خیبرپختونخوا کے شہید پولیس اہل کاروں کے ورثازرِتلافی پیکیج کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

0
4107

پشاور (سلمان خان سے)72برس کے محمد شریف گزشتہ چند ہفتوں سے کمزوری اور نقاہت محسوس کر رہے ہیں اور اس کا سبب رمضان البارک کے دوران شدید گرمی میں رکھے گئے روزے نہیں ہیں جو بہ ظاہراس کی وجہ ہوسکتے ہیں بلکہ رواں برس مئی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ان کے اکلوتے صاحب زادے کی شہادت کے باعث وہ ٹوٹ چکے ہیں۔
ان کے بیٹے شاکراللہ پشاور پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے تھے ‘جب وہ دفترجارہے تھے تو راستے میں نامعلوم افراد نے ان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا‘ اس وقت ان کی عمر 40برس تھی۔شاکراللہ‘ محمد شریف کے اکلوتے بیٹے تھے اور انہوں نے دو شادیاں کر رکھی تھیں‘ ان کے پسماندگان میں دو بیوائیں اور دونوں شادیوں سے ہونے والے آٹھ بچے ہیں۔
محمد شریف نے کہا:’’ رمضان المبارک سے قبل میَں زرِتلافی پیکیج کے حصول کے لیے پولیس سٹیشن اور کورٹ کے چکر کاٹتا رہا لیکن روزوں اور میری گِرتی ہوئی صحت کے باعث اس پیچیدہ عمل نے تکان کا شکار کر دیا۔ ان دنوں میَں گھر میں محصور ہوکر رہ گیا ہوں اور حکام کی جانب سے جواب کا منتظر ہوں۔‘‘
پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے وہ پولیس اہل کار، جنہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا ‘ ان کے قانونی ورثاء زرِتلافی پیکیج کے حصول کے لیے طویل سرکاری ضابطوں سے گزرتے ہیں جس کے باعث ان کو مالی معاونت کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ، کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، نے کہا:’’ 2014-15ء کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شہید ہونے والے چند اہل کاروں کے خاندانوں کو ہی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے جب کہ شہید پولیس اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد کے بچوں یا ان کے قریبی عزیز وں کو ملازمت کی فراہمی اور زرِتلافی کی ادائیگی کے وعدے پراب تک عمل نہیں ہوا۔‘‘
خیبرپختونخوا پولیس کے افسروں نے تصدیق کی کہ شہید پولیس اہل کاروں کے بھائیوں اور بچوں کی اکثریت کواب تک پولیس میں ملازمت فراہم نہیں کی گئی جس کا وعدہ اعلیٰ حکام کی جانب سے کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی شہیدپولیس اہل کاروں کے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد مالی معاونت کے حصول میں ناکام رہی ہے جس کا ان کی موت کے فوری بعد صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا۔
پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق 2014ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 33پولیس اہل کار جان کی بازی ہار گئے جب کہ 2015ء میں یہ تعداد 26تھی۔ ان تمام شہید اہل کاروں میں سے صرف سات کے ورثا کو زرِتلافی کی ادائیگی کی گئی ہے جب کہ دیگر شہید اہل کاروں کے ورثا کو صوبائی حکومت کی جانب سے وعدہ کیے گئے زرِتلافی کی ادائیگی فی الحال نہیں کی گئی۔
کسی شہید پولیس اہل کار کے عزیز کواب تک شہدا کوٹہ کے تحت ملازمت فراہم نہیں کی گئی۔ شہدا کوٹہ کے تحت شہید ہونے والے پولیس اہل کاروں کے بچے یا پھر بھائی کو پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر بھرتی کیا جاتا ہے جس کے باعث شہدا کے لواحقین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سی سی پی او اعجاز احمد نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ ضرور ’’خاصا طویل ہے‘‘ جب کہ شہدا کے خاندانوں کے مابین زرِتلافی کے حصول پر اختلافات کے باعث بھی تاخیر ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا:’’ بیش تر معاملات میں زرِتلافی ایک ماہ میں ادا کر دیا جاتا ہے تاہم صوبائی محکمۂ خزانہ کی جانب سے تصدیق کے باعث ضابطے کی کارروائی طویل ہوسکتی ہے۔‘‘
