جنوری سے فاٹا ٹربیونل میں ججوں کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی

0
4211

بنوں (احسان داوڑ سے) سرحدی علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو 60برس بعد قانونی حقوق دیے جانے کے لیے تشکیل دیا جانے والا اپیلیٹ کورٹ جنوری 2015ء سے بغیر ججوں کے کام کررہا ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کی سول سوسائٹی اس تاخیر کی ذمہ داری افسرِ شاہی پر عاید کرتی ہے جو خطے کی مبہم ’’خصوصی حیثیت‘‘ میں تبدیلی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔
جب حکومت نے 2011ء میں قبائلی علاقوں میں شکایات کی سماعت کے لیے ٹربیونل تشکیل دیا تو یوں دکھائی دیتا تھا کہ خطے کے عوام اور ان لوگوں کی خواہش پوری ہوگئی ہے جنہوں نے انسانی حقوق اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کے باسیوں کے یکساں حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی تھی۔
2011ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی برسرِاقتدار تھی جس نے فرنٹیر کرائمز ریگولیشنز یا ایف سی آرمیں ترامیم کیں‘ یہ تعصب پر مبنی ’’سیاہ قانون‘‘ ہے جس کے تحت برطانوی راج کے عہد سے فاٹا کے باسیوں پر حکومت کی جاتی رہی ہے۔
قانون میں اصلاحات
ایف سی آر میں ترامیم کا مطلب اجتماعی ذمہ داری کے اس بدنامِ زمانہ قانون میں لچک پیدا کرنا تھاجس کے تحت ایک پورا قبیلہ خواتین اور بچوں سمیت اس قبیلے کے کسی ایک رُکن کے جرم یا نامناسب رویے کی سزا پاتا تھا‘ نظامِ انصاف اورغیر معمولی صوابدیدی اختیارات کے باعث پولیٹیکل ایجنٹ اس ایجنسی کا حکمران بن گیاجس کا وہ انتظامی نگران تھا۔ 
جب سہ رُکنی فاٹا ٹربیونل یا اپیلیٹ کورٹ تشکیل دیا گیا تو یہ ممکن ہوا کہ عوام پولیٹیکل ایجنٹوں اور کمشنروں کے فیصلوں کو چیلنج کرسکیں۔
اس وقت اس ا قدام کی زبردست ستائش کی گئی جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جاتا رہا تھا‘ اس کو ایک ایسے اقدام کے طور پر دیکھا گیا جس کے تحت فاٹا کی ’’خصوصی حیثیت‘‘ اور خطے میں نافذ متوازی قوانین کا خاتمہ ممکن ہونے جارہا تھا۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں فوجداری تعزیرات کے تحت شہریوں کی عدالتوں تک رسائی ممکن ہے‘ اگر ان کو سزا ملتی ہے تو وہ اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کرتے ہیں‘ ان کوعدالت میں اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور اپنے دفاع میں دلائل دینے کا بھی حق حاصل ہے۔
فاٹا کے قبائلیوں کو ایف سی آر کے تحت مذکورہ بالا حقوق حاصل نہیں ہیں جیسا کہ وہ خود کو مجرم قرار دیے جانے کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکتے‘ ان کو قانونی نمائندگی کا حق حاصل ہے اور نہ ہی وہ عدالت کے روبرو شواہد پیش کرسکتے ہیں۔ انصاف تک رسائی تو کجا خطے میں فاٹا ٹربیونل کی تشکیل سے قبل تک عدالتوں تک کا کوئی وجود نہیں تھا۔
ججوں کے بغیر عدالت
لیکن فاٹا ٹربیونل کے ارکان کی مدتِ ملازمت جب 26جنوری 2015ء کو ختم ہوئی تو یہ اس وقت سے کوئی کام نہیں کر رہا۔
اس سہ رُکنی ٹربیونل کے ایک چیئرمین اور دو ارکان ہیں۔ ترمیم شدہ قوانین کے مطابق ٹربیونل کا سربراہ گریڈ 21کا کوئی بھی ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوسکتا ہے‘ دوسرا رُکن گریڈ 20کا ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور تیسرا رُکن کوئی بھی ایسا قانون دان ہوسکتا ہے جو ہائی کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو۔
