بنوں:آئی ڈی پیز نفسیاتی عارضوں کا شکار ہونے لگے

0
3783

: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzai

بنوں (احسان داوڑ سے) آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں بسنے والے ہر شخص اور خاص طور پر خواتین، بچوں اور ادھیڑ عمر افراکی زندگی بدترین طور پر متاثر ہوئی ہے۔ وہ شمالی وزیرستان واپس جانا چاہتے ہیں تاکہ اپنا جیون امن و آشتی سے بیتا سکیں۔ ان کی اذیت میں اضافے کی ایک وجہ موسم بھی ہے۔ شمالی وزیرستان ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں موسمِ گرما کے دوران بھی موسم خوشگوار رہتا ہے لیکن بنوں میں موسمِ گرما کے دوران اوسط درجہ حرارت 45سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
70برس کی ماروا ان ہزاروں بدقسمت لوگوں میں سے ایک ہیں جو جون 2014ء میں طالبان کے خلاف شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے بعد شمالی وزیرستان سے اپنا گھر بار چھوڑ نے پر مجبور ہوئیں۔ 
ماروا کے لیے جیون بیتانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ ان کوواپس میرعلی لے جائیں تاکہ وہ اپنا آبائی قصبہ دیکھ سکیں۔ وہ التجا کرتی ہیں:’’ مجھے وہاں صرف چند دنوں کے لیے جانے دو۔ میں اپنے مویشیوں کو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
ماروا اپنے آبائی قصبے سے دوری پر افسردہ ہیں اور واپس جانے کی خواہاں ہیں۔بنوں کے کیمپوں میں، جہاں وہ دیگر آئی ڈی پیز کے ساتھ آبا دہیں،معیارِ زندگی کے ابتر ہونے کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔
ماروا نے کہا:’’ جب ہم سے گھروں کو چھوڑنے کے لیے کہا گیا تو یہ وعدہ کیا گیا کہ کچھ ہی عرصے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔ تقریباً ایک برس گزر چکا ہے لیکن واپسی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ میں پریشان ہوں کہ کبھی اپنے گھر واپس جاپاؤں گی یا نہیں۔‘‘
ماروا سلام وہ واحد آئی ڈی پی نہیں ہیں جن کے لیے گھر سے دوری اذیت ناک ہوچکی ہے۔ تقریباً ہر آئی ڈی پی ایسا ہی محسوس کرتا ہے۔ گھر سے دوری کے باعث کچھ آئی ڈی پیز کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی ہے۔ 
ماروا کے سب سے بڑے صاحب زادے طارق خان نے کہا:’’ میری والدہ صحت مند اورمستعد تھیں۔ عمر اُن کے لیے اعداد و شمار سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ وہ گھر کا سارا کام خود کرتیں۔ کھیتوں سے مویشیوں کے لیے چارہ کاٹ کر لاتیں اور ان کا اس طرح خیال رکھتیں کہ کسی دوسرے کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ ایک برس میں وہ اندر سے اس قدر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں کہ ان کے لیے پیدل چلنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ وہ راتیں روتے ہوئے گزارتی ہیں۔ انہوں نے زندگی بھر ایک ایک تنکا جوڑ کر جو گھر بنایا تھا‘ اس سے یوں علیحدہ ہونا اس قدر آسان نہیں تھا۔‘‘
شمالی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد نقل مکانی کرنے والے ادھیڑ عمر قبائلیوں کے حوالے سے کوئی مصدقہ اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث ہم کچھ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مرتب کیے گئے اندازوں پر انحصار کرسکتے ہیں جن کے مطابق 60برس سے زائد عمر کے تقریباً دو لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ جون 2014ء میں ابتدائی طور پرآٹھ لاکھ آئی ڈی پیز کو شمالی وزیرستان سے بنوں میں آباد کیا گیا تھا۔
