پشاور میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری

0
4777

پشاور (توصیف الرحمان سے) شام کے گہرے ہوتے ہوئے سایوں میں پروفیسر رفیق پشاور کے پرانے شہر کی تنگ و تاریک و پرہجوم گلیوں میں اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق چہل قدمی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میَں بھی ان کے ساتھ چلوں کیوں کہ ان کی اس معمول کی چہل قدمی میں ان کے چند ایک دوست بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
70برس کے پروفیسر رفیق ساری زندگی پرانے شہر کے قدیم کوارٹروں میں مقیم رہے ہیں‘ جس کی تنگ و تاریک گلیاں گرم ترین دنوں میں بھی سرد رہتی ہیں۔ جب ہم کریم پورہ کے پرہجوم بازار میں داخل ہوئے اور گھنٹہ گھر کی جانب سے ہوتے ہوئے اندرونِ شہر کے دل یعنی چوک یاد گار کی جانب بڑھے تو پروفیسر رفیق کے ذہن میں پنہاں یادیں ایک بار پھر تازہ ہوگئیں۔
وہ انگریزی زبان کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں‘ انہوں نے یادوں کے پنوں کو پلٹتے ہوئے کہا:’’نصف صدی قبل جب میَں اپنے دوستوں کے ان مقامات کا رُخ کیا کرتا تو اس وقت یہ بالکل مختلف شہر تھا۔ شام کے وقت لوگ چہل قدمی کے لیے گھروں سے باہر نکل آتے‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاتے جس کے باعث اہلِ پشاور کی ایک منفرد شناخت وضع ہوئی۔‘‘
حتیٰ کہ جب پرانا شہر اور اس کی قدیم گلیوں میں ہمہ وقت زندگی کی چہل پہل جاری رہتی ہے تو اس کے قدیم کوارٹروں کے پراسرار خدوحال نمایاں ہوجاتے ہیں‘ گزشتہ چند برسوں کے دوران آبادی میں ہوشربا اضافے کے باعث بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے جس کے باعث پرانے شہر میں اضطراب کی لہر پیدا ہوئی ہے کیوں کہ سڑکوں پر ہمہ وقت لوگوں اور مشینوں کا اژدہام رہتا ہے۔
پروفیسر رفیق کہتے ہیں:’’ ماضی میں سڑکیں کھلی اور رش زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ گھنٹہ گھر ایک بلند مقام تھا جو خاصے فاصلے سے بھی نظر آجاتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں تبدیل ہونا شروع ہوئیں۔ سیاسی قوتوں کے زیرِاثر علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے باعث پشاور کا نقشہ تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ شہرِ بے مثل اپنے حقیقی رنگ و روپ سے محروم ہوگیاہے۔‘‘
گھنٹہ گھر 1900ء میں برطانوی ملکہ کے انگلینڈ پر اقتدار کے 25برس مکمل ہونے پر اس وقت تعمیر کیا گیا جب پشاور برطانوی راج کے تحت متحدہ ہندوستان کا ایک شہر تھا۔ گھنٹہ گھر کوصوبے کے سابق گورنر سرجارج کننگھم کے نام سے منسوب کیا گیا جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا۔
تاہم آج رات جب ہم گلیوں یا سبزی منڈی کے سامنے قائم مختلف دکانوں کے سامنے سے گزر رہے تھے جو بند ہو رہی تھیں تو پروفیسر رفیق ’’ایک بار پھر بیتی یادوں کے اوراق پڑھ کر‘‘ سنانے لگے۔
انہوں نے ضلعی حکام کی جانب سے پرانے شہر کے بازاروں سے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم کرنے کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’ اگرچہ حالات مکمل طور پربہتر نہیں ہوئے لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران نسبتاً سدھار آیا ہے۔ ‘‘
میونسپل کارپوریشن پشاور کے ایڈمنسٹریٹر سید ظفر علی شاہ کا نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا:’’ حکومت کی جانب سے تجاوزات ہٹانے کے لیے شروع کی گئی مہم کا مقصد پرانے شہر کی بحالی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران گنجان آباد ہوگیاہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ لوگوں نے بالعموم اور پرانے شہر کے باسیوں نے بالخصوص حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔سید ظفر علی شاہ نے کہا:’’ ہم نے دو ماہ قبل یہ مہم شروع کی تھی اور اب تک شہر کے مختلف بازاروں میں قائم چار سو غیر قانونی دکانوں اور کھوکھوں کو منہدم کیاجاچکا ہے۔‘‘
ان قدیم بازاروں میں ہشت نگر، کوچی بازار، مینا بازار، کریم پورہ، مسگراں بازار، پیپل بازار، نمک منڈی، ڈبگری ، بالا منری اور دیگر شامل ہیں۔ یہ مہم محکمۂ مالیات، میونسپل کارپوریشن پشاور، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور نے مشترکہ طور پر شروع کی ہے۔ 