قانون کے تحت ان تمام ارکان کونہ صرف قبائلی سماج و رسومات کے بارے میں علم ہو بلکہ وہ پاکستان کے موجودہ قوانین کے متعلق آگاہی بھی رکھتے ہوں۔ایف سی آر میں تجویز کی گئی ترامیم کے تحت یہ ارکان تین برس تک ٹربیونل میں خدمات انجام دیں گے۔
لیکن فاٹا لائرز فورم کی جانب سے ٹربیونل پر زبردست تنقید کی گئی‘ یہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وکلا کی ایک تنظیم ہے جو خطے کے عوام کے یکساں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔اگر نئے ارکان کی تعیناتی کسی بھی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو مذکورہ تنظیم کے لیے یہ ناقابلِ قبول ہوگا۔
فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر قانون دان ولی خان آفریدی نے کہا کہ طاقت ور افسرِ شاہی موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی خواہاں نہیں ہے ’’ کیوں کہ اس صورت میں ان کے لیے کرپشن کرنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وہ اس اصلاحاتی کمیٹی میں شامل تھے جس نے ایف سی آر میں ترمیم کے لیے کوشش کی لیکن ’’کچھ قوتیں فاٹا میں اصلاحات کی خواہاں نہیں ہیں۔‘‘
ولی خان آفریدی کا مزید کہنا تھا:’’ فاٹا افسرِ شاہی کے لیے جنت کی مانند ہے اور وہ اس جنت کو کھونا نہیں چاہتی۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو خطے کے انتظامی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کی راہ میں مزاحم ہورہی ہیں۔ اور ان کے ساتھ ہی وہ عناصر بھی سرگرم ہیں جو فاٹا کو منتظم کرنے والے قوانین میں ترامیم کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘‘
ایک متعصب ٹربیونل
فاٹا کی سول سوسائٹی کے ارکان یہ الزام عاید کرتے ہیں کہ ٹربیونل کے ارکان ان ’’قوتوں‘‘ کے مقابل آزاد نہیں ہیں جو خطے اور اس کے باسیوں کی ’’کم تر حیثیت‘‘کے باعث طاقت اور اختیارات کے حامل ہیں اور وہ ان اختیارات سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔
ولی خان آفریدی کا کہنا تھا:’’ ان ترامیم کے بعد بھی ٹربیونل کے ارکان کی تعیناتی سیاسی وابستگیوں ‘ افسرِ شاہی سے تعلقات اور ان کی پسند و ناپسند پر عمل میں آئی ہے۔‘‘
ٹربیونل میں موجود ذرائع نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اولین تین برسوں کے دوران ٹربیونل نے 14سو مقدمات کی سماعت کی۔
ماہرِ قانون اور فاٹا ٹربیونل کے سابق رُکن پیر فدا کہتے ہیں کہ یہ مقدمات درحقیقت عوام کی جانب سے پولیٹیکل ایجنٹوں اور کمشنروں کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی اپیلیں تھیں۔ مقدمات کی نوعیت پر بات کرتے ہوئے پیر فدا نے کہا کہ ٹربیونل نے سول اور فوجداری دونوں طرح کے مقدمات کی سماعت کی ۔
ان کا مزید کہنا تھا:’’ ہم نے قتل، اغوا، منشیات فروشی، اراضی کے تنازعات اور جبری گمشدگیوں تک کے مقدمات پر فیصلے سنائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان تمام مقدمات کے فیصلے میرٹ پر سنائے گئے۔ پیرفدا کا مزید کہنا تھا:’’ اس تمام تر عرصہ کے دوران انصاف کی تیز تر فراہمی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا گیا۔‘‘
فاٹا لائرز فورم کے صدر اورماہرِ قانون اعجاز مہمند اس دعویٰ سے متفق نہیں ہیں‘ انہوں نے کہا:’’ٹربیونل میں صرف ایک وکیل رُکن شامل ہے جب کہ دو بیوروکریٹس اس کے ارکان ہیں جس کے باعث وہ نہ صرف طاقت وراور اثر و رسوخ کے حامل ہیں بلکہ افسرِ شاہی میں موجود اپنے خیرخواہوں کے فیصلوں کو رَد نہیں کرسکتے۔‘‘
انہوں نے اس طریقۂ کارکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت ارکان کا انتخاب عمل میں آیا اور کہا کہ ان میں سے کسی ایک کا تعلق بھی فاٹا سے نہیں تھا۔
