صرف ’’شہید‘‘ کا لقب پانے کے لیے جان قربان کرنا کافی نہیں

0
4410

کراچی (تہمینہ قریشی سے) شہید پولیس اہل کاروں کے خاندان کے ارکان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں شہید ہونے والے پولیس اہل کاروں کو اپنے مالی واجبات کی وصولی کے لیے پانچ سے آٹھ ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ تمام شہید پولیس اہل کاروں کے مالی واجبات کی ادائیگی کے لیے کوئی افسر تعینات نہیں کیا گیا جس کے باعث ان کو پینشن کے اجرا کے لیے افسرِ شاہی کی مختلف رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔
سندھ میں ورثا کی مالی معاونت کے حوالے سے منظور ہونے والے شہید کی پذیرائی اور مالی معاونت کے ایکٹ 2014ء (Sindh Shaheed Recognition and Compenstation Act, 2014)کے مطابق شہید ( فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کی بازی ہار دینا) پولیس اہل کار کا خاندان مالی معاونت حاصل کرنے کا مستحق ہے جو حکومت اس کی مستقل ماہانہ تنخواہ کے علاوہ 20لاکھ روپے تجویز کرچکی ہے۔ 
کراچی کے ایک سینئر پولیس افسر عبدالخلیق شیخ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ گزشتہ چند برسوں کے دوران پولیس اہل کار جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے باعث ان کا ہدف رہے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسروں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پٹرولنگ پولیس ( پولیس افسروں یا اہل کاروں کا دستہ جن کی ذمہ داری مخصوص علاقوں کی نگرانی ہے)کے قافلوں پر بھی متعدد حملے ہوچکے ہیں۔‘‘
کراچی پولیس سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس شہر میں 171پولیس اہل کار قتل ہوئے جب کہ رواں برس اب تک 140پولیس اہل کار فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے جاچکے ہیں۔
سندھ اسمبلی نے جولائی 2014ء میں شہید کی پذیرائی اور مالی معاونت کا ایکٹ منظور کیا جس کے تحت فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہل کاروں کی خدمات کے اعتراف کی ایک علامت کے طور پر ان کے خاندانوں کو مالی فوائد کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنانا ہے۔ 
مذکورہ قانون یہ شرط عاید کرتا ہے کہ شہید ہونے والے ہر پولیس اہل کار کو اس کی موت کے بعد نہ صرف ایک درجہ ترقی دی جائے گی بلکہ اس کے خاندان کو اس عہدے کو حاصل تمام سہولیات، فوائد اورمراعات فراہم کی جائیں گی۔ مزیدبرآں ، اس کے دو بچوں کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس ایکٹ میں سندھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے شہید اہل کاروں کے خاندانوں کے لیے ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بنانے کی شرط عاید کی گئی ہے۔
تاہم ہلاک ہونے ولے پولیس اہل کاروں کے خاندان اس سارے عمل میں خامیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ نیوز لینز کی جانب سے وہ تمام خاندان جن سے بات ہوئی،انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کو مالی واجبات حاصل کرنے کے لیے کم از کم آٹھ ماہ تک انتظار کرنا پڑااور وہ گھر کے واحد کفیل کی بنیادی تنخواہ وصول کرنے سے بھی قاصر رہے۔
حکام کہتے ہیں کہ کسی بھی دعوے کی توثیق بہرحال ایک طویل عمل ہے تاکہ دھوکے سے بچا جاسکے۔ 
پولیس افسر عبدالخلیق شیخ نے مالی واجبات کے حصول کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ورثا کے لیے سب سے پہلے متعلقہ پولیس سٹیشن سے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کرنا لازمی ہے جس کی حدود میں مذکورہ پولیس اہل کار ہلاک ہوا تھا۔ 
اس کے علاوہ ان کو مقامی ضلعی یا یونین کونسل کے دفتر میں درخواست دینے کے علاوہ وفات کا صداقت نامہ حاصل کرنا ہوتا ہے جس کے بعد وہ ضلع کے کمشنر آفس سے حقیقی وارث ہونے کاسرٹفیکیٹ حاصل کریں گے۔ 
