سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکرشجاع آبادی کی امداد کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

0
5972

لاہور ( احسان قادر سے) جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرائیکی زبان کے معروف شاعر اور دانش ور شاکر شجاع آبادی اپنے علاج کے حوالے سے حکومتی وعدوں کے پورا ہونے کے منتظر ہیں۔ 
شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے ایک عظیم شاعر ہیں اور سرائیکی شاعری پر ان کی دسترس غیر معمولی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔وہ جنوبی پنجاب کے ادبی حلقوں میں نہ صرف مقبولیت میں سب سے آگے ہیں بلک ان کا بہت زیادہ احترام بھی کیا جاتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی کو 11کتابوں کی تصنیف پر قومی سطح کے متعدد اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ وہ اس وقت ایک ذہنی عارضے کا شکار ہیں اور لاہور جنرل ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔انہوں نے اُردو، پنجابی اور دیگر زبانوں میں بھی شاعری کی ہے۔
نیوز لینز پاکستان کے ساتھ تحریری بات چیت میں شاکر شجاع آبادی نے کہا:’’ مجھے اپنے لیے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں اپنا جیون بیتا چکا ہوں۔ لیکن میرے بچوں کامستقبل محفوظ بنایا جائے اور حکومت میری وفات کے بعد ان کا دھیان رکھے۔‘‘
نیوز لینز پاکستان سے ایک انٹرویو میں شاکر شجاع آبادی کے صاحب زادے نوید شاکر نے کہا کہ ان کے والد کو سرائیکی شاعری و ادب میں غیر معمولی خدمات پر قومی سطح کے متعدد اعزازات سے نوازا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ان میڈلوں اور شیلڈز سے ان کا علاج ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے۔
نو یدشاکر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نواز شریف نے سات فروری 2014ء کو بہاولپور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کے والد کے بلامعاوضہ علاج اور ان کے ایک صاحب زادے کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا :’’ ایک برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس وعدے پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کے والد 2004ء میں اس عارضے کا شکار ہوئے تھے اور اس وقت سے وہ بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے 15لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا جو تاحال ادا نہیں کی گئی۔
لاہور جنرل ہسپتال میں شاکر شجاع آبادی کے معالج ڈاکٹر انجم حبیب ووہڑا نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاعر نفسیاتی عارضے ’’ڈسٹونیا‘‘ کا شکار ہیں جس کے باعث ان کے متعدد طبی ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔
ڈاکٹر انجم حبیب ووہڑا کے مطابق:’’ شاکر شجاع آبادی اس بیماری کے باعث بات نہیں کرسکتے۔ ڈسٹونیا کے علاج پر 20لاکھ روپے کا خرچہ ہوتا ہے جس کے باعث شاکر شجاع آبادی کا خاندان ان کاعلاج کروانے پر تیار نہیں ہے کیوں کہ وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ شاکر شجاع آبادی کو ایک پرائیویٹ کمرہ الاٹ کیا گیا ہے جب کہ ایک میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے جو ان کا علاج کررہا ہے۔
نیشنل سرائیکی پارٹی کی سربراہ ساجدہ لنگاہ نے کہا کہ شاکر آبادی ایک عظیم شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عوام کی محرومیوں کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا:’’ یہ ان کی شاعری تھی جو میرے لیے مشعلِ راہ بنی اور میں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سرائیکی خطے کا ایک عظیم اثاثہ ہیں جنہوں نے عوام کو وڈیروں، ظالموں اور طاقت وروں سے لڑنا سکھایا۔‘‘
انہوں نے شاکر شجاع آبادی کو محروم طبقات اور خاص طور پر جنوبی پنجاب کے بے کس باسیوں کے جذبات کا ترجمان قرار دیا۔ ساجدہ لنگاہ نے یہ تجویز بھی دی کہ شاکر شجاع آبادی کے ادبی مقام کے اعتراف کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جائے تاکہ ان کی شاعری سے آنے والی نسلیں بھی متعارف ہوسکیں۔
فروری 2014ء میں وزیراعظم نواز شریف نے شاکر شجاع آبادی کو ماہانہ وظیفہ اور مکان دینے کے علاوہ ان کے ایک صاحب زادے کو ملازمت دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ وعدہ کبھی پورا نہیں ہوسکا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ان کے لیے 25ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جو ان کو رواں برس جنوری میں صرف ایک بار ہی ملا۔
برسرِاقتدار جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنما اور پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے کہا کہ انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا اور علیل شاعر کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا:’’ لاہور جنرل ہسپتال میں ایک پانچ رُکنی طبی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جو شاکر شجاع آبادی کا علاج کررہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزیدکہا:’’ وزیراعلیٰ شہباز شریف علاج کے تمام تر اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں۔ حکومت یہ یقینی بنا رہی ہے کہ پبلشرز ان کی کتابوں کی رائلٹی ادا کریں تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات برداشت کرسکیں۔‘‘زعیم قادری کا مزید کہناتھا کہ حکومت شاکر شجاع آبادی کی معاونت جاری رکھے گی کیوں کہ وہ قومی اثاثہ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here