کراچی میں انسدادِ پولیو مہم مشکلات کا شکار

0
4407

: Photo By News Lens Pakistan / Matiullah Achakzai

کراچی(تہمینہ قریشی سے) پاکستان میں رواں برس پولیو کے 85فی صد کیسز رپورٹ ہوئے اور وفاق کے زیرِ انتظام ناقابلِ رسائی قبائلی علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے کراچی میں آباد ہونے کے باعث انسدادِ پولیو کی مہم کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ایک جانب اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان ہزاروں بچوں کو قطرے پلائے گئے جو قبل ازیں ان علاقوں تک رسائی نہ ہونے اور امن و امان کے ابتر حالات کے باعث پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔دوسری جانب قابلِ اعتبار اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے کے باعث انسدادِ پولیو کی کمپینوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ایکسپینڈڈ پروگرام آف امیونیزیشن (ای پی آئی) کے پاکستان میں سربراہ رانا صفدر نے کہا،’’ فاٹا کے باسیوں کے بڑی تعداد میں کراچی میں ہجرت کرنے کے باعث پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کا ایک موقع ملا ہے۔ہیلتھ ورکرز کے لیے قبائلی علاقے ناقابلِ رسائی ہیں جس کی وجہ امن و امان کے حالات اور خراب راستے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ رواں برس ملک بھر میں پولیو کے تقریباً260کیس رپورٹ ہوئے ‘ یہ تعداد گزشتہ 15برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ویکسینیٹرز کو درپیش مسائل واضح ہیں۔ ایک تشویش ناک مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی آبادی کے حوالے سے کوئی مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں اور خاص طورپر انتظامی مسائل اور بعض علاقوں کے دور دراز ہونے کے باعث بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔لیکن یہ واضح رہے کہ دنیا میں کہیں بھی پولیو ورکرز پر حملے نہیں کیے گئے۔‘‘
دسمبر 2012ء سے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے کم از کم 65ہیلتھ ورکرز مارے جاچکے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کوئٹہ میں چند روز قبل ہونے والا حملہ ہے جو شہر کی 18یونین کونسلوں میں ہنگامی بنیادوں پر شروع کی گئی پولیو مہم پر کیا گیا تھا۔ موٹرسائیکل پر سوار خودکار اسلحہ سے لیس نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک مرد اور تین عورتوں کو ہلاک کردیا۔
اس حملے کے بعد ضلع بھر میں پولیو مہم کو روک دیا گیا۔ اس کے اثرات کراچی پر بھی مرتب ہوئے جہاں اس حملے کے بعد پولیو مہم تعطل کا شکار ہوگئی۔ کراچی کے ہیلتھ ڈائریکٹر ظفر اعجاز کے مطابق شہر میں تقریباً19ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کراچی کی 86یونین کونسلوں میں شروع کی گئی تھی اور اس دوران پانچ لاکھ 75ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے تھے۔ ظفراعجاز نے مزید کہا:’’ پولیو کی ایک اور مہم کراچی میں 30نومبر کو شروع ہوگی۔‘‘ تاہم ای پی آئی کے سربراہ رانا صفدر نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پاس پولیو کے وائرس پر قابو پانے کایہ آخر ی موقع ہے۔
کراچی سے پولیو وائرس دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے لگا
کراچی ہیلتھ آفس سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس سندھ بھر میں پولیو کے رپورٹ ہونے والے23کیسوں میں سے 21کراچی میں ہوئے۔ کراچی میں مذکورہ 21کیس صرف 11یونین کونسلوں میں رپورٹ ہوئے جنہیں ’’حساس‘‘ قرار دیا گیا تھااور یہ 25کلومیٹر تک پھیلا ہوا علاقہ ہے جن میں شورش سے متاثرہ گڈاپ، بلدیہ اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے بھی شامل ہیں۔
یہ وہ علاقے ہیں جہاں پولیو مہم کے رضاکارعسکریت پسندوں کی موجودگی کے باعث گھروں تک رسائی حاصل کرنے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرچکے ہیں۔ ملک بھر میں پولیو رضاکاروں پر ہونے والے 40فی صد حملے گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن کے علاقوں میں ہوئے ہیں۔ باعثِ دلچسپ اَمر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہونے والے پولیو کے 20فی صد کیسوں کا تعلق بھی کراچی سے جوڑا جاتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بلدیہ، گڈاپ، سائیٹ، نارتھ کراچی، لانڈھی، بن قاسم ٹاؤن اور کورنگی کے علاقوں میں سیویج میں پولیو وائرس کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ 
