سول ملٹری تنائو میں جلد کمی کا کوئی امکان نہیں

0
1970

اسلام آباد: حال ہی میں فوج کی جانب سے ایک متنازع ٹویٹ کے منظرعام پر آنے اور پھر اس کی ایک ہفتے سے زائد عرصہ کے بعد واپسی نے سنجیدہ نوعیت کے سول ملٹری تنائو کو ظاہر کیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے سول و ملٹری مقتدر حلقوں میں تنائو موجود ہے اور اس کے جاری رہنے اور مختلف سمتوں میں آگے بڑھنے کا خوف پیدا ہوگیا ہے جس کی ایک وجہ اس معاملے پر کی جارہی سیاست بھی ہے۔

29اپریل کو وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے فوجی ہیئتِ مقتدرہ کو بدنام کرنے کے لیے جاری ہونے والی متنازع خبرکی اشاعت کے پس پردہ محرکات کی شناخت کے لیے قائم خصوصی تفتیشی ٹیم کی سفارش پر دو حکام کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اس خبر میں بے نام حوالے دیے گئے تھے جس میں وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی قومی سلامتی کے ایک اجلاس میں سویلین قیادت نے عسکری ہیئتِ مقتدرہ کو پاکستان کی ’’بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی‘‘ کاذمہ دار قرار دیا تھا۔ اس خبر میں ان تحفظات کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا جو کچھ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے ظاہر کئے گئے تھے۔

تفتیشی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں دو حکام کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ وزیراعظم ہائوس کی جانب سے اس حکم نامے کے جاری کیے جانے کے چند لمحوں بعدہی ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) آصف غفور کی جانب سے ایک ٹویٹ کیا گیا جس میں کہا گیا:’’ ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا جانے والا نوٹیفیکیشن نامکمل ہے اور یہ انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے جس کے باعث ہم اسے رَد کرتے ہیں۔‘ ‘ اس ٹویٹ کے باعث کئی روز تک حکومت اور عسکری ہیئتِ مقتدرہ کے درمیان سنجیدہ نوعیت کا تنائو موجود رہا جو بالآخردونوں فریقوں کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوجانے پر ختم ہوا جس میں حکومت نے فوج کویہ یقین دہانی کروائی کہ وہ تفتیشی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے اس کے تحفظات دور کرے گی ، اس یقین دہانی کے بعد یہ قابلِ اعتراض ٹویٹ اس معاملے کے ابھرنے کے قریباً10روز بعد واپس لے لیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے 10مئی کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:’’ وزیراعظم کے احکامات ( ڈان لیکس کے حوالے سے تفتیش کرنے والی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے)حتمی ہیں۔ جوکچھ ہوا، وہ قابلِ افسوس ہے۔ اطراف نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی اور ایسا ہونانہیں چاہئے تھا۔ ‘‘ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ فوج آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا کسی بھی عام پاکستانی شہری کی طرح احترام کرتی ہے۔ ایک اور پریس ریلیز میں فوج نے مذکورہ ٹویٹ کو ’’واپس‘‘ لے لیا۔
ان حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوج آئین کی بالادستی قائم کرنے کے لیے مجبوراًپسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئی اورحکومت کی جانب سے کیے جانے والے بظاہر معذرت خواہانہ اجلاس کے انعقاد کے بعد ایسا ہوا۔ قبل ازیں حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم نے ڈان لیکس کے معاملے پر تفتیش کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے نامکمل حکم نامہ جاری کیا ’’جس کے بارے میں وزیراعظم‘‘ لاعلم تھے۔

کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار وجاحت مسعود نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں اس معاملے کو ایک تنبیہہ کے طورپردیکھنے کی ضرورت ہے ، اس کے بجائے کہ ہم اسے اطراف میں سے کسی ایک کی فتح یا شکست خیال کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا :’’ اگرچہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ٹویٹ واپس لیے جانے پر اپنی وقتی فتح پر خوش ہو کیوں کہ فوج کی بالادستی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ فراموش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس فتح سے سول و ملٹری تعلقات میں موجود عدم تواز ن تبدیل نہیں ہوا۔ ‘‘

وجاحت مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان میںسول و عسکری تعلقات میں عدم توازن کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک سویلین حکمرانوں کا پالیسی سازی کے امور پر مکمل کنٹرول قائم نہیں ہوجاتا۔ پاکستان میں اب بھی پالیسی سازی کے امور میں فوجی ہیئتِ مقتدرہ کا عمل دخل برقرار ہے اور جمہوری حکومتیں اس حوالے سے کوشش کررہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:’’اس کے ساتھ ہی ہمیں آنے والے مہینوں میں اس نوعیت کے معاملات اور تنائو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے ۔‘‘ وجاحت مسعود کے خیال میں اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد اگلے انتخابات سے قبل سول وملٹری محاذ آرائی پیدا کرکے موجودہ جمہوری نظام کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یہ ایک آرمی چیف کے لیے انتہائی مشکل ہوگاکہ وہ اپنی ایک ایسی فورس کے روبرو شکست تسلیم کرلے جو اَناپرست اور اپنی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں کیے جانے والے اقدامات سے ملک کے سیاسی و سکیورٹی کے تناظر میں صورتِ حال مزید واضح ہوگی۔

پاکستان میں سول وملٹری عدم توازن کی تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں ہمیشہ ہی طاقت کے ان دھاروں میں اختلافات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرچکی ہے۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں نوازشریف کی جماعت حزب اختلاف میں شامل تھی جنہوں نے اس وقت اپنی قانون کی ڈگری کو استعمال میں لاتے ہوئے برسرِاقتدار جماعت کو ’’میموگیٹ‘‘ سکینڈل میں سپریم کورٹ کی یاترا کروائی۔ یہ تنازع اس وقت 2011ء میں پیدا ہواتھا جب اس وقت کی حکومت کی جانب سے ایڈمرل مائیک مولن کو ارسال کیے جانے والے ایک میمورینڈم میں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد بظاہر اوبامہ انتظامیہ سے مدد کی اپیل کی گئی تھی تاکہ پاکستان میں فوج سویلین حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ نہ کرلے۔ اس وقت کی حزبِ اختلاف کی جماعت نے اسے فوجی ہیئتِ مقتدرہ کے خلاف سازش قرار دیا، یہ وہ الزام ہی ہے جس کا سامنا مذکورہ جماعت اب اقتدار میں آنے کے بعد کررہی ہے۔ ایک بار پھر سول ملٹری محاذ آرائی کے حوالے سے کچھ ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، موجودہ حکومت پر دبائو ہے کہ وہ انکوائری رپورٹ جاری کرے اور عوام کو اس بارے میں فیصلہ کرنے دیا جائے۔

سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی رہنما اعتزاز احسن فوج کے ترجمان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرچکے ہیں جو ان پریشان کن حالات کی وجہ بنے۔

حزبِ اختلاف کی ایک اہم جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’بنیادی سوال میں کوئی فرق نہیں آیا جیسا کہ کچھ ماہ قبل یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ آیا یہ متنازعہ خبر درست تھی یا نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’ حکومت کو واضح مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے یہ زور دیا کہ حکومت کو ڈان لیکس کے متعلق رپورٹ جاری کردینی چاہئے تاکہ اس حوالے سے جاری پروپیگنڈا بند ہوجائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here