غیر مسلم طالب علموں کے لیے الگ نصاب کی تشکیل ممکن نہ ہوسکی

0
5042

پشاور ( اسد خان سے) کیا آپ کو یاد پڑتا ہے کہ آپ کے غیر مسلم ہم جماعتوں نے اسلامیات کا مضمون نہ پڑھا ہو ؟
پشاور شہر کے وسط میں آباد ایک قدیم اور پُررونق آبادی ڈبگری گارڈن کے ایک سرکاری سکول میں زیرِتعلیم جماعت ششم کے طالب علم دلراج کے لیے اسلامیات کی جماعت چھوڑ کر اپنی مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔
ڈبگری گارڈن میں تقسیم کے قبل سے متعدد ہندوخاندان آباد ہیں‘ دلراج کا تعلق بھی ان خاندانوں میں سے ایک سے ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’ اسلامیات کا مطالعہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیوں کہ غیر مسلم طالب علموں کے لیے نصاب میں اخلاقیات اور ہندوازم کے مضامین شامل نہیں ہیں۔‘‘
ملک کے مشنری سکولوں میں یہ رجحان ضرور غیر معمولی شرح سے پروان چڑھا ہے کہ مذہبی تعلیمات نصاب کا حصہ تو بنائی گئی ہیں لیکن ان سے بنیادی طور پر صرف مسیحی طالب علم ہی مستفید ہوسکتے ہیں اور خاص طور پر نجی سکول تو مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی خدمات تک حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سرکاری سکولوں میں زیرِتعلیم غیر مسلم پاکستانی طالب علم ایسی کسی سہولت سے محروم ہیں۔
دلراج کے مطابق ڈبگری گارڈن کے سرکاری و نیم سرکاری سکولوں میں تقریباً80 غیر مسلم طلبا و طالبات زیرِتعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم طالب علموں کے لیے سرکاری سکولوں میں اسلامیات کا مضمون پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
دلراج کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اول سے جماعت ہفتم تک غیر مسلم طالب علم اسلامیات کا مطالعہ کرتے ہیں جس کے بعد وہ اخلاقیات کے مضمون سے متعارف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ ہم چوں کہ ابتدا سے ہی اسلامیات کے مضمون کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں تو اگلی جماعتوں میں اخلاقیات کے مضمون کا مطالعہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ طالب علموں کی نصاب سے کوئی واقفیت نہیں ہوتی جس کے باعث ہم اس کا درست طور پر مطالعہ نہیں کرپاتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا:’’ ان وجوہات کے مضمرات بھی برآمد ہوتے ہیں جیساکہ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد فیل ہوجاتی ہے یا پھر اخلاقیات کے مضمون میں اس قدر مارکس حاصل نہیں کرپاتی جو صرف اعلیٰ تعلیمی معیار کے سکولوں میں پڑھایا جاتاہے۔‘‘
پاکستان کے دستور کے آئین 20-A، 22-1اور 25-1کے تحت شہریوں کو اپنے مذہب کا مطالعہ کرنے کا یکساں اختیار حاصل ہے۔ تاہم محکمۂ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے صوبہ بھر میں غیر مسلم طالب علموں کی تدریس کے لیے ایک بھی استاد کا تقرر نہیں کیا گیا جب کہ سرکاری سکولوں میں غیر مسلم طالب علموں کی تدریس کے لیے الگ نصاب کی تشکیل و تیاری کا عمل بھی شروع نہیں ہوا۔
آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں ہندوؤں کی آبادی تقریباً دو لاکھ ہے۔
پاکستان مائنارٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشن سے منسلک پروفیسر انجم جیمز پال نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم پاکستانی بھی اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان نے ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا یکساں حق فراہم کیا ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا:’’ لیکن حکومت غیر مسلموں کے لیے الگ تعلیمی اداروں کے قیام یا نصاب کی تشکیل میں ناکام ہوچکی ہے۔‘‘ پروفیسر انجم نے مزید کہا کہ ان کے بچے اسلامیات کا مضمون پڑھنے پر مجبو رہیں۔ ان کا کہنا تھا:’’ سرکاری سکولوں میں زیرِتعلیم غیر مسلم بچوں کے لیے اسلامیات کا مطالعہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور وہ اسی مضمون کا امتحان دینے پر مجبور ہیں۔‘‘
پروفیسر انجم نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے تحت سرکاری ملازمتوں میں غیر مسلموں کے لیے دو فی صد کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے لیکن وہ اس سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولو ں میں کوئی ایک غیر مسلم استاد بھی تعینات نہیں کیا گیا۔
