پنجاب بھر کے پولیس سٹیشنوں میں موبائل ٹریکنگ یونٹ قائم کیے جائیں گے

0
4660

لاہور ( حسن نقوی سے) اکبر علی کا ایک مسلح ڈکیتی میں لیپ ٹاپ، ٹیلی ویژن سیٹ، زیورات ، موبائل فون اور دیگر اشیا چھِن گئی تھیں جس کا مقدمہ اس نے مسلم ٹاؤن پولیس میں درج کروایا لیکن اس کو کسی قسم کی پیش رفت کی کوئی امید نہیں تھی۔
اکبر علی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب پولیس نے ای ایم ای آئی اور موبائل ٹریکنگ کے لوکیشن ایریا کوڈ کی تکنیکوں کے ذریعے نہ صرف ملزم کو گرفتار کرلیا بلکہ اس کی چھِن جانے والی تمام اشیا بھی برآمد کرلیں۔
اکبر علی کا مقدمہ ان دو سو مقدمات میں سے ایک تھاجن کا لاہور پولیس نے شہر میں موبائل ٹریکنگ سسٹم کے اجرا کے بعد کھوج لگایا ہے۔
نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن ڈاکٹر عارف نواز نے انکشاف کیا کہ لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق احمد سکھیرا نے صوبہ بھر میں موبائل ٹریکنگ سسٹم قائم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی پولیس افسروں کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام شروع کیا جارہا ہے جس کے اختتام کے بعد پنجاب بھر کے تمام پولیس سٹیشنوں میں موبائل ٹریکنگ یونٹ قائم کردیے جائیں گے۔ ڈاکٹر عارف نواز نے کہا کہ تربیتی پروگرام دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تربیتی پروگرام کے پہلے مرحلے میں شرکاانٹرنیشنل موبائل فون ایکوئپمنٹ آئیڈینٹٹی ، انٹرنیشنل موبائل سبسکرائبرآئڈینٹٹی، لوکیشن ایریا کوڈ اور موبائل آئی ڈی کے بارے میں سیکھیں گے۔تربیتی پروگرام کے دوسرے مرحلے میں ان سے آئی ایم ای آئی، جیو ٹیگنگ اور آئی ایم ایس آئی کی مدد سے موبائل فونوں کا کھوج لگانے کے لیے کہاجائے گا۔ انٹیلی جنس بیورو کے اعلیٰ حکام حاضرین کو اس موضوع پر لیکچر دیں گے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کاشف مشتاق کانجو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور بروقت کارروائی کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرا م سے پولیس کاموبائل فون کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے ضمن میں خفیہ اداروں پر انحصار ختم ہوجائے گا۔ پولیس اہلکار اعلیٰ تیکنیکوں سے آگاہ ہوجائیں گے جس سے صوبہ کی پولیس کے تفتیشی اور آپریشن ونگز کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
کاشف مشتاق کانجو نے کہا کہ جدید آلات کے مقبولِ عام ہونے کے باعث موبائل فون کی ٹریکنگ کی تکنیکوں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا ڈالنا آسان ہوچکا ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن حیدر اشرف نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پولیس میں موبائل ٹریکنگ سسٹم متعارف کروانے کا تجربہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ موبائل ٹریکنگ یونٹس سٹریٹ کرائمز پر نظر رکھتے ہوئے ایک ماہ میں دو سو سے زائد جرائم پیشہ عناصر کا کھوج لگانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موبائل ٹریکنگ یونٹ کے دو اہلکار، جن میں ایک کانسٹیبل اور ایک اور اہل کار شامل ہے‘ لاہور کے ہر پولیس سٹیشن میں تعینات کیے جاچکے ہیں۔
حیدر اشرف نے کہا کہ لاہور پولیس کے لیے یہ اَمر حوصلہ افزا ہے کہ موبائل ٹریکنگ یونٹ پنجاب بھر میں متعارف کروائے جارہے ہیں‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کو دہشت گردی اور اغوا کی کارروائیوں کے تدارک کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ بڑے شہروں میں پولیس کودیہی علاقوں کی نسبت بہتر سہولیات میسر ہیں ۔ تربیت و ٹیکنالوجی سے ان کو جدید خطوط پر کام کرنے اور غیر قانونی سموں اور سیلولر کمپنیوں پر یہ دباؤ ڈالنے میں مدد ملے گی کہ وہ نئے کنکشن دیتے ہوئے قوانین کی پاسداری کریں۔
انہوں نے اس تصور کو رَد کیا کہ موبائل کی ٹریکنگ پرائیویسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے ‘ حیدر اشرف نے کہا :’’ ہم صرف جرائم پیشہ عناصر اور ان کے ساتھیوں کے ڈیٹا کا کھوج لگاتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ ہم عام لوگوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کرتے۔ اس ٹیکنالوجی کا چوری ہونے والے موبائل فونوں کا کھوج لگانے یا جرائم پیشہ عناصر کو گرفت میں لینے کے لیے استعمال جائزہے۔‘‘
لاہور کے موبائل ٹریکنگ یونٹ میں کام کرنے والے کانسٹیبل ریاست علی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی پروگرام سے پولیس اہلکاروں کو جرائم پیشہ عناصر کوکم سے کم وقت میں حراست میں لینے میں مدد ملے گی۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر نگہت داد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے موبائل ٹریکنگ کو پرائیویسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا:’’ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جاسوسی کی صلاحیتوں کو لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کے ذریعے بڑھا رہے ہیں۔ جاسوسی کی تمام تر سرگرمیوں میں غالباً موبائل فون کے مقام کا کھوج لگانا سب سے مؤثر ہے جو کسی قسم کے وارنٹ‘ عدلیہ کی نگرانی اور ضابطۂ اخلاق کے بغیر کیا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس کا تعلق صرف متعلقہ شخص کاکھوج لگانے سے نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے اس کی شناخت کے بارے میں بہت سی نجی نوعیت کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ نگہت داد نے مزید کہا:’’ اگر شک کی کوئی ٹھوس وجہ ہو تو پولیس موبائل فونوں کو ٹریک کرنے کے لیے وارنٹ حاصل کرے۔ محکمۂ پولیس کی موبائل ٹریکنگ کی پالیسی واضح ہونی چاہیے جس تک عوام کو رسائی حاصل ہو جب کہ اس میں نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘‘
تاہم لاہور ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ حیدر رضا نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کے حصول کے ایکٹ 13کے تحت پولیس کو شواہد حاصل کرنے کے لیے جدید آلات کے استعمال کی اجازت ہے جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے موبائل ٹریک کرنے کے لیے عدالت سے وارنٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لاہور کے ایک شہری انور احمدفکرمند دکھائی دیے‘ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال غلط نہیں ہے ‘ ظاہر ہے کہ اس کے ذریعے بہتر پولیسنگ ممکن ہوگی لیکن ’’ہم ماضی میں پولیس کو اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا:’’ یہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس سٹیشنوں میں موبائل ٹریکنگ یونٹوں سے منسلک ہونے والے اہلکاروں کے بارے میں یہ یقینی بنائیں کہ وہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here