کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

0
1880

لاہور: نیوز لینز پاکستان کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق  بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کم عمر گھریلو ملازمین (چار سے 16برس کی عمر تک) پر جسمانی تشدد کے واقعات میں 2015ء کی نسبت 2016ء میں 62.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔کے اعداد و شمار کے مطابق 2015ء میں کم عمر گھریلو ملازمین پر جسمانی تشدد کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، یہ تعداد 2016ء میں بڑھ کر 45 ہو گئی۔

گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کا حالیہ واقعہ اکبری گیٹ پولیس سٹیشن کی حدود میں ہوا جس میں 16 سالہ لڑکے اختر اور اس کی 14 برس کی بہن عاطیہ پر ان کی اثرو رسوخ کی حامل مالکن فوزیہ نے بدترین جسمانی تشدد کیا۔ اختر مناسب طبی امداد نہ ملنے کے باعث دم توڑ گیا۔ فوزیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے جس کے والد مسلم لیگ نواز سے صوبائی اسمبلی کے رُکن ہیں۔

نیوز لینز پاکستان کو نو برس کی گھریلو ملازمہ (ف) سے بات کرنے کا موقع ملا جو ان دنوں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں ہیں جنہیں ان کے مالکان نے چوری کے الزام میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کچھ پڑوسیوں نے شناخت ظاہر کیے بغیر ہیلپ لائن 1121 پر کال کرکے ملازمہ پر ہونے والے تشدد کے بارے میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو آگاہ کیا جس نے بچی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ (ف) کے والدین اس کا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے لہٰذا چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے نہ صرف بچی کو طبی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے علاوہ اس کے والدین کی ملزموں کے خلاف مقدمہ کے اندراج میں بھی مدد کی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی سربراہ صبا صادق دعویٰ کرتی ہیں:’’(ف) کوخوف کے حصار سے باہر نکالنا ایک بڑی ذمہ داری تھی اور چوں کہ بیورو میں ماہر نفسیات دان موجود ہیں جس کے باعث ہم بچی کو معمول کی زندگی میں واپس لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘‘

(ف) نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے اپنی تلخ یادوں کو تازہ کیا اور کہا:’’ باجی (مالکن) روزانہ مجھے صبح سویرے اٹھا دیتیں اور حتیٰ کہ مناسب خوراک بھی فراہم نہ کرتیں، وہ روز مجھ پر تشدد کیا کرتیں۔ انہوں نے مجھ پر اپنا قیمتی ہار چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور بدترین تشدد کیا جس کے باعث میں بے ہوش ہو گئی اور پھر مجھے خوراک اور ادویات کے بغیر ایک سٹور میں بند کر دیا گیا۔ مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا لیکن پھر میری مدد کے لیے کچھ لوگ آئے اور جب میں ہوش میں آئی تو چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود تھی۔‘‘

ایک ماہرِ نفسیات راوا حیدر زیدی نے نیوز لینز پاکستان سے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو تشدد کے اثرات سے نکالنا نہایت مشکل ہے لیکن مستقل توجہ اور مثبت ماحول ان کو واپس معمول کی زندگی میں لانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:’’بچوں پر تشدد کرنے والے لوگ عموماً ذہنی طورپر بیمار ہوتے ہیں اور ان کو بھرپور نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے دعویٰ کیا کہ وہ جب بھی کوئی معلومات حاصل کرتے ہیں تو فوراً متاثرہ فریق کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور سب سے پہلے اسے طبی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعدازاں ان کی قانونی مدد کی جاتی ہے۔ صبا صادق کہتی ہیں:’’چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے صرف لاہور میں کم عمر گھریلو ملازمین پر تشدد کے 11 مقدمات درج کیے ہیں جن میں سے نو مقدمات پر اب بھی سماعت جاری ہے جب کہ باقی دو مقدمات کے چالان عدالت کو مزید کارروائی کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں 2015ء میں 23 مقدمات درج کروائے گئے اور 2016ء میں یہ تعداد 21 تھی۔

قانون دان بیرسٹر میاں رحمان عزیز نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے اعداد و شمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 73 مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے صرف 11 لاہور میں رجسٹر ہوئے اور پنجاب میں مجموعی طورپر 44 مقدمات درج ہوئے۔ انہوں نے کہا:’’چائلڈ پروٹیکشن بیورو حکومت سے بڑے پیمانے پر فنڈز حاصل کر رہا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کو محفوظ ماحول فراہم کرے لہٰذا بیورو کو اپنی کوششوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ میاں رحمان عزیز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے نہیں سنا کہ گھریلو ملازمین پر تشدد کرنے والے کسی ملزم کو کبھی سزا ملی ہو اور انہوں نے اس کی ذمہ داری پولیس کی بری طرزِ تفتیش اور محکمۂ پراسیکیوشن کی عدم دلچسپی پر عائد کی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشنز پنجاب عامر زوالفقار خان نے اس حوالے سے یہ عذر پیش کیا کہ بہت سارے حالات میں متاثرہ فریق یا ان کے خاندان ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:’’میں آپ کے سامنے بہت ساری مثالیں پیش کر سکتا ہوں جب متاثرہ فریق یا ان کے خاندانوں نے ملزموں کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے پولیس یا عدالت میں ان کے حق میں تحریری بیان دے ڈالا۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here