پاکستانی سینما دہشت گردی کے خطرات اور بالی ووڈ کی یلغار کا مقابلہ کرنے میں کامیاب

0
2203
A view of the Pashtu movie posters outside the Arshad cinema at provincial capital of Khyber Pakhtunkhwa, Peshawer.Khyber Pakhtunkhwa, Cinema, Peshawer Izhar Ullah Copyright © News Lens Pakistan

لاہور ( قاسم علی سے)دہشت گردی کے خطرات اور بالی ووڈ فلموں کی مقامی سینما گھروں میں نمائش کے باوجود مقامی رنگوں سے آراستہ پاکستانی فلمی صنعت کے فروغ کے باعث انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ترقی کی جانب سفر شروع ہوچکا ہے ۔
مقامی فلموں کی سینما گھروں میں نمائش کے سبب ملک میںانٹرٹینمنٹ کا کاروبار بڑی حد تک بحال ہوچکا ہے۔ فلمیں باکس آفس پر نئے ریکارڈز بنا رہی ہیں جس کے باعث زوال پذیر پاکستانی سینمانے غیرمعمولی ترقی کی ہے۔وہ دن قصۂ پارینہ بن چکے جب سینما گھر بنیاد پرستوں اور پیش کاروں کا بنیادی ہدف ہوا کرتے تھے جو مقامی ٹیلنٹ کو تباہ کرنے کے لیے کیا ان کا استعمال کیا کرتے تھے۔ فلم ٹریڈ سے منسلک ماہرین کے مطابق امن و امان کے حالات میں واضح طور پرآنے والی بہتری اوربالخصوص ملک میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے صورتِ حال میں بہتری آئی ہے جس کے اثرات ہر شعبۂ زندگی بشمول انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ نے ریلیز کے صرف چار ہفتوں کے دوران ہی باکس آفس پر 27کروڑ روپے کا بزنس کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ رانگ نمبر، بن روئے، کراچی سے لاہور اور جلیبی نے بھی غیر معمولی بزنس کیا جب کہ سنجیدہ فلم بینوں کے لیے بنائی گئی فلموں جیسا کہ منٹوؔ اور مور نے ناقدین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل کی۔
پاکستانی فلم بینوں کے لیے اب بالی ووڈ فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ نہیں رہی ہیں۔ ایک سینما کے مالک نادر منہاس نے کہا:’’ اگر ہم باکس آفس پر گزشتہ 10ماہ کے دوران ریلیز ہونے والی فلموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ صرف ایک بالی ووڈ فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ نے 24.75کروڑ کا غیر معمولی کاروبار کیا۔ لیکن دیگر تمام انڈین فلمیں باکس آفس پر کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ نے دو بالی وڈ بلاک بسٹرز کے ریکارڈ توڑے جن میں ’’پی کے‘‘ اور ’’دھوم تھری‘‘ شامل ہیں جنہوں نے باکس آفس پر بالترتیب 24اور 22کروڑ روپے کا بزنس کیا تھا۔ ان دِنوں پاکستانی فلمیں باکس آفس پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔‘‘
مقامی رنگوں سے آراستہ معیاری فلموں کی ریلیزکے باعث پاکستان میں سینما کا کاروبار ترقی کر رہا ہے کیوں کہ فلم بینوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ یہ ان کے اپنے ملک میں بنی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے شہریوں میں چینی اور کونٹی نینٹل فوڈ خاصا مقبول ہے لیکن روایتی کھابے جیسا کہ بریانی اور نہاری کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستانی فلمی صنعت سے منسلک سٹیک ہولڈرز نے اسی رجحان کا مشاہدہ کیا ہے۔
پاکستان فلم پیش کنندگان ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور پلازہ سینما ، جسے لاہور میں 2009ء میں آئی ایس آئی کے دفتر پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں نقصان پہنچا تھا، کے مالک جہانزیب بیگ پاکستانی سینما کے بہتری کی جانب سفرکے حوالے سے انتہائی پُرامید دکھائی دیے۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فلمی صنعت دو دہائیوںتک تباہ حالی کا شکار رہنے کے بعد بحالی اور ترقی کے سفر کی جانب گامزن ہوچکی ہے۔
 شہری علاقوں میں سینمائوں کی بحالی کے بعد اب یہ رجحان چھوٹے شہروں کی جانب منتقل ہوچکا ہے جہاں مختلف گروپ پرانے سینمائوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیںا ور مارکیٹ کے نئے معیارات کے مطابق ان کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے اوریہ بھی زبردست کاروبار کر رہے ہیں۔ جہانزیب بیگ کا کہنا تھا:’’اگر ہم چیزوں کے بہتر ہونے کی رفتار کو مدِنظر رکھتے ہیں اور یہ عمل اسی طرح بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتا ہے تو یہ پیش گوئی کرنے میںکوئی عار نہیں ہے کہ آنے والے دو برسوں کے دوران یہ مزید منافع بخش کاروبار بن جائے گا۔‘‘
