تھرمیں گرد آلود ہواﺅں کا راج‘ نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا

0
5220

 عمر کوٹ ( اللہ بخش اریسار) تھر میں چلنے والی گرد آلود ہواؤں کے باعث نہ صرف قابلِ کاشت اراضی متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانوں ، پرندوں اور مویشیوں کی بقاء بھی خطرے کی زد پر ہے۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر منہال نوہری نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گردآلود ہوائیں انسانوں ، پرندوں ، پانی کے ذخائر اور مویشیوں سمیت ہر چیز کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گردآلود ہواؤں میں پرندے خوراک کی تلاش میں اُڑان نہیں بھرسکتے۔ گرد سے اَٹی ہوئی گھاس مویشیوں کے نظامِ انہضام کو متاثر کرتی ہے۔ انسانوں میں الرجی، آنکھوں کی سوجن، پھیپھڑوں کی بیماریاں، دمہ اور ٹی بی عام ہے۔
سوسائٹی فار دی کنزرویشن اینڈ پروٹیکشن آف انوائرنمنٹ (سکوپ) کے نمائندے بھارومال آمرانی کہتے ہیں کہ گرد آلود ہوائیں جھاڑیوں اور درختوں کو تباہ کردیتی ہیں۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ سندھی زبان میں ہم کہتے ہیں کہ تیز ہوائیں زمین کی پیداواری صلاحیت کو کم کرتی ہیں۔‘‘
تیزہوائیں زمینی کٹاؤ کا باعث بھی بنتی ہیں جب زمین کی اوپری تہہ، جو مٹی اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے، تیز ہواؤں کے باعث زمین کی سطح سے اُڑ کر کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجاتی ہے۔ زمینی کٹاؤ کا تمام تر انحصار ہوا کی رفتار پر ہے۔ اگر ہوا کی رفتار کشش ثقل کی قوت سے زیادہ ہو، جو مٹی کے ذروں کو جوڑ کر رکھتی ہے، تو زمینی کٹاؤ شروع ہوجاتاہے۔ جب لوگ درختوں اور مختلف اقسام کی سبزیوں کی کٹائی کرتے ہیں تو ہوا کی رفتار میں شدت آجاتی ہے جس کے باعث مٹی کی اوپری تہہ متاثر ہوتی ہے۔ یہ زمین کی اوپری تہہ ہی ہے جو تمام تر غذائی اور نامیاتی مرکبات کی افزائش کا باعث بنتی ہے‘ اگر یہ نہ ہو تو زمین اسے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے ۔ کٹاؤ کے باعث زمین کے پانی کومحفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمین بنجر ہوجاتی ہے۔
تھر میں ہوا اوسطاً 15ناٹس کی رفتار سے چلتی ہے جب کہ 1950ء سے 2004ء تک کٹاؤاوسطاً چار میٹر ہوا جو پریشان کن حد تک بلند ہے۔
تھر کا مجموعی رقبہ 22ہزار مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی 18لاکھ ہے جو ضلع کی آبادی کے تقریباًنصف ہے اور اس کارقبہ اس کے 70فی صد سے زیادہ ہے۔
تھر کے علاقے میں بارشوں کی شرح بہت کم ہے‘ ہوا میں نمی ہوتی ہے ‘ گرد آلود ہوائیں اُڑتی ہیں‘ بڑے پیمانے پر شمسی تابکاری ہوتی ہے ‘ہریالی نہیں ہے اور جابجا ریت کے ٹیلے نظر آتے ہیں۔ زمینوں کے بنجر ہونے کے باعث تھر کے باسیوں کے لیے اس خطے میں رہنا مشکل ہوچکا ہے جس کے باعث وہ دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ 
ایک گاؤں بھوج ریجیو سے تعلق والے ادھیڑ عمر کسان حمیر پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہیں جب اس علاقے میں بڑی تعداد میں درخت اور جھاڑیاں لہلہاتی تھیں جس کے باعث ہوا کے زمین پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ قبل ازیں لوگ درختوں کی کٹائی کو ایک گناہ خیال کرتے تھے۔ وہ درختوں کی پوجا کرتے جس کے باعث جنگلات کی کٹائی نہیں کی جاتی تھی جو خطے پر مثبت اثرات مرتب کرتے۔ 
وریام کے لیے جیپ پر عمرکوٹ سے رتنور تک کا سفر خاصا مشکل ثابت ہوا۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں چلنے والی تیز گرد آلود ہواؤں میں جیپ ہچکولے کھارہی تھی۔ وہ اب جیپ اسی وقت چلاتے ہیں جب اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ‘ دوسری صورت میں پٹرول کو پمپ کیے بغیر ان سڑکوں پر جیپ کو آگے بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے ریت کے ٹیلوں سے اُڑنے والی مٹی سڑکوں، ریلوے لائنوں اور کھیتوں پر ایک موٹی تہہ بنا دیتی ہے۔