پروفیسر انجم نے کہا:’’ اگر حکومت آئین پر عمل کرتی اور غیر مسلم آبادی کو دو فی صد کوٹے کے تحت سرکاری ملازمتیں فراہم کی جاتیں توسرکاری سکولوں میں مذہبی مضامین کی تعلیم کا مسئلہ اس قدر سنگین رُخ اختیار نہ کرتاکیوں کہ سرکاری سکولوں میں غیر مسلم اساتذہ اقلیتی طالب علموں کی تدریس کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ غیر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ تعینات کیے جائیں اور اقلیتی طالب علموں کی مذہبی تعلیم کے لیے الگ انتظامات کیے جائیں لیکن ایسی کوئی کوشش ثمر آور ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے استفسار کیا:’’ اگر پاکستان کا دستور ہر شہری کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے تو حکومت بچوں کے لیے الگ نصابی کتابوں کی تشکیل اور تدریس کا بندوبست کرکے غیر مسلم شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم کیوں رکھ رہی ہے؟
پروفیسر انجم نے وضاحت کی کہ اخلاقیات کے مضمون میں صرف اسی سے مطابقت رکھنے والے موضوع کا احاطہ کیا گیا ہے اور مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت تمام غیر مسلموں کے لیے ان کے مذہب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے الگ نصاب کی تشکیل کے علاوہ سرکاری سکولوں میں اس کی تدریس کے لیے غیر مسلم اساتذہ کا تقرر بھی یقینی بنائے۔ 
خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کا بنیادی مقصد صوبہ بھر کے سکولوں میں نصابی کتب کی فراہمی یقینی بنانا ہے ‘ ٹیکسٹ بک بورڈ سے منسلک ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم غیر مسلم طالب علموں کے لیے اخلاقیات کے مضمون پر کتابیں شایع نہیں کیں۔
مذکورہ افسر نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہے کہ مختلف مذاہب کے لیے مختلف کتابوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا:’’ اخلاقیات کے مضمون پر مبنی تمام کتابیں پنجاب سے منگوائی گئی ہیں جو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے متعین کیے گئے نصاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ حکومت کی ہدایات کے مطابق ہی کتابوں کو شایع کرتا ہے اور بورڈ کوغیر مسلموں کے لیے الگ نصاب تیار کرنے یا اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
صوبے میں معیارِ تعلیم بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی تربیت کے لیے قائم ادارے ڈائریکٹوریٹ آف کیریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن (ڈی سی ٹی ای) کے ڈائریکٹر بشیر حسین شاہ نے کہا:’’ملک بھر میں غیر مسلم طالب علموں کے لیے اقلیتی آبادی کے عمائدین، نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کی معاونت سے نصابی کتابیں مرتب کی جاتی ہیں۔‘‘ 
بشیر حسین شاہ نے کہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کے غیر مسلم عمائدین کی مشاورت کے بعد ہی پنجاب سے اخلاقیات کے موضوع پر کتابیں منگوائی ہیں۔
خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایک افسر کے مطابق مذہبی پارٹی جماعتِ اسلامی اور عمران خان کی برسرِاقتدار جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی تجاویز پر نصابی کتابوں میں مختلف تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی قوتِ سماعت سے محروم نابینا کارکن اور ماہرِ تعلیم ہیلن کیلر پر انگریزی کی جماعت نہم کی نصابی کتاب میں شامل مضمون کو ہٹا کر نبی کریمؐ اور خلفائے راشدین پر مضامین شامل کیے جاچکے ہیں۔
مذکورہ افسر نے کہا کہ جماعت دہم اورایف ایس سی پارٹ ون میں حیاتیات اور طبیعات کے مضامین میں قرآنی آیات شامل کی گئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کی آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن ، جو صوبے میں پرائمری کے درجے تک تعلیم دینے والے اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، کے صدر ملک خالد خان نے تصدیق کی کہ سرکاری سکولوں میں کوئی غیر مسلم استاد بھرتی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ پشاور، مردان اور نوشہرہ میں ان سکولوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جہاں غیر مسلم طالب علم زیرِتعلیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرائمری کی سطح پر غیر مسلم طالب علموں کے لیے الگ نصاب موجود نہیں ہے جس کے باعث وہ اسلامیات کامضمون پڑھتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here