پشاور میں غربت اور حکومتی عدم توجہی کے باعث بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول جانے سے محروم

0
4819

: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzai

پشاور (اسد خان سے) شاہ ولی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا کچھ یوں جائزہ لے رہا ہے جیسا کہ خزانے کی تلاش میں ہو، وہ کاٹھ کباڑ کو چھو کر دیکھتا ہے،اگر یہ ناکارہ ہو تو وہ اسے چھوڑدیتا ہے ورنہ دوسری صورت میں اٹھا کر اپنے تھیلے میں ڈال لیتا ہے۔ 
اس نو برس کے بچے کوکوئی بھی شخص ہمہ وقت کام میں مصروف دیکھ سکتا ہے‘ وہ اس کوڑا کرکٹ میں سے بھی ایسی اشیا ڈھونڈ لیتا ہے جنہیں فروخت کرکے وہ اپنے خاندان کی گزر بسر کے لیے کچھ نہ کچھ کمانے کے قابل ہوجاتا ہے‘ یہ وہ کوڑا کرکٹ ہوتا ہے جو لوگ پشاور شہر کے صدر کے علاقے کی گلیوں میں پھینک دیتے ہیں۔
شاہ ولی کو کوڑے کرکٹ کے اس ڈھیر سے بالآخرایک مفید چیز مل ہی گئی۔ یہ ایک بوسیدہ کتاب ہے جس کے بارے میں اسے امید ہے کہ وہ اسے شہرکے کباڑیے کو فروخت کرسکتا ہے۔ وہ کتاب کے بھیگے ہوئے صفحات کا نہایت غور و فکر کے ساتھ جائزہ لیتا ہے۔ وہ کتاب کو اپنی پٹ سن کی گندی بوری میں ڈالنے سے قبل اس پر شایع ہونے والی تصویروں کو دیکھنے کے لیے کچھ دیر کے لیے تؤقف کرتا ہے۔
شاہ ولی نے کہا:’’ میں سکول جانا چاہتا ہوں لیکن میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے جو میرے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ اس کا چھوٹا بھائی بھی اس کام میں ا س کا ساتھ دیتا ہے جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اس کی طرح ہی مختلف اشیا کی تلاش میں مصروف رہتا ہے۔
شاہ ولی اور اس کا بھائی سارا دن کاٹھ کباڑ جمع کرتے ہیں جنہیں وہ شہر کے کباڑیوں کو فروخت کرکے تین سو روپے تک کما لیتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے چلائی گئی مہم الف اعلان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں اس وقت پانچ سے 16برس تک کے تقریباً ایک لاکھ 81ہزار بچے سکول نہیں جاتے۔
الف اعلان کی سالانہ رپورٹ 2015ء کے مطابق، یہ وہ سال ہے جب پاکستان کو ہزاریے کے ترقیاتی اہداف کے تحت کی گئی اپنی عالمی کمٹمنٹ کے تحت تمام بچوں کی تعلیم کا مقصد حاصل کرنا ہے، پشاو رمیں ہزاروں بچے اب بھی سکول نہیں جارہے جب کہ اُن کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور سکولوں میں ان کے داخلے کی شرح بڑھانے کے لیے ہر برس زور و شور سے مہم چلائی جاتی ہے۔ 
پاکستان میں تعلیم کو عوامی بیانیے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں الف اعلان کہتی ہے کہ 16فی صد لڑکے اور 32فی صد لڑکیاں غربت اور والدین و حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث سکول نہیں جاپاتیں۔
الف اعلان کے علاقائی کوارڈینیٹر عمر اورکزئی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’الف اعلان کی پاکستان کے اضلاع کی تعلیمی درجہ بندی 2014ء کی رپورٹ کے مطابق پشاورملک کے 146اضلاع میں 68ویں اور صوبہ خیبرپختونخوا کے 25اضلاع میں 10ویں نمبر پرہے۔ ‘‘
الف اعلان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے سکول نہ جاپانے کی بنیادی وجہ غربت ہے جیسا کہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ایسے بچوں کا تناسب 41فی صد ہے جو سکول نہیں جاتے جب کہ صاحب ثروت گھرانوں کے بچوں میں یہ تناسب 11فی صد ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع پشاور میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ 3.421ارب ہے جس کا ایک بڑا اور غیر معمولی حصہ یعنی 3.391ارب روپے تنخواہوں کی ادائیگی جب کہ باقی دو کروڑ اسّی لاکھ روپے دیگر اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوجاتے ہیں۔
الف اعلان کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق پرائمری سکولوں میں زیرِتعلیم لڑکوں کا تناسب 66فی صد ہے جو سکول جانے والی لڑکیوں کے تناسب 57فی صد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریباً54فی صد بچے سرکاری،44فی صد نجی اور صرف دو فی صد مدارس میں زیرِتعلیم ہیں۔
الف اعلان کی اس رپورٹ کے مطابق صرف 48فی صد لڑکیاں ہی پرائمری کے درجے سے آگے تعلیم حاصل کرپاتی ہیں۔ اسی طرح سکولوں میں داخل ہونے والے 65فی صد لڑکے پرائمری کے بعد اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
