قبائلی صحافی: فاٹا کے بے نام سپاہی خطرات اور کسی قسم کی مالی معاونت کے بغیر جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں

0
4320

بنوں (احسان داوڑ سے) ریڈیو فری یورپ (آر ایف ای) کے تحت پراگ سے نشریات جاری رکھے ہوئے پشتو کے نیوز و کرنٹ افیئرز مشعال ریڈیو چینل کے رپورٹر عمر دراز خان کو بنوں چھاؤنی کے علاقہ میں داخل ہونے سے روکا گیا اور کہا گیا کہ وہ کچھ دیرانتظار کریں جس پر ان کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ 
وہ پہلے شخص نہیں تھے جنہیں چیک پوائنٹ پر رکنے اور انتظار کرنے کے لیے کہا گیاتھا۔ صحافیوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد ،جو بنوں میں روزگار کے مختلف ذرائع سے منسلک ہے، کو اکثر اوقات چیک پوائنٹس پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے روکا جاتا ہے۔ یہ شہر پڑوسی قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے بعد بہ ظاہر ایک گیریژن میں تبدیل ہوچکا ہے جب کہ سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 
چھاؤنی کے علاقے میں تمام سرکاری دفاتر قائم ہیں جن میں فوجی ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ عمر دراز دو ہفتے قبل کینٹ کے علاقے میں ایک افسر کا انٹرویو کرنے گئے تھے جب سکیورٹی اہل کاروں نے ان کو دروازے پر روک لیا اور بعدازاں سادہ لباس میں ملبوس اہل کاروں کے حوالے کر دیا۔
ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور چھاؤنی کے ہی کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ 
عمر دراز نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں نے ان سے یہ استفسار کیا کہ میرا جرم کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔ اس وقت حالات یقیناًسنگین رُخ اختیار کرگئے جب انہوں نے مجھ سے تفتیش شروع کی۔‘‘
انہوں نے وہ رات ایک خالی کمرے میں بسر کی جس کے بعد عمر دراز کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ آگاہ نہیں ہیں کہ وہ کون لوگ تھے اور ان کو کیوں کر زیرِ حراست رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا:’’ انہوں نے مجھے حراست میں رکھا اور بعدازاں جانے دیا لیکن میں اس حقیقت سے ہنوز آگاہ نہیں ہوں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔‘‘
عمر دراز شمالی وزیرستان کے ان بیش تر صحافیوں میں سے ایک ہیں جہاں پاک فوج نے گزشتہ برس جون میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ پاک افغان سرحد سے متصل متاثرہ ترین علاقوں سے نقل مکانی کرنے والی آبادی کی اکثریت بنوں میں رہتی اور کام کرتی ہے۔
زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب شمالی وزیرستان کے ایک اور صحافی نور بہرام کو اسی گیٹ سے حراست میں لیا گیا تھا اور بعدازاں چھوڑ دیا گیا تھا۔ 
نور بہرام اُس وقت ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر تھے، انہوں نے کہا کہ ان کو بھی بنوں چھاؤنی کے مرکزی دروازے پر روکا گیا اور چھاؤنی میں مقید رکھاگیا۔ حکام کی جانب سے ان کو اس وقت چھوڑا گیا جب مقامی صحافیوں کی جانب سے اس ضمن میں مداخلت کی گئی۔ 
نور بہرام کہتے ہیں:’’ جب صحافیوں نے حکام سے مذاکرات کیے تو اس وقت ان کو چھوڑا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سکیورٹی چیک پوائنٹ پر نصب ٹریکنگ مشین ان کے شناختی کارڈ کی تصدیق نہیں کرسکی تھی۔ 
قبائلی علاقے، جو کہ فاٹا یا وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کے نام سے عمومی طور پر معروف ہیں، کے صحافی اس وقت سے مستقل طورپر خطرات کی زد پر کام کررہے ہیں جب انہوں نے عسکریت پسندی سے متاثرہ سرحدی علاقے میں پہلی بار رپورٹنگ شروع کی تھی جو کہ ملک کے سب سے زیادہ الگ تھلگ علاقوں میں سے ایک ہے۔
ہوسکتا ہے کہ طالبان عسکریت پسند فاٹا اور اس کے عوام کے لیے ایک بڑی پریشانی کا باعث ہوں کیوں کہ 2007ء سے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں 40لاکھ قبائلیوں نے نقل مکانی کی ہے لیکن پریشانی کی صرف یہ ایک وجہ ہی نہیں ہے۔ 
