پشاور : دہشت گردی نامنظور‘ نوجوانوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ

0
5156

: Photo By News Lens Pakistan / Izharullah

پشاور ( اظہاراللہ سے) گوگل پر پشاور کو سرچ کریں تویہ قوی امکان ہوگا کہ آپ کے سامنے پشاور میں ہونے والے دہشت گردی کے مختلف واقعات سے متعلق نتائج سامنے آجائیں جس سے حالیہ کچھ عرصہ کے دوران چند دیگر شہر ہی اس قدر متاثر ہوئے ہیں۔
جب خبروں کے بارے میں بات کی جائے تو پشاور کی ساکھ ایک ایسے شہر کے طور پر سامنے آتی ہے جو پرتشدد واقعات سے متاثر ہواہے لیکن نوجوان ماہرین کی کاوشوں کے باعث اب یہ شہر دہشت گردی کے بجائے ٹیکنالوجی کا مرکز قرار پائے گا۔ 
پشاور 2.0شہر کا ایک ڈیجیٹل منظر پیش کرتا ہے جہاں پر دہشت گردی کی خبروں کے بجائے شہریوں کے میٹروپولیٹن مسائل کا حل موجود ہے اور ظاہر ہے کہ یوں یہ شہر کے مثبت پہلوؤں کو دکھا سکتا ہے۔
لیکن مذکورہ غیر سرکاری تنظیم بنیادی طور پرشہر کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔
پشاور 2.0شمال مغربی صوبے خیبرپختونخوا (کے پی) کے دارالحکومت پشاور کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے تربیت فراہم کر رہی ہے تاکہ یہ شہر ’’ٹیکنالوجی، آرٹ وڈیزائن کا مرکز بن سکے اور نوجوان اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں۔ ‘‘ اس منصوبے کے لیے ورلڈ بنک اور خیبرپختونخواا نفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ معاونت فراہم کررہا ہے۔
پشاور 2.0کے بانی سلمان احمدنے کہا:’’ہم دہشت گردی سے دھندلا چکے پشاورشہر کی حقیقی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پشاور کے نوجوان صلاحیتوں سے مالامال ہیں لیکن عملی اظہار کے مواقع دستیاب نہ ہونے کے باعث ان کی ان صلاحیتوں کا ادراک نہیں ہو پاتا۔‘‘
سلمان احمد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیوں میں صرف کتابی تعلیم دی جارہی ہے جب کہ درحقیقت عملی تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث طالب علموں کو بہت سے شعبوں میں ملازمت حاصل نہیں ہوپاتی کیوں کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت سے محروم ہوتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عملی تربیت و پیشہ ورانہ اہلیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں۔ان کو پہلے مرحلے میں مختلف شعبوں کی تربیت فراہم کی جاچکی ہے جن میں تکنیکی ایپلیکیشن تیار کرنا، فوٹوگرافی، بائیوانفارمیٹکس، متن کی تحریر اور پریزینٹیشن کی صلاحیت پیدا کرنا شامل تھا۔
سلمان احمد نے مزید کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے 300سے زائد نوجوان گریجویٹ یہ تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ ان میں سے کچھ نوجوانوں نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے تاکہ’’ اہلیانِ پشاور کی زندگی کو پرسکون بنایاجاسکے۔‘‘
صوبہ خیبرپختونخواسے نوجوان ماہرین کی چار ٹیموں کوسال 2014ء کے لیے کیلیفورنیا کی سوک انوویشن لیب فیلوشپ کے لیے منتخب کیا گیا تھا جن کی تربیت پشاور 2.0نے کی تھی۔ 
سلمان احمد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ یہ ٹیمیں اب خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کی ویب ایپلی کیشنز کی تیاری میں مدد کر رہی ہیں جس کے باعث پشاور کے رہائشیوں کی زندگی میں بہتری آسکتی ہے۔‘‘
ان ٹیموں کی جانب سے جو ایپلی کیشنز تیار کی جارہی ہیں‘ ان میں ایک ایسی ایپ کی تیاری بھی شامل ہے جس سے بجلی چوری کی نشاندہی ہوسکتی ہے‘ ایک ویب پورٹل بھی ڈیزائن کیا جارہا ہے جس کا مقصد حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مختلف خدمات جیسا کہ ڈرائیونگ لائسنس ، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ وغیرہ کے حصول کے طریقۂ کار اور اس کے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے جب کہ ایک ایسی ایپ کی تیاری بھی شامل ہے جس سے قرب و جوار میں قائم طبی مراکز کے بارے میں آگاہی حاصل ہوسکے گی۔ 
سلمان احمد نے کہا:’’ ہم پاکستان میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی تقریب ’’ڈیجیٹل یوتھ سمٹ‘‘ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں جو رواں برس مئی میں پشاور میں منعقد کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے ماہرین اور نوجوان ایک چھت تلے بیٹھ کر پشاور کو آرٹس، ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کا شہر بنانے کے لیے سوچ بچار کریں گے۔‘‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے کاروباری تنظیم کاری کے ماہر ڈاکٹر فیصل خان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تناظر میں نوجوانوں کو کاروبار کی جانب راغب کرنا نہایت اہم ہے کیوں کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح تشویش ناک حد تک بلند ہے۔
انہوں نے کہا:’’خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عملی تربیت اور اہلیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پشاور 2.0کے نام سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے میں مددگار ثابت ہوگا کیوں کہ صوبے کے نوجوانوں میں موجود صلاحیتیں اس بنا پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں کیوں کہ وہ ان کا عملی اظہار نہیں کرپاتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ برس پشاور میں ہونے والے ڈیجیٹل یوتھ سمٹ کوحاصل ہونے والی غیر معمولی پذیرائی کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔
صوبائی سیکرٹری برائے آئی ٹی اور خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کی قائم مقام سربراہ فرح حامد کہتی ہیں:’’ ہمارے نوجوانوں میں اختراع پسندی کی غیر معمولی صلاحیتیں ہیں۔ حکومت تخلیقی اور اختراع پسنداذہان کے حامل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے میں تعاون فراہم کرے گی جب کہ سرکاری امور کی بہتر طور پر انجام دہی کے لیے ان کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گے۔‘‘
شفیق گگیانی شہر میں اپنا سافٹ ویئر ہاؤس قائم کرنے کے لیے کام کررہے ہیں جنہیں پشاور 2.0نے ویب ایپلی کیشن ڈیزائننگ کی تربیت فراہم کی ہے۔
شفیق گگیانی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ اس تربیت سے میں نے ویب ایپلی کیشنز اور ویب سائٹوں کو ڈیزائن کرنے میں مہارت حاصل کی۔ میں ویب سائٹوں کو ڈویلپ کرنے کے ضمن میں کتابی علم رکھتا تھا لیکن اس تربیت سے میری عملی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here