الف اعلان کے علاقائی کوارڈینیٹر عمر اورکزئی نے کہا:’’ ضلع میں تقریباً 77فی صد سکول پرائمری تک تعلیم دے رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں کی تعداد 1353ہے جن میں سے 1042پرائمری تک تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
عمر اورکزئی کہتے ہیں کہ 1353سرکاری سکولوں میں سے 42فی صد لڑکیوں جب کہ 58فی صد لڑکوں کے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ یوں مجموعی طور پر لڑکوں کے سکولوں کی تعداد 780اور لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد 573ہے۔‘‘
الف اعلان کی اس رپورٹ میں پشاور میں معیارِ تعلیم کا جائزہ بھی لیا گیاہے جس کے مطابق جماعت پنجم کے 62فی صدطلبا اُردو کی ایک سادہ سی کہانی بھی نہیں پڑھ پاتے (جو جماعت دوم کے بچوں کے نصاب میں شامل ہے) ، جماعت پنجم کے 56فی صد طالب علم انگریزی کا ایک فقرہ تک نہیں پڑھ سکتے ( جوجماعت دوم کے بچوں کے نصاب کا حصہ ہے) اور جماعت پنجم میں زیرِتعلیم 61فی صد بچے جماعت سوئم کی سطح کا ریاضی کا سوال تک نہیں حل کرسکتے۔
مذکورہ رپورٹ میں صوبائی دارالحکومت میں سکولوں کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی تفصیلی تحقیق شامل کی گئی ہے جس کے مطابق 20فی صد سکولوں میں پانی ، نو فی صد سکولوں میں بیت الخلااور39فی صد سکولوں میں بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے جب کہ پانچ فی صد پرائمری سکولوں کی بیرونی دیوار نہیں ہے۔ پرائمری کی سطح کے سکولوں میں اوسطاً پانچ کمرۂ جماعت ہیں۔
اگر سکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ کی تعداد کی بات کی جائے تو 2014ء میں 1353 سرکاری سکولوں میں 7747اساتذہ تعینات تھے۔ 12فی صد پرائمری سکولوں میں صرف ایک استاد ہی خدمات انجام دے رہا ہے۔ پرائمری کی سطح پر اوسطاً ایک استاد 48بچوں کی تدریس کے فرائض انجام دیتا ہے۔
آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی اے) کے صوبائی صدر ملک خالد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور والدین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے طالب علموں کی جانب سے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا:’’ سکول نہ جانے والے بچوں کے والدین کی اکثریت شہر کی غریب آبادی اور مزدوروں پر مشتمل ہے۔ ان غریب خاندانوں کے یہ بچے محنت مزدوری کرتے ہیں اور یوں اپنے خاندانوں کی مالی معاونت کا باعث بنتے ہیں جو یہ ادراک نہیں رکھتے کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کررہے ہیں۔‘‘
ملک خالد نے تجویز پیش کی کہ حکومت، محکمۂ تعلیم اور اساتذہ ایک ٹھوس پالیسی تشکیل دیں تاکہ سکول نہ جانے والے بچوں اور ان کے والدین کو تعلیم کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں طالبات کے لیے سکالرشپ پروگرام شروع کرنے کی ستائش کی۔
انہوں نے کہا:’’ حکومت بچوں کے تعلیم حاصل نہ کرنے کی ذمہ دار ہے۔ تعلیم کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پربجٹ مختص کیے جانے کے باوجود سکولوں کی ایک بڑی تعداد بنیای سہولیات سے محروم ہے۔‘‘
پشاور کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر شریف گل نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ سکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لیے رواں برس آٹھ اپریل کو شروع کی گئی مہم کے باعث تقریباً 20ہزار بچوں نے مختلف سکولوں میں داخلہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا:’’ پشاور میں سینکڑوں اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے جس کے بعد اب ہم بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں گے۔‘‘
لیکن آٹھ برس کے جاوید کی طرح کے محنت کش بچوں کے لیے وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے جو اپنے خاندان کی مالی کفالت کے لیے پشاورکی خیبر سپر مارکیٹ کے ایک ریستوران میں چائے کے ڈھابے پر کام کرتا ہے۔
جاوید نے کہا:’’ مجھے روزانہ کے کام کا 2سو روپے (دو امریکی ڈالر) معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ میں روزانہ صبح سویرے کام کے لیے روانہ ہوجاتا ہوں ا وررات 11بجے تک کام کرتا ہوں۔ مجھے گندگی پسند نہیں ہے۔ میں صاف ستھرا ہوکر سکول جانا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میرا کتابوں سے بھرا ہوا ایک بستہ ہو۔ میں امیر خاندانوں کے بچوں کی طرح شام کے وقت مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ایسی تفریح میرا مقدر نہیں ہے کیوں کہ والدہ کہتی ہیں کہ ہم غریب ہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here