مسیحی کمیونٹی کا اضلاع کی سطح پر شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے دفاتر قائم کرنے کا مطالبہ

0
4430

لاہور (شہریار ورائچ سے)صوبہ پنجاب میں بسنے والے 30لاکھ سے زائد مسیحیوں کی شادی کی رجسٹریشن کے لیے صرف ایک دفتر کام کر رہا ہے جو کہ لاہور میں قائم ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سابق آبزرور برائے اقلیتی اَمور کاشف نواب نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ اگرچہ دور دراز کے علاقوں سے شادی کی رجسٹریشن کے لیے لاہور آنا ایک دشوار طلب کام ہے لیکن حالات اس وقت مزید سنگین رُخ اختیار کرجاتے ہیں جب ان کو دفتر کے حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ شادی کاباضابطہ سرٹفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے دوبارہ تشریف لائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’ مسیحی کمیونٹی کے غریب ارکان کے لیے یہ انتہائی مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ان کو لاہور میں مزید چند روز گزارنا پڑتے ہیں اور ان کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں ہوتی۔‘‘
مسیحی کمیونٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت صوبے میں ضلع کی سطح پر بشپ کی زیرِنگرانی شادی کی رجسٹریشن کے لیے غیرسرکاری دفاتر قائم کرلیے ہیں۔ پادری مسیحی جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے بعد ان کی شادی کے سرٹفیکیٹ بشپ کے دفتر ارسال کردیتے ہیں جو ان کو حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے صوبائی دفتر بھیج دیتے ہیں۔
مسیحی آبادی ان غیر سرکاری مقامی دفاتر کے حوالے سے غیریقینی صورتِ حال کا شکار ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شادی کی کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن کے لیے دفاتر نہ ہونے کے باعث، جن کے واضح قواعد و ضوابط ہوں،کمیونٹی کے ارکان میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے لیے پادری کی جانب سے وصول کیا جانے والا معاوضہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے جسے زیرِبحث لائے جانے کی ضرورت ہے۔ 
اکرم ویرو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میرے بیٹے کی شادی 23جنوری کو لالہ موسیٰ، گجرات میں ہوئی۔ ہم نے دو پادریوں اور ان کے معاونین کو 22ہزار روپے ادا کیے۔ ماڈریٹر(بشپ کے دفتر کے سربراہ) کو 12ہزار ‘ مقامی پادری کو آٹھ ہزار جب کہ دو ہزار روپے ان کے معاونین کو ادا کیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے حقیقتاً انتہائی پریشان کن صورتِ حال تھی لیکن کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا:’’ اگر حکومت اس معاملے کو فوری طور پر حل کرنے میں دلچسپی ظاہرکرتی ہے تو یہ ہمارے لیے سود مند ہوگا۔‘‘
پادری حفیظ گِل نے نیوز لیز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پادریوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے معاوضے کا انحصار دلہا اور دلہن کے خاندانوں پر ہے لیکن ان کوشادی کی رسومات انجام دینے کے عوض ایک خاص رقم بہرحال وصول کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ دلہن کے خاندان کے بجائے شادی کی کچھ خدمات ہم انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شادی کا ریکارڈ جمع کروانے کے لیے ڈویژنل بشپ آفس جاتے ہیں اور شادی کا تمام تر ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔‘‘
1947ء میں تقسیم کے بعد مسیحی شادیوں کے ایکٹ 1872ء کو ہی ملک میں نافذ رہنے دیا گیا۔ اس ایکٹ کے تحت اگربشپ کے دفتر میں بھی شادی کی رجسٹریشن کروائی جاتی تو اس کی فیس صرف 35روپے تھی۔ پادری آبل نے وضاحت کی:’’ یہ فیس شادی کے سرٹفیکیٹ کے لیے وصول کی جاتی ہے جو کہ لاہور میں سرکاری دفتر میں جمع کروانا ہوتا ہے۔ پادریوں کے معاوضے کا انحصار اس اَمر پر ہے کہ وہ خاندانوں کو تقریب کے لیے کیا خدمات فراہم کرتے ہیں۔‘‘
مسیحی آبادی کے صرف مذکورہ بالا تحفظات ہی نہیں ہیں بلکہ وہ لاہور میں قائم واحد رجسٹریشن دفتر کے عملے کے کام کرنے کے طریقۂ کار کے حوالے سے بھی شکایت کناں نظر آتی ہے۔ وہ یہ سنجیدہ نوعیت کی شکایت کرتے ہیں کہ سرکاری دفتر میں کام کرنے والا عملہ ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا۔ فرانسس جوزف شہزاد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ ہمارے لوگ جب شادی کے کمپیوٹرائزڈ سرٹفیکیٹ کے حصول کے لیے درخواست دیتے ہیں تو ان کو بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث ان کی بہت سی شکایات ہیں۔ اکثر و بیش تر قانونی راستے اختیار کرنے کی بجائے رشوت سے کام چلانا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بہت سی حکومتوں کی جانب سے متعدد زبانی وعدے کیے جاتے رہے ہیں لیکن ہمارے مسائل کے حل کے لیے ان میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔
پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی اَمور خلیل طاہر سندھو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ میَں اس سارے عمل کا حصہ رہا ہوں اور اس حوالے سے موجود طریقۂ کار میں وہ تمام آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہوں جو میرے لیے ممکن ہوسکتی ہیں۔ حکومت صوبہ میں بسنے والی دوسری بڑی کمیونٹی کی تکالیف کا ادراک رکھتی ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث دفاتر کا دائرہ کار ضلع اور ڈویژن کی سطح تک بڑھانے میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’ قواعد و ضوابط کی تشکیل اور انتظامی دفاتر نہ ہونے کے باعث یہ ناممکن ہے کہ شادیوں کی تقاریب کروانے والے پادریوں کے لیے کم از کم فیس کی کوئی حد مقرر کی جاسکے۔‘‘
مسیحیوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے کارکن شیریں اسلم نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے قدرے طنزیہ لہجہ اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ 1947ء کے بعد سے بہت سے مسیحی رہنما ء قومی و صوبائی اسمبلیوں کے رُکن منتخب ہوچکے ہیں لیکن کمیونٹی کے ارکان ان کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:’’ہم ان لوگوں کو معاف نہیں کرسکتے جنہیں موقع ملا لیکن انہوں نے اپنی کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری کمیونٹی کے رہنماء بھی ہماری بنیادی ضروریات پورا کرنے کے ضمن میں غیر سنجیدہ ہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here