سی سی پی او نے کہا کہ پولیس اہل کاروں کی ایک بڑی تعدادکے دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہادت نوش کرنے کے باعث ان کے بچوں یا بھائیوں کو محکمۂ پولیس میں ملازمت فراہم کرنا ممکن نہیں ہوسکتا کیوں کہ صرف چند آسامیاں ہی دستیاب ہیں۔
اعجاز احمد نے مزید کہا:’’ خیبرپختونخوا کے محکمۂ پولیس میں اس قدر آسامیاں دستیاب نہیں ہیں جو بڑی تعداد میں شہید ہونے والے اہل کاروں کے بچوں یا رشتہ داروں سے پُر کی جاسکیں۔ تاہم ہم شہید پولیس اہل کاروں کے بچوں اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کانسٹیبل کے طور پر بھرتی ہوجائیں اور جب اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی آسامی دستیاب ہوگی تو ان کو ترقی دے دی جائے گی۔‘‘
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ سینئر پٹرولنگ افسر جوہر اعظم (نمبر 796) 14جنوری 2014ء کو ریگی ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے میں شہید ہوگئے تھے لیکن ان کے خاندان کے ارکان کو اب تک زرِتلافی کا ایک روپیہ تک ادا نہیں کیا گیا۔
دہشت گردی کے شکار ہونے والے دیگر پولیس اہل کار، جن کے ورثا اب تک زرِتلافی اور ملازمتوں کے منتظر ہیں‘ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے: 18جولائی 2014ء کو بم دھماکے میں شہید ہونے والے جاوید خان (نمبر3871)، منفار علی(1827)، عدنان(1456)، ماجد علی خان (1046)، فاروق خان(1506)، شہنشاہ(754)، سب انسپکٹر عبدالستار، ہیڈ کانسٹیبل شوکت کمال، سرتاج خان، ہیڈ کانسٹیبل نور محمد، جاوید خان (512)، باز محمد(2697)، احسان اللہ (589)، ہیڈ کانسٹیبل محمد ناصر ، ہیڈ کانسٹیبل اسلم خان، ذاکر خان، ظفر علی شاہ، مختیار خان، شاہ سعود، انور خان، یاسر خان، سنجاب خان، فخرِعالم، حیات علی اور سب انسپکٹر عشرت یار شامل ہیں۔
15جنوری 2015ء کو پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کومحکمۂ پولیس میں دہشت گردحملوں میں ہلاک ہونے والے اہل کاروں کے بچوں اور بھائیوں کے لیے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی اسامیوں میں اضافے کا حکم جاری کیا تھا۔
محکمۂ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2007ء میں صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کے واقعات میں 14اہل کاروں نے جامِ شہادت نوش فرمایا جن میں سے صرف ایک شہید اہل کار کے عزیز کو پولیس میں ملازمت مل سکی۔ 2008ء میں 22اہل کار جان کی بازی ہار گئے اور مرنے والوں کے صرف پانچ ورثا کو ملازمت ملی۔ 2009ء میں 54پولیس اہل کار مارے گئے اور ان کے صرف سات رشتہ دار بھرتی ہوئے۔ 2010ء میں شہید ہونے والے 28پولیس اہل کاروں میں سے صرف تین کے ورثاملازمت حاصل کرسکے۔ 2011ء میں 30پولیس اہل کاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ان کے صرف چھ عزیزوں کو ملازمت ملی۔ 2012ء میں 38پولیس اہل کار شہید ہوئے اور ان کے صرف چار رشتہ دار بھرتی ہوئے۔ 2013ء میں 42پولیس اہل کار ہلاک ہوئے جب کہ تین رشتہ دار ہی ملازمت حاصل کرسکے۔
سرکاری اعداد و شمار سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ 2014ء میں دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے 33پولیس اہل کاروں میں سے صرف سات کے ورثا زرِتلافی پیکیج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 2015ء میں اب تک شہید ہونے والے 26پولیس اہل کاروں کے ورثا کو ہنوز مالی معاونت یا ملازمت کی صورت میں زرِتلافی ادا نہیں کی گئی۔ 2015ء میں جان کی بازی ہارنے والے پولیس اہل کاروں میں سے کسی ایک کے عزیز کو بھی شہدا کوٹہ کے تحت محکمۂ پولیس میں ملازمت نہیں دی گئی۔
ان میں محمد شریف کے صاحب زادے شاکراللہ بھی شامل ہیں۔ محمد شریف اس انتظار میں ہیں کہ محکمۂ پولیس کے حکام کی جانب سے ان کے صاحب زادے کے خاندان کے کفیل کی موت کے بعدان کو زرِتلافی ادا کیا جائے۔
محمد شریف نے کہا:’’ میَں نے ایک بار پھر اپنے آٹھ پوتوں کے لیے زرِتلافی حاصل کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے روشن مستقبل کے لیے مالی ئمعاونت کے حصول کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here