جہیز کم لانے پر طلاقوں کی شرح میں اضافے نے لڑکیوں کے والدین کو پریشان کر دیا

0
4416

لاہور (احسان قادرسے) پاکستان میں شوہروں کی جانب سے طلاق دیے جانے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے ‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی لعنت جہیز اس کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔
نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے لیڈی ٹریفک پولیس کی 28برس کی اہل کار حمیرا کاظم نے کہا کہ اس نے اپنے مرد ساتھی سے شادی کی جو جہیز کے لالچ کے باعث دیرپا ثابت نہیں ہوسکی۔
حمیرا نے کہا:’’ نکاح کے بعد میرے خاوند نے میری والدہ سے کہا کہ وہ جہیز میں کار دیں کیوں کہ اسے مجھے دفتر سے لے کر آنا اور لے جاناہوگا۔ میری والدہ نے اسے کہا کہ وہ اس کایہ مطالبہ پورا کرنے سے قاصر ہیں کیوں کہ وہ پہلے ہی جہیز میں بہت کچھ دے چکی ہیں جس کے باعث اس نے مجھے طلاق دے دی۔‘‘
پاکستان میں یہ رواج عام ہے کہ نوبیاہتا دلہنیں شادی کے بعد اپنے والدین سے جہیز لے کر رخصت ہوتی ہیں۔ جہیز کی کوئی حد مخصوص نہیں ہے اور اس کا انحصار والدین کی معاشی حیثیت پر ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ جہیز حاصل کرنے کا لالچ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگے ہیں۔ اکثر اوقات خواتین ساری زندگی شادی نہیں کرتیں کیوں کہ ان کے والدین جہیز کا خرچہ برداشت نہیں کر پاتے۔ 
ایک اور خاتون 32برس کی سکول ٹیچر روبینہ مسعود نے کہا کہ اس کی چھ ماہ قبل طلاق ہوئی ہے کیوں کہ اس شوہر اور سسرال والوں نے اس کے خاندان کے خلاف رائے زنی کرنا معمول بنا لیا تھا کہ ان کے مطالبے کے مطابق جہیز نہیں دیاگیا۔ اس نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ شادی کے اگلے روز ہی میرے شوہر ساجد علی نے جہیز کم لانے پر ناراضی کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ وہ سسرالیوں کے سامنے بھی مجھ پر تشدد کرتا۔‘‘ اس کی شادی ایک برس میں ختم ہوگئی۔ اس کے خاوندنے ایک صاحب ثروت خاندان میں دوسری شادی کرلی۔
ایک شادی دفتر کی مالکہ رفعت جبین نے کہا کہ وہ گزشتہ 15برس سے یہ کاروبار کر رہی ہیں اور ان کا مشاہدہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران سماج میں جہیز کے لالچ کی شرح غیر معمولی حد تک بڑھی ہے۔ انہوں نے تبصرہ کیا:’’ تقریباً ہر لڑکا خوب صورت اور امیر لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔‘‘
وفاقی حکومت نے 1976ء میں جہیز اور شادی بیاہ کے تحائف پر پابندی کا قانون نافذ کیا تھا جس میں 1993ء میں ترمیم کی گئی جس کے تحت دلہنوں اور دلہوں کے خاندانوں پر 50ہزار روپے سے زائد رقم لینے یا دینے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کو چھ ماہ کی سزا اور جرمانہ ہوسکتا ہے لیکن اس پر کبھی حقیقی معنوں میں عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ 
حکمران جماعت مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والی ایک قانون ساز کنول نعمان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس رجحان پر قابوپانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس حوالے سے جہیز دینے پر پابندی کے قوانین موجود ہے۔ انہوں نے کہا:’’ حکومت اکیلے کچھ نہیں کرسکتی۔ سماج سے اس برائی کے خاتمے کے لیے لوگوں اور میڈیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘
پنجاب یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی پروفیسر ڈاکٹر رفعت منور نے کہا کہ سماجی اور معاشی عوامل اس رجحان میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ افراطِ زر، بے روزگاری، کنٹریکٹ پر ملازمتوں اور غربت میں اضافے کے باعث سماجی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا:’’ دوسری جانب ٹی وی چینل اپنی سکرین پر پرتعیش طرزِ زندگی دکھاتے ہیں جس کے باعث نوجوان راتوں رات امیر ہونے کے لیے صاحبِ ثروت خاندانوں میں شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سماج کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی چاہیے اور تمام فریق‘ خاص طور پر ساسیں اس حوالے سے اپنا کردار نبھائیں۔
ایک وکیل رضامحمود نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ لاہور کی فیملی کورٹس میں روز بروز طلاق کے مقدمات میں اضافہ ہورہا ہے، اور بیش تر کا تعلق جہیز سے ہے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here