تاہم اس مہم کے حوالے سے تاجروں اور سیاست دانوں کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماء اور قومی اسمبلی کے رُکن غلام احمد بلور اس مہم کے شروع کیے جانے پر خوش نظر نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں:’’ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت شہر سے تجاوزات ہٹانے کے نام پر عوام کو ان کے روزگار سے محروم کر رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کو تجاوزات ہٹانے کی مہم شروع کرنے سے قبل متاثر ہونے والے دکانداروں کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔غلام احمد بلور نے کہا:’’اس مہم سے متاثر ہونے والے 90فی صد لوگ معاشرے کے محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے یکسر مختلف نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف اس مہم کو شروع کیے جانے پر خوش ہیں بلکہ حکومت کی جانب سے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی ستائش بھی کرتے ہیں۔
اندرونِ شہر کے کریم پورہ بازار کے رہائشی حمید اقبال نے کہا:’’ ڈرائیونگ تو کجا شہر میں پیدل چلنا بھی انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ خواتین ان تجاوزات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئیں کیوں کہ ان کے لیے یہ تقریباً ناممکن ہوگیا تھا کہ پرہجوم بازاروں سے خریداری کرپاتیں۔‘‘
قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی زارا حسین کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے ان بازاروں سے گزرناانتہائی دشوار ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا:’’ پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی مخصوص راستہ نہیں تھا۔ حکومت نے ایک مثبت اقدام کیا ہے اور تمام شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کواس نوعیت کے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔‘‘
میونسپل کارپوریشن پشاور کے ایڈمنسٹریٹر ظفر علی شاہ کے مطابق جب مہم شروع ہوئی تو تاجروں کے کچھ تحفظات تھے۔ انہوں نے کہا:’’ اس وقت ضلعی حکام نے نہ صرف ان کے ساتھ متعدد اجلاس کیے بلکہ تاجروں کواعتماد میں بھی لیاگیا۔‘‘
تاجروں کی تنظیم تاجر انصاف یونین کے صدر شاہد خان کہتے ہیں کہ یہ مہم ان کی اجازت سے شروع کی گئی۔ تاہم وہ حکام سے نالاں نظر آئے کیوں کہ شہر بھر میں اس مہم کے بعد جمع ہوجانے والے ملبے کو ہٹانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ 
شاہد خان نے کہا:’’ انہوں (حکومت) نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ تجاوزات ہٹانے کے بعد ملبے کو فوری طور پر ٹھکانے لگا دیا جائے گا اور ان دکان داروں کو زرِ تلافی ادا کیا جائے گاجو اپنے طورپر تجاوزات ختم کریں گے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شہر بھر میں ملبہ بکھرا پڑا ہے اور تاجر ہنوز منتظر ہیں کہ حکام ملبے کو ہٹائیں۔‘‘
ظفر علی شاہ نے تاجروں کی تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے دعویٰ کو رَد کیا اور کہا کہ حکام ملبے کو ہٹانے کے لیے مستعدی سے کام کر رہے ہیں اورشہر کے مختلف مقامات سے 750سے زائد ٹرالیوں پر ملبے کو ہٹایا جاچکا ہے۔
حکومت نے جب رواں برس جنوری میں یہ مہم شروع کی تھی تو گھنٹہ گھر پر تجاوزات ہٹانے پر دکان داروں اورمیونسپل کارپوریشن پشاور کے ملازمین کے درمیان ہونے والے تصادم میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ اس پرتشدد واقعہ کے بعد یہ مہم عارضی طور پر روک دی گئی۔ تاہم حکومت نے ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو زرِتلافی ادا کی جس کے بعد حکام نے ایک بار پھر مہم شروع کی۔
دکان داروں کو متبادل جگہ دیے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن پشاور کے ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ گھنٹہ گھر کے دکان داروں کو پرانے شہر کی گنا منڈی بازار میں متبادل جگہ دی گئی ہے۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھ کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں پر تمام دکان دار ازسرِنواپنا کاروبارشروع کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بازاروں میں اس نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں گے تاکہ شہر کی خوب صورتی میں اضافہ ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here