فاٹا ایک انتظامی ڈھانچہ رکھتا ہے جو ایک صدی قدیم ہے جب برطانوی راج کے تحت قبائل ایک مربوط قانونی نظام کے تحت حکمرانی کیا کرتے تھے جو متحدہ انڈیا کے متوازی تھا۔ یہ قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز یا ایف سی آر کہلاتا ہے جو برطانوی حکام فاٹا میں مشکلات پیدا کرنے والے اور خودمختار قبائل میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 
قبائلی یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی غیر ملکی طاقت ان پر حکومت کرے چناں چہ برطانوی راج کے عہد میں ایف سی آر تشکیل دیئے گئے جن کے تحت قبیلے کے کسی بھی شخص کے جرم کی سزا بچوں و خواتین سمیت اس کے پورے قبیلے کو دی جاسکتی تھی۔ ایف سی آر کے تحت کسی قسم کے میڈیا ، ریڈیو، ٹی وی یا اخبار، کسی بھی نوعیت کی سیاست یا سیاسی جلسوں وغیرہ کی اجازت نہیں تھی جس کے باعث بنیادی طور پر قبائلیوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح کا سلوک کیا جاتا رہا۔ 
عمر دراز کہتے ہیں:’’9/11کے سانحہ سے قبل ہم ایف سی آر کی وجہ سے خاموش کروا دیئے گئے تھے اور اب ہم طالبان گروہوں، حکام، اپنے ہی سماج اور حتیٰ کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے خطرات کی زد پر ہیں۔ آپ کو شورش زدہ علاقوں جیسا کہ فاٹا میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ہر قدم اختیاط سے اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تقریباً 270صحافی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سانحہ 9/11کے بعد سے تقریباً12صحافی پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
27نومبر 2013ء کو فاٹا سے تعلق رکھنے والے صحافی ملک ممتاز کو شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میرانشا میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔وہ اس روز پریس کلب سے اپنا کام مکمل کرکے گھر واپس آرہے تھے جب ان کو گولی ماری گئی۔
ملک ممتاز کے ایک عزیز حبیب اللہ کہتے ہیں:’’ ہم آگاہ نہیں ہیں کہ ان کو کس نے قتل کیا لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ صحافت سے منسلک تھے۔‘‘
حبیب اللہ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان اس قتل کے بعداس حق میں نہیں تھا کہ وہ صحافت کو بطور پیشہ اپنائیں۔ 
انہوں نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں نے صحافت کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ میں اپنے مرحوم کزن کا مشن پورا کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کمیونٹی نے اصرار کیا کہ میں صحافت سے منسلک ہوں تاکہ خطے کے پسے ہوئے عوام کی آواز بن سکوں۔ 
ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے بانی سیلاب محسودکہتے ہیں کہ وہ ان عوامل سے آگاہ ہیں جن سے قبائلی عوام کو خطرات کا سامنا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں طاقت کے تین متوازی دھارے ہیں جن میں پاکستانی ریاست، طالبان اور صحافی شامل ہیں۔
سیلاب محسود نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ صحافی عسکریت پسندوں اور ریاست کی جانب سے درپیش خطرات کے مقابل بے بس ہیں۔ ان کی زندگیاں نہ صرف خطرات کی زد پر ہیں بلکہ ان کو معاشی مشکلات، نقل مکانی اور عدم تحفظ کا سامنا بھی ہے۔ ان حالات میں جب ریاست اور عسکریت پسند معلومات کی رسائی پر بندش لگا رہے ہوں تو یہ کھوج لگانا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ کون درست ہے اور کون غلط۔‘‘
انہوں نے کہا کہ صحافی محفوظ ہوسکتے ہیں‘ اگر وہ یہ یقینی بنائیں کہ ان کی رپورٹیں متوازن ہیں اور فریقین یعنی طالبان و سکیورٹی فورسز کا مؤقف بھی اپنی خبر میں شامل کریں۔ 
