلح فورسز سے تعلق رکھتے ہوں اور انہیں قانونی تحفظ حاصل ہو۔
اگرچہ ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی تمام تر رکاوٹوں کے باوجودتسلی بخش رہی ہے جو صوبائی حکومت کی لاپرواہی کے باعث پیدا ہوئی ہیں جس نے معاشی وسائل اور عملے کی کمی کے حل کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ،یوں ملک کے اولین ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کی جانب سے صوبے میںبہتر نتائج کی فراہمی کی اہلیت متاثر ہوئی ہے‘ خیبرپختونخوا میں گزشتہ ایک دہائی سے بالخصوص شورش اور عسکریت پسندی کے باعث انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں غیر معمولی طور پر بڑھی ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ کے ایک افسر نے کہا:’’ ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کو 2015-16ء کے دوران تشہیری اور آگاہی مہم کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔‘‘
مذکورہ افسر کی تشویش انسانی حقوق کی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے خدشات سے بھی ظاہر ہوئی۔
خیبرپختونخوا میں خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’بلیو وائنز‘‘ کے پروگرام کوارڈینیٹر قمر نسیم کہتے ہیں:’’ ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق سیاسی مداخلت اور تعاون فراہم نہ کیے جانے کے باعث نظرانداز ہوا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ ایک دہائی سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:’’ آئین کے تحت ڈائریکٹر کو ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کو فعال بنانے کے لیے تعاون حاصل کرنے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں لیکن ان کی تقرری خیبرپختونخوا کا محکمۂ قانون عمل میں لایا ہے جس کے باعث یہ امید کرنا عبث ہے کہ وہ حکومت کے فیصلوں کے خلاف جائیں۔‘‘
جمہوریت اور گورننس پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل‘‘ (ڈی آر آئی) کے صوبائی رابطہ کار خلفان خٹک کہتے ہیں کہ ڈائریکٹوریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومتی مشینری و غیر سرکاری شعبے کی نگرانی کا نظام تشکیل دے جس کا واحد مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا ہو لیکن انسانی حقوق سے متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے اور اس نوعیت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے معاشی معاونت اور عملے کی ضرورت ہے۔
خلفان خٹک نے مزید کہا:’’ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے طور پر ڈائریکٹوریٹ عوام کے ساتھ رابطوں کے ضمن میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ معاشی مسائل کے باعث ڈائریکٹوریٹ کی کوئی ویب سائٹ نہیں ہے۔ ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کا لازمی طو رپر ایک پورٹل ہونا ضروری ہے جہاں لوگ آن لائن شکایات جمع کروا سکتے ہوں۔ درخواست جمع کروانے کا طریقۂ کار لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ان کی مادری زبانوں میں ہو۔‘‘
ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کے ایک افسر نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کو زیادہ تر شکایات سرکاری محکموں کی جانب سے موصول ہورہی ہیں جن میں وزیراعلیٰ کا شکایات سیل اور مردان شکایات سیل بھی شامل ہے اورآگاہی کے فقدان کے باعث کچھ لوگوں نے ہی براہِ راست درخواست جمع کروائی ہے۔انہوں نے مزید کہا:’’ ڈائریکٹوریٹ کو زیادہ تر شکایات وزیراعلیٰ شکایات سیل سے موصول ہوئیں کیوں کہ ڈائریکٹوریٹ کی کوئی تشہیر نہیں کی گئی۔‘‘
خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون امتیاز شاہد نے تصدیق کی کہ ڈائریکٹوریٹ کو معاشی وسائل کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا:’’ محکمۂ خزانہ نے متوقع بجٹ منظور نہیں کیا جس سے ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ خزانہ نے ان کو جلد از جلد فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کروائی ہے کیوں کہ ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق کے پاس اس وقت کوئی بجٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نپٹنے کے لیے حکومت نے مختلف اضلاع میں ڈائریکٹوریٹ کے ذیلی دفاتر قائم کرنے کا منصوبہ تشکیل دے رکھا ہے۔ یہ دفاتر فنڈز کی کمی کے باعث اب تک قائم نہیں ہوسکے، اگرچہ بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس و لا انفورسمنٹ افیئرز، حیات آباد پشاور میں ایک ذیلی دفتر قائم کرنے کے لیے جلدفنڈنگ فراہم کرے گا۔
انسانی حقوق کے امور پر وزیراعلیٰ کے مشیر عارف یوسف، جو خیبرپختونخوا اسمبلی کے رُکن بھی ہیں، نے ڈائریکٹوریٹ کو درپیش مسائل سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا:’’ ان کو میڈیا میںکوئی بھی بیان دینے سے قبل اس حوالے سے محکمۂ قانون سے ڈائریکٹوریٹ کی موجودگی کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا ہوں گی۔‘‘
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی ترقی، تحفظ و فروغ کے ایکٹ2014ء کے تحت ڈائریکٹوریٹ برائے انسانی حقوق صوبے میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، اس کے فروغ، تحفظ اور نفاذ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہونے والوں کی شکایات کے ازالے کے لیے انکوائری؛ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مستقبل بنیادوں پر مختلف پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے، تشکیل دینے اور ان کے نفاذ؛ حکومتی محکموں میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے رابطہ کار کے فرائض؛ قانون سازی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات؛ ان عالمی معاہدوں و قراردادوں، جن میں پاکستان فریق ہے، کے مطابق ضابطے تشکیل دینے کا حق رکھتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے انسانی حقوق و قانون اور ان کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے آگاہی پیدا کرنے اور معلوماتی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے عالمی معاہدوں کے عملدرآمد کی نگرانی بھی کرنی ہے۔  
نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک قانون ساز سید جعفر شاہ نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے حوالے سے بہت زیادہ شور مچایا گیا لیکن یہ امیدوں کے برعکس اس قدر مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا:’’ قوانین کا نفاذ انتہائی اہم ہے۔‘‘ سید جعفر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اگرخیبرپختونخوا حکومت قوانین پر عملدرآمد کروانے کے ذمہ دار اداروں کو تعاون فراہم نہیں کر تی تو وہ اپنے قوانین کے نفاذ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here