خیبرپختونخوا : معلومات تک رسائی کے قانون میں خامیاں کھل کر سامنے آگئیں

0
3486

پشاور (سلمان خان سے)معلومات تک رسائی کا حق (آر ٹی آئی) اگرچہ سرکاری امور کی انجام دہی کے قواعد و ضوابط کا جزو بن چکا ہے جس کے باعث اب یہ حکام کی سرکاری ذمہ داریوں میں شامل ہوگیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے اس تاریخ ساز معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2013ء کے تحت عوام کی معلومات تک رسائی یقینی بنائیں لیکن اس قانون کی تشکیل کے عمل میں شامل رہنے والے ماہرین کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ معلومات تک رسائی کا یہ ایکٹ ’’روایتی کاہلی اور افسرِ شاہی کی جانب سے معلومات تک رسائی نہ دینے کے لیے منفی حربوں کے استعمال کے باعث‘‘ اپنی افادیت کھودے گا۔
سرکاری اداروں میں احتساب اور مثبت طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹیبلٹی (سی جی پی اے) کے مطابق آر ٹی آئی کے ضابطوں کی تشکیل ایکٹ منظور ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر ہوجانی چاہئے تھی تاکہ حکومتی محکمے اور حکام اپنی قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ ہوتے۔
سی جی پی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد انور نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا :’’ قواعد و ضوابط قانون کو منظم کرنے اور اسے قابلِ عمل بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؛ قواعد و ضوابط کے نہ ہونے کے باعث اس ایکٹ کوسرکاری پالیسی اور دستورِ عمل میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا جس کے باعث عوام کے لیے اس کی کوئی خاص افادیت باقی نہیں رہتی۔‘‘
سی جی پی اے ‘ کولیشن فار دی رائٹ ٹو انفارمیشن (سی آر ٹی آئی) کا رُکن ہے۔ سی آر ٹی آئی سول سوسائٹی کی 30تنظیموں کا ایک نیٹ ورک ہے جو ملک میں شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے فروغ اور اس کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔
محمد انور نے کہا کہ خیبرپختونخوا آر ٹی آئی کمیشن کو سب سے پہلے تو عوامی فیڈبیک کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ضابطوں کا ایک مسودہ تیار کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا:’’ خیبرپختونخوا میں کمیشن نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جب کہ پنجاب میں آرٹی آئی کمیشن پہلے ہی ایک دستورِعمل تشکیل دے چکی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پنجاب نے یہ قانون خیبرپختونخوا کے بعد منظور کیا تھا۔‘‘
محمد انور نے کہاکہ مذکورہ بالا وجوہات کے باعث آر ٹی آئی کی اہم ترین شق، جن میں سرکاری محکموں اور پبلک انفارمیشن افسروں کی جانب سے معلومات فوری طور پر فراہم کرنا شامل ہے، کی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی یہ ایسا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آر ٹی آئی ایکٹ 2013ء کے تحت انفارمیشن افسروں کو میڈیا اور عوام کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے خیبرپختونخوا کے کسی بھی سرکاری محکمے میں درخواست جمع کروانے کے بعد20روز کے اندر اندر جواب دینا ہے۔
اس قانون سے ممکن ہے کہ ان لوگوں کے لیے یہ امید روشن ہوئی ہو جو عوامی معلومات تک رسائی کو اپنا آئینی و قانونی حق خیال کرتے ہیں لیکن سول سوسائٹی کے نمائندے اس تشویش کا شکار ہیں کہ سرکاری اداروں کی جانب سے تاخیر اور افسرِ شاہی کے معلومات تک رسائی دینے کے حوالے سے رویے کے باعث اس قانون کی افادیت متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔
ایک مقامی ٹی وی چینل سے منسلک صحافی فیضان حسین نے تین ماہ قبل معلومات کے حصول کے لیے یونیورسٹی آف پشاور میں درخواست جمع کروائی لیکن حکام کی جانب سے اب تک ان کی درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ حکام نے اسے ایک معمول کی درخواست خیال کرتے ہوئے متعلقہ معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔
انہوں نے کہا:’’اہل کاروں کی بدنامِ زمانہ کاہلی کے باعث متعلقہ معلومات تک رسائی کے لیے محنت، وقت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔ ‘‘ فیضان حسین نے مزید کہا کہ جب ایک رپورٹر کو طویل عرصہ بعد جواب موصول ہوتا ہے تو یہ اَمر غیر معمولی نہیں ہے کہ حاصل ہونے والی معلومات ’’نامکمل اور غیر متعلقہ‘‘ ہوں۔
