بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قوانین موجود نہیں

0
4284

لاہور (شہریار ورائچ سے) 12برس کی اُمِ ربابہ کو اس کے مالک کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاوقتیکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے متاثرہ بچی کو تحفظ فراہم نہیں کیا۔ 
اُمِ ربابہ ایسی واحد بچی نہیں ہے جسے اس قسم کا تشدد سہنا پڑا۔ یہ گھروں اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے ہر تین میں سے دو بچوں کی کہانی ہوسکتی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کے خلاف بل جنوری 2014ء میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن کوئی بھی اس جانب توجہ دینے پر تیار نظر نہیں آتا۔ 
انہوں نے کہا:’’ بچوں کی تعلیم کے فروغ اور ان پر ہونے والے تشدد اور جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں کہیں پر کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے ترمیمی بل 2010ء کو ہنوز منظور ہونا ہے۔
آئی اے رحمان نے مزید کہا:’’ یہ صورتِ حال انتہائی افسوس ناک ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران 18برس سے کم عمر کے بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی ایک قانون بھی متعارف نہیں کروایا گیا۔ بچوں کے تحفظ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کے نفاذکی فوری ضرورت ہے۔ اس ضمن میں فوجداری مقدمات میں لازمی طور پر سخت سزائیں شامل کی جانی چاہئیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا :’’حکومت کی جانب سے فوجداری قانون کا بل 2009ء اور نہ ہی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی کا نفاذ عمل میں آسکا ہے۔ مزیدبرآں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قومی کمیشن کے قیام کا بل 2001ء بھی التوا کا شکار ہے۔ جسمانی سزاؤں پر پابندی کا بل 2010ء قومی اسمبلی کی جانب سے منظورکیا جاچکا ہے لیکن سینیٹ نے اب تک اس کی توثیق نہیں کی۔‘‘
پاکستان ان اولین20ملکوں میں سے ایک تھا جنہوں نے 1990ء میں یواین ایچ سی آر(اقوامِ متحدہ کاکنونشن برائے حقوقِ بچگان) کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیے گئے کنونشنز کی توثیق کی تھی۔ لیکن ملک میں بچوں کے تحفظ کے قوانین کو ہنوز منظور کیا جانا ہے۔ 
سپارک ( سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ) کے علاقائی منیجر سجاد احمد چیمہ نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپارک کی سالانہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چار ملین سے زائد بچے محنت مزدوری کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:’’ غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے کے بجائے کام پر بھیج دیتے ہیں۔‘‘
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات میں بالخصوص پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بیان کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2013ء میں مختلف پولیس سٹیشنوں میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 28سو مقدمات رپورٹ ہوئے جو 2014ء میں بڑھ کر 2987 ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا:’’بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کے مقدمات کی بڑی تعداد شہروں میں رجسٹرڈ ہوئی جس کی ایک وجہ ان علاقوں میں میڈیا کا فعال ہونا بھی ہے۔‘‘
کراچی سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم کونپل بچوں کے خلاف روا رکھے جانے والے ہر طرح کے تشدد کے تدارک کے لیے کام کر رہی ہے۔ کونپل کی پروگرام ڈائریکٹر شہناز یٰسین کے مطابق بچوں کا بھیک مانگنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ نوعیت کی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا:’’ یہ اَمر حقیقتاً تشویش ناک ہے کہ ملک کے وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے بچوں سے متعلق منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے صرف 0.67فی صد بجٹ مختص کیا ہے۔‘‘ شہناز یٰسین نے مزید کہا:’’ بھیک مانگنے والے بچوں سے متعلق کوائف دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ایسے بچوں کی تعداد میں ملک بھر میں اور خاص طور پر سندھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ مزید برآں بچپن کی شادیاں اور جنسی استحصال وہ عوامل ہیں جو معاشرتی رویوں کی زوال پذیری کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔‘‘
وزیر برائے انسانی حقوق خلیل طاہر سندھو نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے موجودہ قوانین جیسا کہ بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے ایکٹ، جسمانی سزاؤں کے بل اور لیبر قوانین پر بات کی اور کہا:’’ جی بالکل! میَں اتفاق کرتا ہوں کہ ان قوانین کو لاگو کرنے کے لیے درکار ڈھانچہ نہ ہونے کے باعث متوقع نتائج حاصل نہیں ہو پارہے۔ بچوں کے محنت مزدوری کرنے پر مکمل پابندی، بچوں کی شادیوں اور ان کے ساتھ ناروا سلوک و تشدد کے تدارک کے لیے مستقبل قریب میں سزائیں متعارف کروائی جائیں گی۔‘‘انہوں نے مزید کہا:’’گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا قانون، بچوں کے بھیک مانگنے کا قانون اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا ایکٹ رواں برس متعارف کروا دیا جائے گا۔‘‘
وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق پرویز رشید نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ شہری حقوق کی آگاہی کی مہم اس حوالے سے بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ حکومت بچوں کے حقوق کی اہمیت کا ادراک رکھتی ہے اور اس ضمن میں سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ وزارتِ انسانی حقوق بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کی تشکیل کے لیے کام کر رہی ہے۔ نئی قانون سازی اور زیرِ التواء قوانین منظوری کے لیے جلد پارلیمنٹ میں پیش کر دیے جائیں گے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here