آئی میکس تھیٹر، سینماکی جدید ترین قسم ہے جو ان دنوں پاکستان میں فلم بینوں کو بھرپور تفریح فراہم کر رہا ہے۔ آئی میکس کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اس وقت صرف 57ملکوں میں دستیاب ہے اور آئی میکس تھیٹرز کی مجموعی تعداد 837ہے۔ پاکستان بھی آئی میکس کلب کا رُکن بن چکا ہے اور اولین آئی میکس تھیٹر کا افتتاح گزشتہ برس لاہور میں کیا گیا تھا جب کہ اسلام آباد اور کراچی میں جلد مزید دو آئی میکس سینما قائم کیے جائیں گے۔
فراز چودھری، جنہوں نے پاکستانی سینما انڈسٹری کو آئی میکس تھیٹرسے متعارف کروا کر ایک نئے انقلاب سے متعارف کروایا ہے، کہتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ کی صنعت ان دنوں جدت کے دور سے گزر رہی ہے۔ ’’انہوں نے پرجوش انداز میں مزید کہا:’’ انفراسٹرکچر بہتر ہورہا ہے‘ نئی سکریننگ ٹیکنالوجی متروک ہوچکے پروجیکٹرز کی جگہ لے رہی ہے‘ سکیورٹی کے رِسک فری اور بہترین انتظامات کیے گئے ہیں‘ سینماگھروں میں فلم بینوں کوبا اخلاق اور تعلیم یافتہ عملہ خوش آمدید کہتا ہے۔‘‘ ان تمام عوامل نے فلم بینوں کو سینما گھروںکی جانب متوجہ کیا ہے۔
فراز چودھری نے کہا کہ اگرچہ سینما کے کاروبار کی بنیاد طلب ورسد کے اصول پر قائم ہے لیکن مقامی فلمی صنعت نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور معیاری فلمیں پروڈیوس کیے جانے سے یہ مزید کامیاب ہوگی۔
ان خوش آئند نتائج نے گلیمر کی دنیا کی معروف شخصیات کو مقامی فلموں میں کام کرنے کی جانب متوجہ کیا ہے۔ معروف پاکستانی گلوکار علی ظفر، جنہوں نے اداکاری کے کیریئر کا آغاز بالی ووڈ سے کیااور وہ کامیاب فلموں جیسا کہ ’’میرے برادر کی دلہن‘‘ اور ’’چشم بدور‘‘ میں جلوہ گر ہوچکے ہیں،نے ’’دیوسائی‘‘ کے نام سے اپنی اولین فلم بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی فلم ہوگی جو انہوں نے بڑے پیمانے پر ریلیز کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔
آئی ایم جی سی گلوبل انٹرٹینمنٹ، یہ غیر ملکی فلموں کی پاکستان میں درآمد کا سب سے بڑا ادارہ ہے، کے ایگزیکٹو شیخ عابدکا نقطۂ نظر اس حوالے سے یکسر مختلف ہے۔ انہوں نے کہا:’’ پاکستانی فلمی صنعت فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے جس کے لیے ایک سال میں 50سے 60فلمیں ریلیز کرنا ممکن نہیں چناں چہ فی الحال بیرونی فلموں پر ہی انحصار برقرار رہے گا۔ اس تمام تر صورتِ حال کے باوجود حالات بہتر ہورہے ہیں اور نئے فلم میکر چند ہی برسوں میں سینما سرکٹ کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فلمیں شائقین کی اولین پسند بن رہی ہیں کیوں کہ یہ ان کے اپنے ملک میں پروڈیوس ہوئی ہیں۔
مزید برآں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ارتقاء کے باعث باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ لالی ووڈ سے منسلک سینماٹوگرافر کاشف رضوی، جو کام کی تلاش میں تگ و دو کرتے رہے ہیں، نے کہا:’’ کئی برسوں کے تعطل کے بعد بالآخر ایک گیت کی پروڈکشن کے لیے کیمرے پر اپنے فن کے اظہار کا موقع ملا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلی ویژن انڈسٹری کے باصلاحیت اداکاروں نے لالی ووڈ کے پرانے چہروں کو پرے دھکیل دیا ہے جس کے باعث شائقین بھی تازہ پن محسوس کرتے ہیںاور وہ چند سو روپے اوراپنا وقت صرف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
پاکستان کے نوجوانوں نے سینماگھروں میں بہتری کو خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ٹکٹوں کی ایڈوانس بکنگ نسبتاً ایک نیا رجحان ہے اور نوجوان دوستوں کے ساتھ فلم دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایک فلم بین علی ذیشان نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ جدید ترین ٹیکنالوجی، موضوعات کا متنوع ہونا اور سینماکی صنعت کی بحالی کے باعث نوجوان پرجوش ہیں کیوں کہ پاکستان کے رجعت پسند معاشرے میں ان کے لیے انٹرٹینمنٹ کے محدود مواقع دستیاب تھے لیکن سینما انڈسٹری کی ترقی نے اس خلا کو پُر کیا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی سے سینما کی صنعت کو ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل ہے جس نے انٹرٹینمنٹ کی صنعت کے حالیہ انقلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فلم ٹریڈ سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ اب حکومت ٹیکس عاید کردے گی کیوں کہ اس شعبے کا بڑی حد تک احیاء عمل میں آچکا ہے۔ اس وقت یہ واضح ہوگا کہ کیالالی ووڈ اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی ہے ؟یا اسے اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے درآمد شدہ فلموں کی صورت میں بیرونی امداد پرہی انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here