انسانی سمگلنگ میں اضافہ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

0
3622

لاہور (احسان قادر سے) پاکستان سے انسانی سمگلنگ میں تشویش ناک رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ پاکستان سے سالانہ 10ہزار سے زائد افراد غیر قانونی طور پر خلیجی ممالک، متحدہ عرب امارات، ترکی، یورپ اور جنوبی افریقہ کا رُخ کررہے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے دنیا بھر سے ہونے والی انسانی سمگلنگ پر نظر رکھنے والے ذیلی ادارے کی جانب سے 28دسمبر 2014ء کو جاری کی گئی ٹریفکنگ ان پرسنز (ٹی آئی پی) رپورٹ 2014ء کے مطابق ،’’ حکومتِ پاکستان نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تجویز کیے گئے کم از کم معیارات کو بھی مکمل طور پر اختیار نہیں کیا ، تاہم وہ اس ضمن میں کوشاں ضرورہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں منظم انداز سے ہونے والی کرپشن کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہو پارہیں۔‘‘
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:’’ حکومت کی جانب سے انسانی سمگلنگ کی تمام اقسام پر پابندی عاید ہے اور نہ ہی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ کرپشن اور عملے میں تقریباً 25فی صد کمی کے باعث وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کی صلاحیت بدترین طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خاص طور پرمتحدۂ عرب امارات میں لڑکیوں اور خواتین کو ملازمت دینے کا جھانسہ دیے جانے اور غیر قانونی لیبر ایجنٹوںیا لائسنس یافتہ پاکستانی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذیلی ایجنٹوں کی جانب سے بھرتیوں کے لیے بھاری بھرکم فیسوں کی وصول کے باعث پاکستانی بیرونِ ملک جنسی استحصال اور جبری مشقت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘‘
نیوز لینز پاکستان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر ملک نے انسانی سمگلنگ میں اضافے کی ذمہ داری حکومت پر عاید کی۔ انہوں نے کہا:’’حکومت ایف آئی اے کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کاڈائریکٹر جنرل تبدیل کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ امدادی ممالک جیسا کہ جاپان اور آسٹریلیا ایف آئی اے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تعاون فراہم کر رہے ہیں لیکن ہماری اپنی حکومت اس ضمن میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘‘
ظفر ملک نے کہا کہ ایف آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور ادارے میں نگرانی کے نظام کو وضع کرنے سے ادارے میں ہونے والی کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا:’’ ایران تفتان سرحد اور افغانستان کے راستوں سے کنٹینروں پر سوار ہوکر غریب پاکستانی غیر قانونی طو رپر خلیجی ممالک، دبئی، ترکی، مشرقِ وسطیٰ، یورپی اور افریقی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ انسانی سمگلرز لوگوں کو غیر قانونی دستاویزات پر زمینی اور فضائی راستوں سے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں اور اس نوعیت کی سرگرمیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔‘‘
ایم اے او کالج لاہور میں عمرانیات کے پروفیسر مسعود مرزا نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غربت ہے۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ روزگار کے مواقع میں کمی کے باعث غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ناخواندگی، غربت، دہشت گردی، توانائی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث مجموعی طور پر سماجی بے چینی بڑھی ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا:’’ سماجی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ بہتر ملازمت اور روشن مستقبل کے سپنے آنکھوں میں سجائے اپنا ملک چھوڑ کر بیرونی دنیا کا رُخ کررہے ہیں۔ چناں چہ وہ انسانی سمگلروں سے رابطہ کرتے ہیں جو ان میں سرایت کرجانے والے سماجی مایوسی کے احساسات کو مزید ابھارتے ہیں۔‘‘
2014ء میں ایف آئی اے نے 141مطلوب انسانی سمگلروں میں سے صرف 25کو گرفتار کیا۔ایف آئی اے کی ریڈ بک کے چوتھے ایڈیشن میں مطلوب انسانی سمگلروں کی تعداد 2013-14ء میں 141تک جاپہنچی جو 2012ء میں 95تھی جن میں سیاست دان بھی شامل ہیں‘ سرُخ رنگ کی مجلد اس کتاب میں مطلوب انسانی سمگلروں کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی20ستمبر 2014ء کو دی نیوز میں شایع ہونے والی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2014ء کے مطابق پاکستان کی نصف سے زائد آبادی غربت کی مختلف صورتوں کا سامنا کر رہی ہے جب کہ پاکستان اس ضمن میں ہونے والی درجہ بندی میں 187ملکوں میں 146ویں نمبر پر ہے۔
انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والی خاتون آمنہ بی بی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایجنٹ محمد اکرم، جو اس کے مطابق طویل عرصہ سے امریکہ میں مقیم تھا اور گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں رہ رہا تھا، نے اس کو بیرونِ ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر خاصی بڑی رقم بٹور لی تھی۔ آمنہ بی بی نے کہا:’’ اکرم نے لاہور کے علاقے کیولری گراؤنڈ میں ویزا کنسلٹنسی کا دفتر کھول رکھا تھا۔ میرا اکرم سے اس کے ایک دوست کے ذریعے رابطہ ہوا۔ اکرم نے مجھ سے 50ہزار ڈالرز لیے اور جنوبی افریقہ میں ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر 15سو ڈالرز ماہانہ تنخواہ پر ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا۔‘‘
آمنہ یتیم ہے اور ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے‘ اس نے ایجنٹ کی فیس ادا کرنے کے لیے اپنی ماں کا گھر فروخت کردیا۔ وہ کہتی ہے:’’ اکرم نے ویزا اور دیگر دستاویزات کا بندوبست کیا لیکن جب میَں جنوبی افریقہ پہنچی تو اکرم نے میری کالوں کا کوئی جواب نہیں دیا ‘ حتیٰ کہ وہ کیولری گراؤنڈ کے اپنے دفتر سے بھی غائب ہوگیا۔ اس وقت مجھے ناامیدی اور لاچاری کے عالم میں واپس لوٹنا پڑا۔‘‘
آمنہ کا کہنا تھا:’’ میں نے اکرم کے اُس دوست کے ذریعے اس سے رقم کی واپسی کا تقاضا کیا جس نے اس کی ضمانت دی تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایف آئی اے لاہور آفس کے متعدد چکر کاٹے اور اس بارے میں شکایت درج کروائی لیکن یہ تمام تر کوششیں رائیگاں رہیں۔ بالآخر ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور سے ملاقات کی جنہوں نے اکرم کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور سات روز میں اس کا کھوج لگانے کا حکم دیا۔‘‘
اس نے مزید کہا:’’ دو ماہ بعد اکرم کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ ایف آئی اے نے اکرم کو حراست میں لے لیا اور تقریباً تین برس بعد ایف آئی اے کے ذریعے اکرم نے میرے 50ہزار ڈالرز واپس کردیے۔‘‘ آمنہ نے ہچکچاتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ اس نے ایف آئی اے کے اس افسر کو رشوت دی جس نے ڈائریکٹر عثمان انور کے احکامات پر اکرم کو حراست میں لیا اور تین گنا زیادہ رشوت لے کر اسے چھوڑ دیا۔
آمنہ کے مطابق اکرم نے اس کے علاقے میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسی ہی جعل سازی کی‘اوران کو جعلی دستاویزات پر دبئی، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، یورپ اور کینیڈا بھیجا۔ وہ ان دنوں کاسمیٹکس کا کاروبار کررہا ہے ۔
طارق مالک ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی سمگلنگ کے شعبہ میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت اسلام آباد پولیس سے منسلک ہیں‘ وہ حکومت پر یہ الزام عاید کرتے ہیں کہ وہ انسانی سمگلنگ کے مسئلے کے تدارک کے لیے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا:’’ حکومت نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے آرڈیننس (پی اے سی ایچ ٹی او) 2002ء کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے اور اس کو مزید جامع اور اور مؤثر بنانے کے لیے اس میں ترمیم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن 2014ء گزر چکا ہے اور تاحال کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔‘‘
انہوں نے امریکی محکمۂ خارجہ کی ٹی آئی پی رپورٹ 2014ء کا حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان ان ممالک کی درجہ بندی میں مزید نیچے آیا ہے جہاں سے انسانی سمگلنگ ہورہی ہے کیوں کہ ایف آئی اے 2014ء میں انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طارق ملک کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے حکومت نے کوئی نیاقانون متعارف نہیں کروایا اور نہ ہی موجودہ قوانین میں کوئی ترامیم کی گئی ہیں۔
انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ بہت سے انسانی سمگلروں کو سیاسی پشتِ پناہی حاصل ہے جن میں فیوچر کنسرن ایسوسی ایٹ کے مالک عاصم ملک، ان کی اہلیہ زوبیہ ملک اورمتروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق سربراہ سید آصف ہاشمی شامل ہیں۔ ایف آئی اے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘‘
طارق ملک نے کہا کہ پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا آغاز70ء کی دہائی میں ہوا جس نے حکومت کو 1975ء میں اس نوعیت کے جرائم پر قابو پانے کے لیے ایف آئی اے کی تشکیل پر مجبورکیا۔
ایف آئی اے لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث بہت سے گروہوں کو حراست میں لیا ہے کیوں کہ ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کے احکامات کی روشنی میں انسدادِ انسانی سمگلنگ کا شعبہ اس نوعیت کے مقدمات کے تدارک کے لیے فعال انداز سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا:’’ ایف آئی اے کے لیے انسانی سمگلنگ کسی بھی صورت میں ناقابلِ قبول ہے جس کے باعث انتہائی مطلوب انسانی سمگلروں کو گرفتار کرنے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی جاچکی ہے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here