خیبرپختونخوا نے اس وقت دوسرے صوبوں پر برتری حاصل کی تھی جب پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے 2013ء میں معلومات تک رسائی کا قانون متعارف کروایا تھا۔ یہ قانون خیبرپختونخوا اسمبلی نے 31اکتوبر 2013ء کو منظور کیا جس کے تحت شہریوں کی سرکاری دستاویزات وریکارڈز تک رسائی ممکن بنائی گئی۔
نیوز لینز نے جب آرٹی آئی کمشنر پروفیسر کلیم اللہ سے راقم کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے دی گئی ایک درخواست کے حوالے سے معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا، جو چار ماہ قبل جمع کروائی گئی تھی، تو انہوں نے کہا کہ درخواست پرکارروائی جاری ہے اور اس حوالے سے جلد معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔
کلیم اللہ کا کہنا تھا:’’ خیبرپختونخوا پولیس میں ترقیوں کے حوالے سے معلومات کے حصول کے لیے آپ کی درخواست پر عمل کیا جارہا ہے اور امید ہے کہ جلد معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔‘‘
آر ٹی آئی ایکٹ کے مطابق درخواست گزار کو درخواست جمع کروائے جانے کے بعد 20روز کے اندر اندر معلومات فراہم کر دی جانی چاہئیں۔ حکام کی جانب سے اگر آرٹی آئی کے تحت جمع کروائی گئی درخواست کے تحت معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے تو اس ایکٹ کی شق 28.1کے تحت متعلقہ افسر کو50ہزار روپے جرمانہ، دو برس تک قید یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔
اگرچہ قانون واضح ہے لیکن مستثنیات کے حوالے سے گہرائی کے ساتھ وضاحت نہیں کی گئی جن میں قومی سکیورٹی، معیشت اور قانونی استحقاق سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ قانون کے مطابق ایسی معلومات جن سے کسی فرد کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا اس کے مفادات متاثر ہوتے ہوں تو ایسی معلومات کی فراہمی کے حوالے سے بھی استثنیٰ موجود ہے۔
آر ٹی آئی کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق جنوری 2015ء سے اب تک یہ 418شکایات وصول کرچکا ہے جو معلومات فراہم کرنے میں تاخیر سے متعلق ہیں جن میں سے 109اب تک حل طلب ہیں۔
ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن کو 2014ء میں سرکاری حکام کی جانب سے معلومات تک رسائی نہ دیئے جانے سے متعلق 290شکایات موصول ہوئیں جن میں سے آٹھ پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی کیوں کہ یہ شکایات جن محکموں کے خلاف درج کروائی گئی ہیں‘ ان کو اب تک مطلوبہ معلومات فراہم کرنی ہیں۔
آر ٹی آئی کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق ، ’’ کمیشن کسی بھی شکایت پر انکوائری کرتے ہوئے پبلک انفارمیشن افسر پر جرمانہ عائد کرسکتا ہے ۔ یہ رقم 250روپے روزانہ سے لے کر زیادہ سے زیادہ 25ہزار روپے ہوگی۔‘‘
آر ٹی آئی کمیشن خیبرپختونخوانے قانون کے نافذ ہونے کے بعد پہلی بار رواں برس جولائی میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے رجسٹرار پر یونیورسٹی میں بھرتیوں سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے اور اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا جواب دینے میں ناکامی پر جرمانہ عاید کیا۔
آر ٹی آئی کمیشن کے کمشنر پروفیسر کلیم اللہ نے دعویٰ کیا کہ کمیشن لوگوں کی معلومات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا:’’ آر ٹی آئی ایکٹ کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جارہی ہے کیوں کہ لوگوں کی اکثریت اب تک اس قانون کے متعلق آگاہ نہیں ہے۔‘‘
پروفیسر کلیم اللہ نے کہاکہ 1923ء میں متعارف کروایا جانے والا سرکاری سیکرٹ ایکٹ تقریباً ایک صدی تک نافذ رہا ہے جس کے باعث رازداری کے رجحان نے تقویت پائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ صوبے میں رازداری کی اس روایت کے تبدیل ہونے میں ایک عرصہ لگے گا۔ ہم انفارمیشن افسروں اور سرکاری حکام کے معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے رویے میں تبدیلی کے لیے اپنی بہترین کاوشوں کو بروئے کار لا رہے ہیں ۔‘‘
چیف انفارمیشن کمشنر صاحب زادہ محمد خالد نے نیوز لینزپاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رازداری کی روایت کو تبدیل کرنے کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا جو سرکاری محکموں میں طویل عرصہ سے رائج ہے۔
انہوں نے کہا:’’ ہم رفتہ رفتہ لیکن متوازن اقدامات کے ذریعے اس قانون کے مکمل نفاذ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ‘‘ صاحب زادہ محمد خالد نے کہا:’’ اس حوالے سے بہت سے مسائل درپیش ہیں جیسا کہ پبلک انفارمیشن افسروں کے مستقل بنیادوں پر تبادلوں اور عوام و سرکاری حکام وغیرہ میں اس قانون کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے باعث آرٹی آئی پر مؤثرانداز سے عمل نہیں ہو پارہا۔‘‘