سیلاب محسود نے وضاحت کی:’’ یہ ایک صحافی کے لیے مشکل ہے کہ وہ اپنی خبر میں تمام تر حقائق بیان کرے لیکن آپ کو درمیانی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پیشِ نظر رہے کہ غلط رپورٹنگ کی وجہ سے نہ صرف آپ کے لیے بلکہ صحافتی برادری کے لیے بھی سنگین نوعیت کے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔‘‘
ایک ایسا مقام جہاں پر کوئی میڈیا نہیں اور نہ ہی صحافت کی تعلیم فراہم کرنے والا کوئی ادارہ ہے، صحافیوں کی اکثریت نے صحافت کی تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ ہی وہ تربیت یافتہ ہیں۔ وہ ذمہ درانہ صحافت کی اقدار سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔عمروزیر کہتے ہیں کہ اگر یہ زیادہ سنگین مسئلہ نہیں ہے تو اس صورت میں بھی صحافی شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کرنے کے حوالے سے خطرات کے بارے میں زیادہ ادراک نہیں رکھتے۔
عمر وزیر کہتے ہیں: ’’ رپورٹرز کو ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں و صحافتی اقدار کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور صحافت کو بطور پیشہ اپنانے میں معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔‘‘
2001ء کے بعد سے پاکستان میں تقریباً ایک سو صحافی مارے جاچکے ہیں جن میں سے 12فاٹا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اخبار دی وال سٹریٹ کے صحافی ڈینئل پرل اور کراچی سے تعلق رکھنے والے جیو سے منسلک صحافی ولی بابر کے علاوہ کسی دوسرے صحافی کے قتل کی تفتیش نہیں ہوسکی۔ ڈینئل پرل کے قاتلوں کو سزا دی جاچکی ہے لیکن ولی بابر کے قاتل ہنوز آزاد ہیں۔
حبیب اللہ نے کہا:’’ ہم ملک ممتاز کے قاتلوں کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور ان کی موت کے پسِ پردہ حقیقی وجوہات سے آگاہ ہیں لیکن اب تک ہونے والی تفتیش سے تاحال کچھ پتہ نہیں لگ سکا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک ممتا زکے قتل کے بعد حکام نے مقدمہ کی تفتیش کاوعدہ کیا تھا لیکن اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ 
حبیب اللہ نے کہا:’’ ہدایت اللہ کے قتل کے بعد بھی اسی قسم کے وعدے کیے گئے تھے جن کے مقدمے کا گزشتہ دس برسوں سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔‘‘ ہدایت اللہ بھی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتے تھے جنہیں 2006ء میں اس وقت قتل کردیاگیا جب انہوں نے یہ خبر دی کہ ڈرون سے ایک عرب عسکریت پسند کے گھر پر راکٹ داغا گیا ہے۔ اس سے قبل قبائلی علاقوں میں ہونے والی امریکی ڈرون کارروائیوں کے بارے میں زیادہ معلومات میڈیا تک نہیں آرہی تھیں۔
موجودہ حالات میں قبائلی صحافی اپنے اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں صحافت کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔ تاہم عمر دراز کہتے ہیں کہ درپیش مسائل کے باعث قبائلی صحافیوں کی اہلیت بہتر ہوگی ‘ اگرچہ یہ ایک مشکل راستہ ہے لیکن ان کو تجربات سے سیکھنے میں مدد ملے گی۔ 
انہوں نے کہا:’’ یقینا! میَں حراست میں رہنے کے بعد بہت زیادہ محتاط ہوگیا ہوں اور تمام فریقوں کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیوں کہ میں دوبارہ اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
قبائلی صحافیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات سے قطأ نظر بہت سوں کو ان کے اداروں کی جانب سے کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔ میڈیا کے ادارے فیلڈ میں اپنے صحافیوں کی کوئی مدد نہیں کرتے اور ان صحافیوں کے خاندان بھی مدد سے محروم رہتے ہیں جن کے پیارے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوجاتے ہیں۔
حبیب اللہ کہتے ہیں:’’ جب رپورٹرز کو قتل کیا جاتا ہے تو میڈیا کے ادارے ان کی مناسب مدد نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی معاوضہ اداکرتے ہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here