کیا ہم مستقبل قریب میں موہنجو داڑو کا تاریخی ورثہ کھو دیں گے؟

0
5580

: Photo By News Lens Pakistan / Amar Guriro

کراچی (امر گرڑو سے) سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں قبل ازتاریخ کے شہر موہنجو داڑو کے نواح میں اس کے اب تک دریافت نہ ہونے والے علاقے میں ایک طاقت ور جاگیردار کی جانب سے مچھلیوں کے فارم کی تعمیر کے باعث قدیم شہر کے کھنڈرات کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوال پیدا ہوگئے ہیں۔
پانچ ہزار سال قدیم اس شہر کا نام موہنجوداڑوہے‘ یہ سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’شہرِ خموشاں‘‘ ہے‘ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے آبائی شہر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی چاولوں کی کاشت کی وجہ سے پیدا ہونے والے کھارے پن اور پانی کے رسنے کے باعث یہ تاریخی ورثہ خطرات کی زد پر ہے۔
موہنجو داڑو کے کیوریٹر ارشاد علی رِد نے نیوز لینز پاکستان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا:’’ یہ محفوظ قرار دیا گیا ایک تاریخی ورثہ ہے اور کوئی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، چناں چہ جب مچھلیوں کے فارم کی تعمیر کے بارے میں معلوم ہوا تو ہم نے پولیس سے رابطہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔‘‘
موہنجو داڑو کے کھنڈرات 1922ء میں دریافت ہوئے اور 1980ء میں انہیں یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قراردیے گئے مقامات کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ۔ یونیسکو کے قوانین کے مطابق حکومت بھی عالمی ورثہ قرار دیے گئے مقامات میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔
موہنجو داڑو پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او علی مرتضیٰ چانڈیو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ کیوریٹر کی جانب سے شکایات موصول ہونے کے بعد ہم نے مذکورہ تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے پر تعزیزاتِ پاکستان کی دفعات 447اور 427اور آثارقدیمہ سندھ کے ایکٹ 1997ء کی دفعات 17، 18اور 21کے تحت اثر و رسوخ کے حامل مقامی جاگیردار دیدار علی بہان کے خلاف مقدمہ نمبر3/2015درج کرلیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا:’’ ملزموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور مچھلیوں کے فارم کو بند کردیاگیا ہے‘ اس وقت یہ مقدمہ عدالت میں زیرِسماعت ہے۔‘‘
تاہم ملزم نے خود پر عاید کیے گئے مچھلیوں کے فارم کی تعمیر کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کے سیاسی حریف ان کے خلاف یہ مقدمہ درج کروانے میں کامیاب رہے ہیں۔
ملزم دیدار علی بہان نے نیوز لینز کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’ مچھلیوں کا یہ فارم میری ملکیت نہیں ہے۔ میرے سیاسی حریفوں نے مچھلیوں کا یہ فارم تعمیر کیااور میرے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے میں کامیاب رہے‘ ورنہ میرا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
اگرچہ پولیس مذکورہ جاگیردار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے علاوہ مچھلیوں کے فارم کو بند کرچکی ہے لیکن تاریخی ورثے کے دلدادہ افراد کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زمین کی اس قدر گہرائی تک کھدائی اور اس کو پانی سے بھرنے کے باعث عالمی ورثہ قرار دیے گئے اس مقام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
موہنجوداڑو کے نواحی علاقے ڈوکری ٹاؤن کے رہائشی قاضی آفتاب نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’میں نے کھدائی کرنے والے مزدوروں کی مدد سے ذاتی طور پر یہ دیکھا کہ موہنجوداڑو کے کھنڈرات سے ملحقہ زمین کے قطعہ پر مچھلیوں کے لیے ایک بڑا تالاب تعمیر کیا گیا اوراس کو پانی سے بھر دیا گیاجس کے باعث قبل از تاریخ کے اس ورثے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔‘‘
جنوری 2014ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے متنازعہ سندھ فیسٹیول منعقد کیا جس کے’’شہرِ خموشاں‘‘ پرانتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔
قاضی آفتاب نے کہا:’’ یہ ہمارا قومی ورثہ ہے اور حکومت کوہرصورت میں ممکنہ خطرات سے اس کا تحفظ یقینی بنانا ہے‘ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکام قدیم شہر کی حدود کا تعین کریں اور اس کو انسانوں کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ بنانے کے لیے دیوار یا پھر خادار تاریں نصب کرے۔‘‘
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مقام کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، زیرِزمین پانی کی سطح بلند ہونے اور موسمی اُتار چڑھاؤ کے باعث موہنجو داڑو کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس نوعیت کے حالات میں مچھلیوں کے فارم کی تعمیر کی وجہ سے اس تاریخی مقام کے لیے سنجیدہ نوعیت کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
70ء کی دہائی کے اوآخر میں حکومت نے اس مقام کو پانی کے رسنے کے باعث ہونے والے نقصان سے محفوظ بنانے کے لیے اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں چاولوں کی کاشت پر پابندی عاید کردی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
نیوز لینز پاکستان کو دستیاب ہونے والے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1972ء میں مذکورہ مقام کی بحالی کے لیے ترتیب دیے گئے ماسٹر پلان کے تحت زیرِزمین پانی کی سطح کو متوازن کرنے کے لیے تین مختلف مرحلوں میں 72ٹیوب ویلوں کی تنصیب عمل میں لائی جانی تھی۔
لیکن بعدازاں یہ فیصلہ ہوا کہ 28ٹیوب ویل نصب کیے جائیں گے جو کھارے پن کو جذب کرتے اور اس مقصد کے لیے خاص طور پر تعمیر کیے گئے کنوئیں میں پھینک دیتے لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
محکمۂ آثارِ قدیمہ سندھ کے ڈائریکٹر آرکیالوجی قاسم علی قاسم نے کہا کہ 2006ء میں ان کے محکمے نے اس مقام کو محفوظ بنانے کے لیے کھارے پن کے خلاف قدرتی حفاظتی حصار بنانے کا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت نمک کو جذب کرنے والے کچھ مقامی درختوں کو کھنڈرات کے اردگرد کاشت کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا:’’ ان درختوں کے باعث نواحی دیہاتوں سے مویشیوں نے چرنے کے لیے اس جانب آنا شروع کردیا کیوں کہ یہ ایک چرا گاہ بن گئی تھی ‘یہ مویشی کھنڈرات میں بھی داخل ہوتے جس سے ان کو نقصان پہنچتا کیوں کہ ان کے اردگرد کوئی حفاظتی دیوار یا خاردار تاریں نصب نہیں کی گئی تھیں۔
قاسم علی قاسم کا مزید کہنا تھا:’’ اس بارے میں چوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ ان کھنڈرات کا رقبہ کتنا ہے اور قبل ازتاریخ شہر کے اب تک صرف 10فی صد رقبے کی کھدائی ہی کی جاسکی ہے جس کے باعث محکمہ ان کھنڈرات کے مجموعی رقبے کے بارے میں آگاہ ہوئے بغیر خاردار تاریں نصب نہیں کرسکتا۔‘‘

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here