صحافی عمر چیمہ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیاء میں وہ پہلا ملک تھا جس نے 2002ء میں فریڈم آف انفارمیشن (ایف او آئی) آرڈیننس کے ذریعے آر ٹی آئی کے حوالے سے قانون سازی متعارف کروائی تھی۔
انہوں نے مزید کہا:’’ تاہم یہ قانون اپنا مقصد پورا نہیں کرسکا جیسا کہ بہت سی معلومات ظاہر کرنے پر پابندی عاید کرکے اس کا دائرہ کار محدود کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی قانون کے نفاذ کا کمزور میکانزم بھی اس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ثابت ہوا۔‘‘عمر چیمہ نے مزید کہا:’’ بھارت آر ٹی آئی قوانین کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں دوسرے، بنگلہ دیش 15ویں، نیپال 20ویں جب کہ پاکستان ان 90ممالک میں 76 ویں پوزیشن پر ہے جہاں پر آرٹی آئی قوانین نافذ ہیں۔‘‘
خیبر پختونخوا اسمبلی نے رواں برس جون میں ایک ترمیم پاس کی جس کے باعث آرٹی آئی ایکٹ 2013ء کے تحت اب صوبائی اسمبلی پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ ترمیم اس وقت ایوان میں پیش کی گئی جب حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سالانہ معاشی بجٹ پر اعتراضات کے باعث صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ یہ ترمیم اسی روز 23جون کو متفقہ طور پران ارکان اسمبلی نے ہی منظور کر لی جنہوں نے 2013ء میں یہ ایکٹ منظور کیا تھالیکن بعدازاں انہوں نے اس اَمر پر اتفاق کیا کہ آر ٹی آئی کا اطلاق خیبرپختونخوا اسمبلی یا دوسرے لفظوں میں اسمبلی کے منتخب نمائندوں پر نہیں ہوگا۔‘‘
خیبرپختونخوا کے سابق وزیرِاطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا:’’ یہ ترمیم کرکے واضح طو رپر اس قانون کی تضحیک کی گئی ہے جو ناقابلِ یقین ہے۔‘‘ ان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اس وقت حزبِ اختلاف میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا:’’ یہ ترمیم کرتے ہوئے ہم سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی اس موضوع پر اسمبلی میں کوئی بات ہوئی‘ یہ طرزِ عمل قانون سازی کی روح سے متصادم ہے۔‘‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی عمر محمد زئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے آر ٹی آئی قانون کے تحت نہ صرف خود کو جواب دہی سے مستثنیٰ قرار دے ڈالا بلکہ خیبرپختونخوا کے انفارمیشن کمیشن کو سیشن کورٹ کے ماتحت کر کے اس کے اختیارات بھی کم کر دیے۔ آر ٹی آئی سے متعلق کمیشن کے فیصلے اب سپریم کورٹ کی بجائے ضلعی کورٹ میں چیلنج ہوسکتے ہیں۔
دی کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (سی آر ٹی آئی) نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کرے۔ جولائی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں سی آر ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی اور پشاور ہائیکورٹ کو دیئے گئے استثنیٰ کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مذکورہ تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن ایک چیف انفارمیشن کمشنر اور دو انفارمیشن کمشنرز پر مشتمل ہوجوبالترتیب عدلیہ، افسرِ شاہی اور سول سوسائٹی سے ہوں اور خیبر پختونخوا کے آرٹی آئی قانون کے دائرہ کار کوفوری طور پر صوبے کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں(پاٹا) تک وسعت دی جائے۔
عمر محمد زئی نے کہا کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ادارے سنٹر فار لا اینڈ ڈیموکریسی (سی ایل ڈی) ، جو آرٹی آئی قوانین کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے، نے خیبرپختونخوا کے آرٹی آئی ایکٹ 2013ء کو دنیا کا ایک بہترین قانون قرار دیا تھا لیکن اس ترمیم کے بعدیہ منفی طور پر متاثر ہوا ہے اور صوبائی اسمبلی بھی اب اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ دیگر محکمے جیسا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن خیبرپختونخوا اور محکمۂ قانون خیبرپختونخوا بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان پر آر ٹی آئی قانون کا اطلاق نہ ہو۔
تاہم انفارمیشن کمشنر پروفیسر کلیم اللہ کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے قانون میں اس لیے ترمیم کی تاکہ وزرا سے باز پرس نہ کی جاسکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قانون مؤثر ثابت ہوا ہے اور اس کے نفاذ نے ہر ایک کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here