ایک بارجب یہ دستاویزات مکمل ہوجاتی ہیں تو انہیں اس پولیس سٹیشن میں جمع کروانا ہوتا ہے جہاں پر ایف آئی آر رجسٹرڈ ہوئی تھی‘بعدازاں یہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو توثیق اور دستخط کے لیے بھیجنے سے قبل مختلف پولیس حکام کو ارسال کی جاتی ہیں۔ 
شیخ عبدالخلیق نے کہا کہ دستاویزات کی توثیق اور ان پر دستخط ہونے کے بعد یہ اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل ویلفیئر کو ارسال کی جاتی ہیں جو رقوم جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ شیخ عبدالخلیق نے انکشاف کیا کہ ایک فائل کو اپنے مقررہ مقام تک پہنچنے میں اوسطاًکم از کم پانچ ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔
خاندانی تعلقات اس عمل کو تیز بنا دیتے ہیں‘ جس کا تجربہ ایک شہید اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے خاندان کو ہوا۔ اے ایس آئی آصف اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اگست 2013ء میں قبضہ مافیا سے مقابلہ کرتے ہوئے گولیوں کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔
مقتول کے برادرِ نسبتی رانا خاور اپنی بیوہ بہن کی مدد کے لیے آگے بڑھے جو ان کے لیے کچھ نہ کچھ تگ و دو کرنے کے قابل تھے۔
آصف کی بیوہ نے کہا کہ اگر خاور نہ ہوتے تو ممکن ہے کہ خاندان آصف کی موت کے آٹھ ماہ بعدتک فاقوں زدہ زندگی گزارتا۔
انہوں نے کہا کہ خاور کے چوں کہ ایک دوست پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیں جس کے باعث خاندان کو آٹھ ماہ کی تنخواہ اور امدادی رقم چند ماہ بعد ہی مل گئی۔
اس دوران اے ایس آئی آصف کی صاحب زادی نے پولیس میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تاکہ وہ اپنے خاندان کی مالی معاونت کرنے کے قابل ہوسکے۔ اگرچہ اس کے کاغذات پر کوئی اعتراض نہیں لگا اور فائلوں میں اسے شہید کی بیٹی تسلیم کیا گیا لیکن اب تک کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ 
آصف کی بیٹی نے نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ اس بات کو دس ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اسے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کب تنخواہ ملے گی۔‘‘
کراچی پولیس کے چیف غلام قادر تھیبو نے نیوزلینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سارے عمل میں اس قدر وقت لگنے کی وجہ یہ ہے تاکہ پولیس حکام اس اَمر کو یقینی بناپائیں کہ آیا پولیس اہل کار فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوا یا ذاتی نوعیت کی وجوہات کے باعث اس کی موت ہوئی۔
انہوں نے کہا:’’ ہم نے یہ یقین دہانی کرنا ہوتی ہے کہ کیا پولیس اہل کار شہید کے زمرے میںآتا ہے یا نہیں۔‘‘
تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس سارے عمل میں کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا ہے اور وہ سندھ پولیس کے سربراہ غلام حیدر جمالی کے روبرواس معاملے کو اٹھانے کے لیے منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔ 
سندھ پولیس کے سربراہ غلام حیدر جمالی نے بھی یہ وضاحت کی کہ یہ تعین کرنے کے لیے کہ ’’وراثت کی تصدیق‘‘حقیقی ہے یا نہیں، اچھا خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا:’’ یہ اختیاط کرنے کی ضرورت ہے کہ رقم غلط ہاتھوں میں نہ جائے، چناں چہ ہم اس حوالے سے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جس قدر ہوسکتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا:’’ اب تک چند ایک کیسوں کے علاوہ تمام خاندان جنہوں نے مالی فوائد کے حصول کے لیے درخواست دی تھی‘ ان پر عمل ہوچکا ہے‘حتیٰ کہ چند کیس کچھ ہی ہفتوں میں حل ہوگئے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here