لاہور: فارنزک رپورٹوں کی تیاری میں تاخیر‘ ذمہ دار کون؟

0
4949

: Photo By News Lens Pakistan / Shafiq Sharif

لاہور ( شفیق شریف سے ) گزشتہ ربع صدی کے دوران فارنزک سائنس کے شعبہ میں ڈرامائی ترقی ہوئی ہے جس کے باعث انصاف کافوری حصول آسان ہوگیا ہے لیکن پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تفتیش کارعدالت میں فارنزک رپورٹیں پیش کرنے کے ضمن میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں جس کے باعث ملزموں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ 
پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طاہر اشرف نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ عام لوگ فارنزک شواہد کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ پی ایف ایس اے 2012ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد مقدمات حل کرچکی ہے جب کہ پیچیدہ مقدمات سلجھانے میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کومدد فراہم کی ہے۔ لاہور اور پنجاب پولیس کے تفتیشی ونگ سے منسلک اہل کار فارنزک شواہد کی اہمیت کا ادراک ہونے کے باوجودعدالت کے روبرو فارنزک رپورٹوں کو پیش کرنے کے ضمن میں تاخیری خربے استعمال کرتے ہیں۔‘‘
انہو ں نے تسلیم کیا:’’ پی ایف ایس اے کی جانب سے رپورٹیں تفتیشی ونگ کے متعلقہ سینئر افسروں کو ارسال کی جاتی ہیں لیکن درحقیقت یہ نچلی سطح کا عملہ وصول کرتا ہے۔ وہ رپورٹوں کا جائزہ لینے کے بعد ملزموں کے رشتہ داروں سے رابطہ کرتے ہیں اور عدالت میں رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کرتے ہیں جس سے ملزموں کو فائدہ ہوتا ہے۔‘‘
مارچ 2015ء میں ڈاکٹر طاہر اشرف کو ایک عدالت کی جانب سے نارکوٹکس کے ایک مقدمہ میں وقت پر رپورٹ فراہم نہ کرنے پر نوٹس موصول ہوا۔ ریکارڈز کی جانچ کرنے پر یہ منکشف ہوا کہ یہ رپورٹ تین ماہ قبل متعلقہ حکام کو ارسال کردی گئی تھی جس کے باعث معزز عدالت میں پی ایف ایس اے کی پوزیشن واضح ہوگئی۔ عدالت نے جب پی ایف ایس اے کی جانب سے فراہم کیے گئے شواہد کی روشنی میں تفتیش کار سے اس تاخیر کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے لاپرواہی کا اعتراف کیا۔ بعدازاں عدالت نے تفتیش کار کو سزا سنائی جب کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔
ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور پولیس رانا ایاز نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کار عام طور پر پی ایف ایس اے کے حکام سے رپورٹ وصول کرنے کے بعد اسے براہِ راست عدالت میں پیش کردیتے ہیں لیکن کچھ مقدمات میں تفتیش کاروں کی جانب سے تاخیر کی گئی ‘ ان کا یہ طرزِ عمل نہ صرف محکمۂ پولیس بلکہ ان کے اپنے ساتھیوں کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بنا ہے۔
انہوں نے مقامی فیشن ماڈل طوبیٰ قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’ تفتیشی افسر جاوید کی جانب سے مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں تاخیر کی جارہی تھی۔ جب میرے علم میں یہ بات آئی تو میں نے موصوف کی اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے رینک پر تنزلی کر دی۔‘‘رانا ایاز نے مزید کہا کہ اگر اعلیٰ حکام کے علم میں تفتیش کاروں کی یہ غفلت و لاپرواہی آجائے تو ان کو سخت سزا دی جاتی ہے۔
ایڈووکیٹ سجاد احمد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے فارنزک رپورٹوں میں تاخیر کا ذمہ دار پولیس اور فارنزک ایجنسی کے حکام کو ٹھہرایا اور کہا:’’ تفتیش کاروں کی طرف سے ہی عدالت میں رپورٹ پیش کیے جانے میں تاخیر نہیں ہوتی بلکہ پی ایف ایس اے کے افسر بھی رپورٹ تیار کرنے میں اچھا خاصا وقت لگا دیتے ہیں۔ تاہم پی ایف ایس اے اپنا کام بہترین انداز سے کر رہی ہے کیوں کہ اس کی رپورٹوں کی مدد سے عدالت کو فیصلہ کرنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔‘‘
انصاف کی فوری فراہمی کے لیے عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’ موجودہ نظام کے باعث بدقسمتی سے جرائم پیشہ عناصرسزاؤں سے بچ جاتے ہیں جب کہ تفتیش کاروں کو بھی اس کمزور نظام کے باعث فائدہ حاصل ہوتا ہے۔‘‘
وزیرداخلہ شجاح خانزادہ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ پنجاب حکومت تفتیشی عمل میں شفافیت کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہی ہے۔ پنجاب میں ایک مثالی فارنزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے لیکن اب یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس کا استعمال بہتر طور پرعمل میں لائے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here