کیا توانائی کے بحران کا خاتمہ ہنوز ایک خواب ہے؟

0
5301

: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzai

لاہور ( شہرام حق سے) پاک چین اقتصادی راہداری (پی سی ای سی ) کے تحت شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن طلب و رسد میں موجود فرق کو ختم کرنے اور توانائی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کی ضرور ت ہے۔ 
ماہرین کے مطابق حالیہ توانائی کے بحران کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں ترسیل کے نظام کی شکستہ حالی، لائن لاسز ، بجلی کی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی، کرپشن، بڑھتی ہوئی طلب اور توانائی پیدا کرنے کے لیے درآمد کیے گئے ایندھن پر انحصارشامل ہے۔ان تمام مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات سے نبردآزما ہوا جاسکے لیکن گردشی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرناسب سے اہم ہے۔
وزارتِ پانی و بجلی کے ترجمان ظفریاب نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے اگلے عام انتخابات سے قبل طلب و رسد کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیاجس کا تعلق موجودہ پالیسیوں کے بلاتعطل جاری رہنے پر ہے۔
انہوں نے کہا:’’ موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں توانائی پیدا کرنے کے لیے نئے ذرایع کی تلاش، جاری منصوبوں کو مکمل کرنا اور بجلی کی درآمد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اقدامات محدود، درمیانے اور طویل عرصے کے لیے ہیں۔ یہ یقین پایا جاتا ہے کہ اگر مذکورہ بالا اقدامات کیے جاتے ہیں تو2017-18ء تک ملکی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا ہونے لگے گی۔‘‘
لیکن توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے سے قبل حکومت کو گردشی قرضوں سے جان چھڑانی ہے جو نجی و سرکاری شعبے کی مشترکہ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
2013ء میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے برسرِاقتدار آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی وزارتِ خزانہ نے 480.1ارب روپے کے فنڈزجاری کیے تاکہ 503.1ارب روپے کا گردشی قرضہ چکایا جاسکے۔ تاہم حکومت نے 22.9ارب روپے کے فنڈز ادا نہیں کیے۔
لیکن 2015ء تک توانائی کے شعبہ کے مجموعی گردشی قرضے ایک بار پھر تشویش ناک حدتک بڑھ گئے جو 647.6ارب روپے تک جاپہنچے ہیں۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی ) کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار سے یہ منکشف ہوا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کو 201.6ارب جب کہ نجی شعبہ کو 408ارب روپے تقسیم کار کمپنیوں کو ادا کرنے ہیں۔
پیپکو کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ اس طرح کے حالات میں اگر کوئی سرمایہ کار توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔ آپ نجی صارفین سے یہ امید کس طرح کرسکتے ہیں کہ وہ بجلی کے بل ادا کریں جب حکومت خود ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے؟ پاکستان میں توانائی کا شعبہ بیرونی مداخلت کا سب سے زیادہ شکار ہے اور تقریباً ہر ادارے نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔‘‘
ماہرین کہتے ہیں کہ بجلی کی کم قیمت پر فراہمی کے لیے سبسڈی دیے جانے کے باعث گردشی قرضہ بڑھا ہے جس کے باعث آئی پی پیز کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کریں‘لیکن وزارتِ پانی و بجلی کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی اور لائن لاسز کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
بجلی پیدا کرنے پر ہونے والے غیر معمولی اخراجات کے باعث بھی حکومت طلب پورا کرنے کے قابل نہیں ہوسکی تاہم حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے تحت اب وہ مقامی وسائل پر زیادہ انحصار کر رہی ہے تاکہ فی یونٹ بجلی پر ہونے والے اخراجات کو اس قدر کم کر دیا جائے کہ حکومت بجلی پر ہونے والے اخراجات اوراس کی قیمت میں توازن قائم کرسکے۔
پاکستان اس وقت بڑی حد تک حرارتی توانائی پر انحصار کررہا ہے جس کے لیے درآمد شدہ تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پاکستان کا مقامی وسائل پر انحصار کم ہوا ہے۔ مثال کے طور پر 2013ء تک پاکستان کا ہائیڈو پاور پر انحصار کم ہوکر 29فی صد رہ گیا جو 1980ء میں 60فی صد تھا۔ اسی طرح اس کا تھرمل پاور پر انحصار 68فی صد ہوگیا جو 1980میں صرف 40فی صدتھا۔
بڑے پیمانے پر یہ مانا جاتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کا تعلق نامناسب پیداواری صلاحیت اور ایندھن کے غلط انتخاب پر ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے تشکیل دیے گئے انرجی پلاننگ ایکسپرٹ گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013-2020ء کے دوران پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا7.5فی صد کی شرح سے بڑھنے کا امکان ہے اور طلب جس کا فی الحال اندازہ 24,230میگاواٹ لگایا گیا ہے‘ سالانہ 7.8فی صد کی شرح سے بڑھ کر 31,895میگاواٹ ہوجائے گی۔
تاہم طاہر بشارت چیمہ نے کہا کہ 2030ء تک توانائی کی طلب ایک لاکھ میگاواٹ سے بڑھ جائے گی جسے پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مقامی وسائل کو استعمال کرنا نہایت اہم ہوگا۔ پی سی ای سی کے تحت چین کی جانب سے کم قیمت پر بجلی کی پیداور کے لیے مقامی وسائل استعمال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ چینی سرمایہ کاروں نے بھی مقامی وسائل استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کررکھی ہے جن میں پانی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنابھی شامل ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مختلف اداروں کی مدد سے حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی سے ایک لاکھ 40ہزار میگاواٹ تک بجلی پیداکی جاسکتی ہے جب کہ تھر میں کوئلے کے 175ارب ٹن کے ذخائر سے اگلے کئی برسوں تک لاکھوں میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
گلوبل مائننگ لمیٹڈ چین کے چیف ایگزیکٹو افسرویکائی گاؤ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا :’’ پاکستان کو پانی اور کوئلے کے پاور پلانٹ قائم کرنے میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں فی یونٹ بجلی کم قیمت پر حاصل کی جاسکے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کو طلب و رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے کئی برس درکار ہیں جیسا کہ اس کی توانائی کی طلب میں اس کی آبادی کے بڑھنے کی شرح کی نسبت زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان میں آبادی کے بڑھنے کی شرح2.7فی صد ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔۔۔انڈیا میں یہ شرح 2.4اور سری لنکا میں 1.3فی صد ہے۔
طاہر بشارت چیمہ نے کہا:’’ اگر حکومت ساختیاتی مسائل حل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو درستی کی جانب پیش رفت کا فوری طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر بنیادی مسائل حل کیے جاتے ہیں توپاکستان میں تین سے پانچ برس کے دوران توانائی کے شعبہ کی بحالی عمل میں آجائے گی۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here