خیبرپختونخوا حکومت ترقیاتی فنڈز استعمال نہ کرسکی

0
3585

پشاور (اظہار اللہ سے)برا مت مانیے اگر آپ کے مارکس 100فی صد کے نصف سے بھی کم آئیں ہیں۔ ماضی میں کچھ طالب علموں کے پیشِ نظرامتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے کے بجائے پاس ہونا اہم ہوتا تھا‘ اُس وقت امتحانات میں کامیاب ہونے کے لیے 33فی صد مارکس حاصل کرنا ضروری تھا جس کے بعد اگلی جماعت میں داخلہ ملتا۔ 
اینول ڈویلپمنٹ پلان( اے ڈی پی) پر عملدرآمد کے ضمن میں خیبر پختونخوا حکومت نے 33فی صد سے بھی کم مارکس حاصل کیے ہیں۔ ان نتائج کے بعدبرسرِاقتدار تحریکِ انصاف کارکردگی کے میزانیے میں کہاں کھڑی ہے جس کی قیادت سابق کرکٹر اور اب سیاست دان عمران خان کررہے ہیں۔
ماہرین میں یہ رائے تقویت پاچکی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دعوؤں سے کم تر کارکردگی دکھائی گئی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی( پلڈاٹ) ، جو صوبائی حکومتوں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے، نے پاکستانِ تحریکِ انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا کواے ڈی پی پر عملدرآمد کے ضمن میں 2013-14ء کے لیے 31فی صد سکور دیا ہے۔
پلڈاٹ کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گورننس پر ملنے والے اس قدر کم سکور کی توثیق ایک اور تنظیم سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹیبلٹی (سی جی پی اے) ، جو معیاری گورننس کے شعبہ میں کام کر رہی ہے،کی تحقیق سے بھی ہوتی ہے جو یہ کہتی ہے کہ اے ڈی پی کے لیے مختص کیے گئے مجموعی بجٹ میں سے صرف 45فی صد ہی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے استعمال کیا گیا ہے۔
نیوز لینز کو دستیاب ہونے والی سی جی پی اے کی ایک پریس ریلیز کے مطابق :’’خیبرپختونخوا حکومت نے اے ڈی پی کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے گئے 139.8ارب روپے میں سے پانچ جون 2015ء تک صرف 62.9ارب روپے ہی استعمال کیے تھے۔ ‘‘
پلڈاٹ ایک مربوط فریم ورک کے تحت صوبائی حکومتوں کی گورننس کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے جب کہ سی جی پی اے کے بجٹ کے استعمال کے حوالے سے اعداد و شمار سے پلڈاٹ کی تحقیق کی توثیق ہوتی ہے۔
پلڈاٹ کی رپورٹ سے یہ منکشف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی گورننس کے ضمن میں مایوس کن رہی ہے۔پلڈاٹ کی اس کاوش میں گورننس کے معیار کو جانچنے کے تناظر میں ان شعبوں کو نمایاں کیا گیا ہے جن میں بہتری کی گنجائش ہے تاکہ گورننس کا معیار بہتر ہو۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے رکن اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شوکت یوسف زئی نے پلڈاٹ کی تجزیاتی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اے ڈی پی کا 90فی صد سے زائد بجٹ استعمال کیا جاچکا ہے۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ الیکٹرانک ٹینڈر دینے کے طریقۂ کار کے باعث اے ڈی پی میں کچھ خامیاں رہ گئیں جن کے باعث منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجراء میں تاخیر ہوئی۔
شوکت یوسف زئی نے نیوز لینز سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا:’’ صوبائی حکومت ٹینڈردینے کے طریقۂ کار کو تبدیل کرچکی ہے جس میں کنٹریکٹرز کو منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز کے اجرامیں زیادہ وقت لگتا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے جاچکے ہیں جن پر اے ڈی پی کے 90فی صدفنڈز خرچ ہوں گے۔
پلڈاٹ کا گورننس کے معیار اور پاکستان کی صوبائی و وفاقی حکومتوں کی کارکردگی جانچنے کے فریم ورک نے بہت سے عالمی فریم ورکس سے استفادہ کیا ہے۔ یہ فریم ورک چاروں صوبوں کے معروف ماہرین کے 27رکنی گورننس اسیسمنٹ گروپ کی تجاویز کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مقامی طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ 
پلڈاٹ نے صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ 24پیرامیٹرز کی بنیاد پر لیا ہے جن میں پالیسی کی تشکیل۔۔۔ قانون سازی اور اداروں کا قیام شامل ہے اور ان پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔
سالانہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے ضمن میں پنجاب اور بلوچستان 40فی صد کے ساتھ پہلے ، سندھ 36فی صد کے ساتھ دوسرے جب کہ صوبہ خیبرپختونخوا 31فی صد کے ساتھ اس درجہ بندی میں سب سے آخرمیں ہے۔