ای پی آئی کے سربراہ رانا صفدر نے وضاحت کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی میں ایسے سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جب والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا۔ یہ سب کے سب تقریباً پشتون تھے اور وہ ان 11یونین کونسلوں میں آباد تھے۔
کراچی چوں کہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا شہر ہے اور دنیا بھر میں پشتو بولنے والی سب سے زیادہ آبادی اسی شہر میں آباد ہے جس کے باعث یہ پاکستان اور دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس کی منتقلی کا سبب بن رہا ہے۔ 
وفاقی محکمۂ صحت کے ایک سینئر افسر نے کہا:’’ اگر وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے تمام بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلا دیے جاتے ہیں تو اس صورت میں بھی کراچی میں مہم کو جاری رکھنا مشکل رہے گا۔‘‘
انسدادِ پولیو کی کمپینوں کا مربوط نہ ہونا
وزیرِ مملکت برائے صحت سائرہ افضل تاڑر نے سندھ حکومت پر یہ الزام عاید کیا کہ وہ صوبہ میں انسدادِ پولیو سے متعلق کی جانے والی کوششوں سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کررہی اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھائے۔
انہوں نے 12نومبرکو محکمۂ صحت کے حکام کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا:’’ سندھ کے کچھ اضلاع میں جو صوبے کا صرف چھ فی صد علاقہ بنتا ہے‘ انسداد پولیو کی مہم چلائی گئی۔ حکام نے وفاق کو پولیو سے متعلق غلط اعداد و شمار فراہم کرکے گمراہ کیاجس کے باعث صورتِ حال مزیدپیچیدہ ہوگئی ہے۔میں ذاتی طور پر یہ یقین رکھتی ہوں کہ سندھ حکومت کی جانب سے اگر سنجیدہ کوششیں کی جاتیں تو اس صورت میں حالات بہت بہتر ہوتے۔‘‘
صوبائی سیکرٹری صحت اقبال درانی نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے 11حساس یونین کونسلوں تک رسائی میں درپیش مشکلات کو تسلیم کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شہر کے صرف 70فی صد علاقوں میں پولیو مہم چلائی جاسکی ہے لیکن اس کے باوجود ہیلتھ ورکرز 99فی صد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں کامیاب رہے۔
ای پی آئی کے سربراہ رانا صفدر نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت اور سندھ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار میں کوئی ربط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:’’ بہت سے بچے قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا جانتے بوجھتے ہوئے کیا گیا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا سہواً ہوا ہو کیوں کہ کراچی اور پاکستان کی آبادی کے حوالے سے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’ بہت ساری وجوہات کے باعث11 حساس علاقوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے۔ ہیلتھ ورکر ز،ان علاقوں میں جہاں پولیو مہم متاثر ہوئی ہے، نامناسب سکیورٹی اورسخت محنت کے باوجود معاوضہ میں ادائیگی میں ہونے والی تاخیر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔‘‘
اس کا اظہار پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسوں سے ہوتا ہے کیوں کہ 21میں سے نصف کیسوں میں پولیم مہم چلانے سے انکار کردیا تھاجس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں انہوں نے پولیو کے قطرے نہیں پلائے۔
رانا صفدر کے مطابق مختلف علاقوں کے حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس پر مستقل مزاجی اور دلجمعی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے‘ نامکمل اعداد و شمار سے پوری مہم متاثر ہوتی ہے کیوں کہ تمام تر حکمتِ عملی ان کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’اعداد و شمار کے درست نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پوری حکمتِ عملی میں ہی سقم باقی رہ گئے ہیں اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کو پولیو مہم کے لیے اپنے طور پر منصوبے تشکیل دینا ہوں گے جو ان کے حالات اور امن و امان کی صورتِ حال سے تعلق رکھتے ہوں۔ رانا صفدر نے کہا:’’ وزیراعظم نے حال ہی میں اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور انہوں نے صوبوں سے اس حوالے سے تجاویز طلب کی ہیں کہ ان کو اس ضمن میں کن وسائل کی ضرورت ہے۔ وفاق ان کو مطلوبہ وسائل فراہم کرنے اور پولیو کی عفریت سے نجات دلانے میں مدد کرنے کا خواہاں ہے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here