یونیورسٹی آف سندھ سے منسلک ماہرِ ارضیات سجومل میگھواڑ اتفاق کرتے ہیں کہ گرد آلود طوفانوں کو روکا نہیں جاسکتا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مٹی کے طوفانوں کی رفتار میں اضافہ ہونے کے علاوہ یہ بارہا ان علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا:’’کچھ تکنیکوں کے ذریعے زمین کٹاؤ اور اس کے بنجر ہونے کے عمل کو اگر ختم نہیں کیا جاسکتا تو اس کی شدت کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔‘‘
انہوں نے استدلال پیش کیا کہ زیادہ سبزہ اور درخت اُگانے، جنگلات کی کٹائی پر قابو پانے، زمینی کٹاؤ ، آبادی میں اضافے کی شرح کو پیش نظر رکھنے اور خشک سالی پر قابو پاکر تھر میں جیون واپس لایا جاسکتاہے۔
میرپور خاص کے سب ڈویژنل فاریسٹ آفیسر عابد حسین جتوئی نے یہ یقین دہانی کروائی کہ حکومت صحرائے تھر کو درپیش خطرات کو نظرانداز نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا محکمہ سڑکوں اور نہر کے اطراف میں درخت اُگارہا ہے۔ 
ان کے مطابق رینج لینڈ منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ بھی زمینی کٹاؤ پر قابو پانے کے لیے تھر میں درخت اُگانے کے لیے سخت محنت کررہا ہے۔ دوسری جانب محکمۂ جنگلات کے ایک اور افسر عطاء اللہ شیخ نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اس قدر درخت نہیں ہیں جن سے زمینی کٹاؤ پر قابو پایا جاسکے۔ 
ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوایبل انرجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی اکبر رحیمون نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیز ہوائیں تھر کے ماحول کے لیے ضرر رساں ہیں لیکن ان کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرکے باسی توانائی کے اس متبادل ذریعے کو پانی ، ٹیوب ویل چلانے اور حتیٰ کہ اپنے گھروں کو روشن کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔علی اکبر رحیمون کا مزید کہنا تھا کہ 9.1میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلنے والی ہوا تھر کے لیے بڑی مقدار میں بجلی پیدا کرسکتی ہے۔
حکومت کبھی تھر کے باسیوں کی زندگی بہتر بنانے میں سنجیدہ نہیں رہی۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے تھر کے علاقے سے انتخاب لڑا اور قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کے رُکن اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم بھی تھر کے علاقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔
مذکورہ بالا وزرا کے دور میں نہ صرف سندھ کے حالات مزید خراب ہوئے بلکہ ناکامیوں کی نئی تاریخ بھی رقم ہوئی۔ افسروں کی نااہلی کے باعث 2002ء میں سندھ ارِڈ زون ڈویلپمنٹ اتھارٹی بند ہوگئی۔ یہ ادارہ 1985ء میں بنجر علاقوں میں، جو سندھ کے 48فی صد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور خشک سالی و قحط سے متاثر رہتے ہیں، ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس بھی ایسی ہی ایک خشک سالی میں تین سو بچے جان کی بازی ہار گئے تھے جس نے سندھ میں تواتر کے ساتھ برسرِاقتدار آنے والی حکومتوں کی اہلیت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیاتھا۔
سندھ تین بار خشک سالی کی لپیٹ میں آچکا ہے جس کے باعث سندھ کی موجودہ حکومت نے تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کے قیام کا بل اب تک سندھ اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here