ماہرین کی جانب سے پی ٹی آئی کی حکومت پر گزشتہ برس اے ڈی پی پر مصنوعی عملدرآمد کے باعث بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی جب ترقیاتی فنڈز کا ایک بڑا حصہ فیڈریشن کوواپس منتقل ہوگیا کیوں کہ یہ فنڈز خرچ نہیں ہوئے تھے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار اور باچا خان ایجوکیشن ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر خادم حسین پلڈاٹ کی تجزیاتی رپورٹ کومعتبر تصور نہیں کرتے جس میں خیبرپختونخوا حکومت کو بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے سرفہرست ٹھہرایا گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی حکمرانی کا اندازہ اے ڈی پی پر عملدرآمد میں غفلت سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔
خادم حسین نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ گزشتہ برس خیبرپختونخوا حکومت 70فی صد تک ڈویلپمنٹ فنڈز خرچ نہیں کرسکی تھی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی توجہ اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے چند مخصوص افراد کو نوازنے پر ہے۔
خادم حسین نے مزید کہا کہ حکومت نے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات تک انتظار کیا تاکہ انتخابات میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مقابل برتری حاصل ہوسکے۔
انہوں نے گورننس کا جائزہ لینے کے لیے پلڈاٹ کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقۂ کار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ رپورٹ میں حکومتی محکموں کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار پر انحصار کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا:’’ ایسی رپورٹوں کے لیے فراہم کیے گئے اعداد و شمار اکثر و بیش تر قابلِ اعتبار نہیں ہوتے۔‘‘
حادم حسین نے تجویز پیش کی کہ پالیسی کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد سب سے اہم ہے جس کے بعد ہی حکومت کی کارکردگی جانچی جاسکتی ہے۔
گورننس کی جانچ کے لیے دیگر پیرامیٹرز میں انسدادِ کرپشن، مینجمنٹ، تعلیم، صحت اور بچوں کی امیونائزیشن شامل ہیں جس میں صوبہ خیبرپختونخوا نے بالترتیب 35فی صد، 39فی صد، 45فی صد اور 34فی صد سکور حاصل کیا ہے۔ پنجاب نے اس ضمن میں تمام صوبوں سے زیادہ بالترتیب 56فی صد، 47فی صد، 48فی صد اور 49فی صد سکور حاصل کیا۔
تاہم معیاری گورننس کے 22پیرامیٹرز میں سے خیبرپختونخوا دو پیرا میٹرز میں پہلے نمبر پر رہا جن میں بے روزگاری اور غربت پر قابو پانا شامل ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوامعیاری گورننس کے مجموعی طور پر24پیرامیٹرز میں 37فی صد سکور حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہا جب کہ پنجاب حکومت 42فی صد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔
اس جائزے میں بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں نے 34فی صد سکورحاصل کیا اور یہ دونوں صوبے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعد تیسرے نمبر پر رہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر، کیوں کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، کہا کہ اے ڈی پی پر اس لیے عملدرآمد نہیں کیا گیا کیوں کہ حکومت نے کنٹریکٹرز کے لیے نئے قواعد اور شرائط لاگو کر دی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں کنٹریکٹرز کو منصوبوں پر کام شروع کیے جانے سے قبل ہی فنڈز جاری کر دیے جاتے تھے ۔ ان کا مزید کہنا تھا:’’ اب پالیسی تبدیل ہوچکی ہے اور کنٹریکٹرز اس وقت تک فنڈز حاصل نہیں کریں گے جب تک منصوبے پر مناسب طور پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔‘‘ 
مذکورہ افسر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ٹینڈر کا عمل متعارف کروائے جانے کے باعث منصوبوں پر عملدرآمد تاخیر کا شکارہے کیوں کہ یہ صوبہ میں برسرِاقتدار رہنے والی گزشتہ حکومت کے نظام کی نسبتاً زیادہ مفصل اور شفافیت کا حامل ہے۔
جب اے ڈی پی فنڈ کے بچ جانے کے بارے میں استفسار کیا گیا جس کا ذکر خادم حسین نے کیا تھاتو محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کے اس افسر نے کہا کہ قبل ازیں کنسٹرکشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ استعمال نہ ہونے والے فنڈز جون کے ماہ میں بجٹ پیش ہونے سے قبل بنک اکاؤٹ میں جمع کروا دیتا تھا۔انہوں نے کہا:’’ یہ اس کا کوئی قانونی طریقہ نہیں تھا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا:’’ اب یہ روایت(جیسا کہ بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنا) نہیں دہرائی جارہی جس کے باعث کنٹریکٹر کو یا تو اپنا منصوبہ مکمل کرنا ہوگا یا وہ محکمہ سے اپنی رقم واپس لیں گے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here