سندھ کی صحرائی آب گاہوں کے خشک ہونے کے خطرات بڑھ گئے

0
4166

کراچی ( امر گرڑوسے) سندھ کے وسیع علاقے پر پھیلی آب گاہیں مختلف نسلوں کے مہاجر پرندوں اور جنگلی جانوروں کی آماج گاہ ہیں لیکن اب یہ رفتہ رفتہ سکڑتی جارہی ہیں۔
مقامی آبادی پینے کے صاف پانی کے لیے ان آب گاہوں پر انحصار کرتی ہے‘جن کا یہ خیال ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آب گاہیں خشک سالی کا شکار ہوجائیں گی۔
عمرکوٹ ضلع کے نواح میں ماہی گیروں کے ایک چھوٹے سے گاؤں گوٹھ بچل ملاح کے رہائشی منظور ملاح نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ماضی میں ان جھیلوں میں تازہ پانی ذخیرہ ہوتا اور ہم مچھلی کا شکار کھیلا کرتے۔پانی کی سطح میں کمی اورآلودگی کے باعث اس جھیل میں اب مچھلیاں ناپید ہوگئی ہیں۔ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ہم جلد ان جھیلوں سے محروم ہوجائیں گے۔‘‘
اچھڑو تھر یا سفید صحرا صوبہ سندھ کے مشرق میں بھارتی سرحد سے متصل ہے اور ضلع سانگھڑ، عمر کوٹ اور خیر پور کے کچھ حصے اس صحرا کی حدود میں آتے ہیں۔ اچھو تھرایک پراسرار صحرا کے طور پر معروف ہیں جہاں متعددآب گاہیں موجود ہیں جن میں سے بیش تر ہنوز دریافت نہیں ہوسکیں۔
عمرکوٹ ضلع کے دھورونارو ٹاؤن کے رہائشی حسین ملاح کے مطابق معروف آب گاہوں میں باکار ( یہ ضلع سانگھڑمیں کھپرو کے نزدیک واقع ہے) ،جو کھپرو جھیل کے طور پرمعروف ہے ، کلنکار، پالارو، بودار، سروئی، دائی سائیں، برتھی، موداکر اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ لیکن اب یہ آب گاہیں تشویش ناک رفتار سے سکڑ رہی ہیں۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے حکام نے ان صحرائی آب گاہوں کے سکڑنے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیق کا اہتمام کیا جس سے یہ منکشف ہوا کہ اس کی وجہ یا تو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جیسا کہ بارشوں کا کم ہونا وغیرہ یا پانی کے استعمال جیسا کہ آب پاشی کے طریقۂ کارمیں تبدیلی کے باعث ان آب گاہوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ 
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر۔۔۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پروگرام انڈس فار آل کے ڈائریکٹر رب نواز نے کہا:’’ صحرائی آب گاہیں انتہائی اہم ہیں کیوں کہ دنیابھر میں ان کا ہونا غیر معمولی ہے۔ یہ ماحولیاتی نظام کو ایک ایسا جزو فراہم کرتی ہیں جو اپنی حیاتیاتی نوعیت کے اعتبار سے انفرادیت کا حامل ہے۔‘‘
انہوں نے یہ تصدیق کی کہ یہ آب گاہیں سکڑ رہی ہیں جس کے باعث انسانوں اور جانوروں کی آبادی متاثر ہوگی۔ رب نواز نے مزید کہا:’’ آبی وسائل کو منتظم کرنادرحقیقت اس ماحولیاتی نظام کو منتظم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ پانی کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ سطحوں کا نہ صرف تعین کیا جائے بلکہ ان کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی فلورا کو مویشیوں اور سیلاب سے محفوظ بنایا جائے۔‘‘
سندھ کی یہ عجیب و غریب آب گاہیں نہ صرف مچھلیوں، مہاجر پرندوں اور علاقے میں بسنے والے دیگر جنگلی جانوروں کے لیے انتہائی اہم ہیں بلکہ ماہی گیروں کی مقامی آبادی کی متعدد روایتی رسومات کا تعلق بھی ان جھیلوں سے ہے۔
کلنکار جھیل پر ماہی گیر کے طور پر کام کرنے والے صالح محمد نے کہا:’’ ماضی میں جب ان جھیلوں کی حالت قدرے بہتر تھی تو اس وقت مقامی ماہی گیر اپنے عزیز و اقارب کو دعوت دیتے اور ان کی مچھلی کے پکوان سے تواضع کرتے لیکن جھیلوں میں مچھلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد نے ان تقاریب پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔‘‘
محکمۂ تحفظِ جنگلی حیات سندھ کے کنزرویٹر جاوید احمد مہر کہتے ہیں:’’ صحرائی جنگلی حیات کی بقاء کا انحصار کسی قسم کی آب گاہوں پر نہیں ہیں جس کے باعث میرا نہیں خیال کہ ان آب گاہوں کے سکڑنے سے جنگلی جانوروں کی بقاء متاثر ہوسکتی ہے۔‘‘
انہوں نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سرد علاقوں سے ہجرت کرنے والے پرندوں کے ان آب گاہوں کے اطراف میں موجود ہونے کی اطلاع ملی تھی کیوں کہ ان میں کثیر تعداد میں مچھلیاں ہوتی ہیں لیکن جنگلی حیات کی کوئی اور قسم ان جھیلوں پر انحصار نہیں کرتی۔ جاوید احمد مہر نے مزید کہا:’’ تاہم ، ہم نے ان جھیلوں میں آلودگی کی سطح ماپنے کے لیے کسی قسم کی کوئی تحقیق نہیں کی۔‘‘
یہ اندازہ ہنوز نہیں لگایا جاسکا کہ سفید صحرا کی منفرد آب گاہوں میں پانی کی کم ہوتی ہوئی اور کھارے پن کی بڑھتی ہوئی سطح کس طرح جنگلی حیات کے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے کیوں کہ اس حوالے سے محکمۂ تحفظ جنگلی حیات سندھ نے کسی قسم کے سروے کا انعقاد نہیں کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here