بنوں سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جاوید اختر کہتے ہیں کہ وطن سے دوری نے آئی ڈی پیز پرمنفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ اگر آپ بوڑھا درخت اکھاڑ کر اسے اس امید کے ساتھ کسی دوسری جگہ پر لگاتے ہیں کہ وہ پہلے کی طرح زرخیز رہے گا تو یہ تصور سراسر غلط ہے۔ یہ درخت بہت جلد مرجھا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی اپنے گرد و نواح کے ماحول سے گہری وابستگی ہوتی ہے جس کے باعث ان کے لیے خود کو نئے ماحول میں ڈھالنا مشکل ہوتا ہے جیسا کہ ان کے لیے کیمپوں میں رہنا مشکل ہورہا ہے۔ان کا یہ احساس دھندلا گیا ہے کہ ان کا کوئی اپنا اثاثہ بھی ہے جس کے باعث وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
55برس کے وکیل خان بھی واپس جانے کے لیے غور و فکر کر رہے ہیں۔ ایک آئی ڈی پی کے طور پر وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔
انہوں نے پرنم آنکھوں کے ساتھ استفسار کیا:’’ کیا انسان اس طرح رہتے ہیں؟ کیاآپ اس کو زندگی کہتے ہیں؟ ہمارے گھر ہیں اور نہ ہی مساجد‘ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں چہل قدمی کی جاسکے۔ ہم مہمانوں کی تواضع یا اپنے بچوں کو ان کی مرضی کی خوراک فراہم نہیں کرسکتے۔یہ سراسر غلامی ہے۔‘‘
ایک اور آئی ڈی پی حامد خان نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے 85برس کے والد نے اپنا سامان تک نہیں کھولا تاکہ جب حکومت بحالی کے منصوبے کا اعلان کرے تو وہ جلد از جلد واپس لوٹ سکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب ان کے والد کی امید دم توڑتی جارہی ہے جس کا اظہار ان کی روز بروز گِرتی ہوئی صحت سے ہوتا ہے۔
بنوں میں آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں آباد ہر شخص آئی ڈی پیز کی بحالی کے حکومتی منصوبے سے متعلق بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک افسر فرمان خلجی نے کہا کہ حکومت آئی ڈی پیز کی بحالی کا منصوبہ تشکیل دے چکی ہے لیکن سکیورٹی وجوہات کے باعث اسے میڈیا میں جاری نہیں کیا جاسکتا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر خالد مفتی کہتے ہیں کہ ان کے 80فی صد مریضوں کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے اور ان کولاحق ہونے والے ذہنی عارضوں کا تعلق عسکریت پسندی اور اب نقل مکانی سے ہے۔ انہوں نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر خالد مفتی نے مزید کہا:’’ ذہنی امراض کا شکار افراد ڈرون حملوں، بمباری اوران کے علاقوں میں معاشی مواقع نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے عدم تحفظ کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔بہت سے مریض شیزوفرینیا کا شکار ہوچکے ہیں جب کہ حرکتِ قلب بند ہونے یا فالج کے باعث اموات بھی ہوئی ہیں۔‘‘
لیکن بہت سے آئی ڈی پیز ایسے بھی ہیں جو گرد و پیش کے حالات سے سمجھوتہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے بنوں میں کاروبار یا ملازمت شروع کردی ہے۔
ناہید خان بنوں میں ایک نیا ریستوران کھول چکے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ مجھے میر علی میں اپنے ریستوران کی یاد ستاتی ہے۔ لیکن میں خود کو کتنا عرصہ ماضی میں گم رکھ سکتا ہوں؟ مجھے آگے بڑھنا ہے اور اپنے خاندان کے لیے پیسہ کمانا ہے جس کے باعث ریستوران کھولا ہے۔‘‘
سپن وام سے تعلق رکھنے والے کچھ آئی ڈی پیز کی مارچ میں بحالی عمل میں آگئی تھی۔ یہ علاقہ مرکزی شہروں میر علی اور میرانشاہ کی طرح فوجی آپریشن سے متاثر نہیں ہوا تھا۔
میرعلی اور میرانشاہ فوجی آپریشن کا مرکز رہے ہیں۔ کوئی درست طور یر یہ نہیں جانتا کہ ان علاقوں میں کب بحالی کا عمل شروع ہوگا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here