اعجاز مہمند نے مزید کہا:’’ان وجوہات کے باعث ان کا فاٹا کی روایات سے واقفیت رکھنا ممکن نظر نہیں آتا جن کی بنیاد قبائلی علاقوں کے جرگہ سسٹم پر ہے۔‘‘
لیکن ٹربیونل کے سابق رُکن پیرفدا نے کہاکہ وہ ایک پشتون ہیں جب کہ فاٹا کے قبائلی بھی اسی نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ فاٹا سمیت پاکستان بھر میں کہیں پر بھی بسنے والے پشتونوں کی روایات سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا:’’میں آپ کو ایسے کئی مقدمات کی مثالیں دے سکتا ہوں جن میں پشتون روایات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے سنائے گئے۔‘‘
کیا یہ ایک عوامی ٹربیونل ہے؟
لیکن فاٹا کے باسیوں کی اکثریت ایک ایسے معاشرے میں پلی بڑھی ہے جہاں ایف سی آر کی وجہ سے ان کی بنیادی حقوق تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی‘تعلیم کی کمی اوراپنے حقوق کے متعلق آگاہی نہ ہونے کے سبب یہ حالات مزید سنگین رُخ اختیار کرگئے‘ ایپلیٹ کورٹ کے حوالے سے معلوماتی مہم نہ چلائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ فاٹا کے عوام یہ تک نہیں جانتے کہ یہ کوئی وجود رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
انور داوڑ پشاور میں ایک نجی ہاسٹل چلا رہے ہیں‘ ان سے جب اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا:’’ میَں اس (ٹربیونل)کے بارے میں پہلی بار سن رہا ہوں۔‘‘
تاہم جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے وکیل کریم محسود نے ٹربیونل کی تشکیل کو ایک مثبت اقدام قرار دیا اور کہا:’’ اگر لوگ اس بارے میں آگاہ نہیں ہیں تو اس میں ٹربیونل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ لوگ رفتہ رفتہ اس کی موجودگی کے بارے میںآگاہ ہوجائیں گے۔ لیکن انہوں نے اس کے ارکان کے چناؤ کے طریقۂ کار پر تنقید کی اور کہا:’’ٹربیونل بہت زیادہ سیاست زدہ ہوگیا ہے۔اور اس کے ارکان کے لیے دباؤ قبول کرنا آسان ہے کیوں کہ ان کا تعلق عدلیہ سے نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے ایف سی آر میں ترامیم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہاکہ آئین کی شق 11bملزم کو ضمانت کا حق فراہم کرتی ہے جو قانون سے غائب ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا:’’ ٹربیونل میں اس وقت تک11bکے تحت کوئی ایک درخواست بھی زیرِسماعت نہیں آئی۔‘‘
کورٹ کی جانب سے مجرم ٹھہرائے جانے اور توہینِ عدالت کے امکانات پر بات کرتے ہوئے پیرفدا نے کہا کہ ٹربیونل اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروا سکتا ہے لیکن اعجاز مہمند اس نقطۂ نظر سے متفق نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ انتظامی طور پر ٹربیونل گورنر خیبرپختونخوا کے ماتحت ہے جن کے لیے سیاسی وابستگی پر پورا اترنا انصاف کی فراہمی سے زیادہ اہم ہے۔‘‘
اعجاز مہمند نے کہا کہ تاہم ٹربیونل کی جانب سے عوام کے لیے یہ ضرور ایک مثبت خبر ہے کہ اس کے 60فی صد فیصلے میرٹ پر تھے جب کہ باقی 40 فی صد پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔
انصاف میں تعطل
ٹربیونل مزید تین برس کے لیے ارکان کی تعیناتی کا منتظر ہے‘ اور یہ موضوع اس وقت فاٹا کی سول سوسائٹی میں گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ولی خان آفریدی، اعجاز مہمند اور کریم محسود کا یہ خیال ہے کہ ٹربیونل کے ارکان کا انتخاب عدلیہ سے کیا جائے کیوں کہ سرکاری ملازمین کا قانون اور عدالتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here