گھر کے لیے گھر چھوڑنے کا المیہ: افغان مہاجرین کا کرب

0
4815

: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzai

پشاور (انعام اللہ سے) فیصل 26برس کے افغان مہاجر ہیں جو پاکستان میں پرسکون جیون بیتا رہے ہیں۔ وہ سواتی بازار پشاور میں پھل اور سبزیاں فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ میں پاکستان میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ افغانستان اب میرے لیے ایک اجنبی ملک ہے۔ مجھ سے منسلک ہر چیز پاکستانی شناخت رکھتی ہے جیسا کہ میرا بچپن، میرا پیشہ اور میرے سماجی روابط۔۔۔‘‘
فیصل نے کہا:’’ میں لاکھوں روپے نہیں کما رہا لیکن اگر آج افغانستان واپس جاتا ہوں تو اس قدر بھی نہیں کما پاؤں گا۔میں واپس نہیں جانا چاہتا۔حکومتِ پاکستان کا افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا مطالبہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔ ہمارے لیے افغانستان میں کوئی خاص مواقع دستیاب نہیں ہیں کیوں کہ ملک ہنوز حالتِ جنگ میں ہے۔ میں سیاسی پناہ لینے کا فیصلہ کرچکا ہوں۔‘‘
شمشاتو مہاجرکیمپ میں آباد نبی گلہو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے دو افغان نسلیں پاکستان میں جوان ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ اس مرحلے پر اُس ملک کے لیے پاکستان چھوڑنا،جہاں تاحال امن قائم نہیں ہوااور وہ خانہ جنگی کا سامنا کررہا ہے،انتہائی مشکل ہے۔‘‘
17دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد حکومتِ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ایک 20نکاتی قومی ایکشن پلان تشکیل دیا تھا۔اس منصوبے میں افغان مہاجرین کے مسئلے سے نپٹنے کے لیے پالیسی پر شدومد سے عمل کرنا بھی شامل تھا۔چناں چہ پہلے مرحلے میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے عمل کو فوری طور پر روک دیا گیا۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی افغان مہاجرین کی نقل و حرکت کو مہاجر کیمپوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی مارچ 2015ء میں خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2002ء سے اب تک 23لاکھ افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجا جاچکا ہے‘ 2002ء میں سب سے زیادہ 811,299 اور 2014ء میں سب سے کم 6,394مہاجرین کی وطن واپسی عمل میں ہوئی۔
ان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد خیبرپختوانخوا میں آباد ہے کیوں کہ یہ خطہ افغانستان کے قرب میں ہے۔ بہت سے مہاجرین بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں اور انہوں نے پاکستانی شہریت بھی حاصل کرلی ہے۔ تاہم افغان مہاجر کیمپوں میں بسنے والے مہاجرین کو اپنی بقاء کے لیے حکومتِ پاکستان اور یو این ایچ سی آر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے یو این ایچ سی آر کی معاونت سے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل 2006-07ء میں شروع کیا تھا۔ تقریباً2.15ملین افغان مہاجرین رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں جنہیں پروف آف رجسٹریشن (پی او ایف) جاری کیاگیا جس کی معیاد دسمبر 2009ء تک تھی۔ دسمبر 2012ء میں حکومت نے کابل میں امن و امان کی ابتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام میں 30جون 2013تک توسیع کردی۔ جولائی 2013ء میں حکومتِ پاکستان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے ایک نئی پالیسی منظور کی جس کے تحت پی او آر کارڈز اور رضاکارانہ واپسی کے سہ طرفہ معاہدہ میں 31دسمبر 2015ء تک توسیع کر دی گئی ۔ آرمی پبلک سکول میں ہونے والے قتلِ عام کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی اور رجسٹریشن کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق رواں برس جنوری سے مارچ کے دوران 10,777افغان مہاجرین کی واپسی عمل میں آچکی ہے۔ ہر ماہ تین سے چار ہزار افغان مہاجرین پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں۔ 41فی صد مہاجرین نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے باعث واپسی کی راہ اختیار کی۔
افغان مہاجر رحمت ولی پشاور میں کارپینٹر کے طور پر کام کرر ہے ہیں‘ ان کے پاس کوئی قانونی دستاویز اور مہاجرکارڈ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:’’ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان میں مہاجروں کو قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث جلد گرفتار کرلیں گے۔ میں پاکستان کو اپنی دھرتی تصورکرتا ہوں کیوں کہ میں اس سرزمین پر پلا بڑھا ہوں۔ میرے لیے پاکستان چھوڑنا اور افغانستان میں زندگی کے سفر کا ازسرِآغاز کرنا ناممکن ہے۔‘‘
پاکستان میں اس وقت 965,301افغان مہاجر آباد ہیں جن میں سے 53فی صد کیمپوں جب کہ 47فی صد مہاجرین کے 64دیہاتوں میں رہ رہے ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق مہاجرین کی واپسی کا عمل دسمبر 2015ء تک مکمل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
یواین ایچ سی آر کے پبلک انفارمیشن آفیسر دنیا اسلم خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم پرامید ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر افغان مہاجرین پر ملک چھوڑنے کے لیے غیرضروری دباؤ نہیں ڈالے گا۔
سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گل تمام افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو ناممکن خیال کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ افغان مہاجرین جو گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں‘ ان کی اس ملک سے گہری وابستگی قائم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کاروبار شروع کررکھے ہیں۔ ان کی سماجی و معاشی زندگی کا دار و مدد پاکستان پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ پاکستانی حکام کا یہ رویہ غیر منطقی ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی تمام تر ذمہ داری افغانوں پر عایدکررہی ہے۔ افغان مہاجرین کی نسبت پاکستانی اس نوعیت کے جرائم میں زیادہ ملوث ہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here