پشاور: بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ‘ کاروباری برادری دوسرے شہروں کا رُخ کرنے لگی

0
4860

پشاور (غلام دستگیر سے) شہر کی شوبھا مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے مرتضیٰ خان ایک تاجر ہیں جنہوں نے حال ہی میں لاہور اور راولپنڈی میں اپنا کاروبار شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور، خاص طور پر موخرالذکر شہر، پشاور کی نسبت محفوظ ہیں۔ مرتضی خان کا کہنا تھا:’’ اب میں مشکل سے 10روز اپنے آبائی شہر(پشاور) میں گزارتا ہوں۔‘‘
خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں بھتہ خوری کے باعث ہونے والے پرتشدد اور اغوا کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح نے بزنس مینوں اور صنعت کاروں کی ایک بڑی تعداد کو پشاور سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کیا ہے جس کے باعث بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔
خیبرپختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق بھتہ خوروں کے خوف کے باعث تقریباً 150بزنس مین صوبہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے عسکریت پسندی سے متاثرہ پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں بھتہ خوری کے 10گنا زیادہ مقدمات رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
سنٹرل پولیس آفس پشاور سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کے مطابق 2011ء سے 2013ء تک بھتہ خوری کے اوسطاً کم از کم 30واقعات سالانہ ہوئے۔ 2014ء کی اولین تین سہ ماہیوں میں یہ تعداد 285تک جاپہنچی۔ ان اعداد و شمار کا مزید گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 2011ء میں بھتہ خوری کے 13، 2012ء میں 21 اور 2013ء میں 56مقدمات درج ہوئے۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ناصر خان درانی نے وضاحت کی کہ بھتہ خوری کے مقدمات میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ قبل ازیں بھتہ خوری کا مقدمہ درج کروانے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا:’’ اب حالات ماضی سے یکسر مختلف ہوچکے ہیں کیوں کہ لوگ پولیس میں بھتہ خوری کے مقدمات درج کروانے لگے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پُرامید ہوتے ہیں کہ وہ انصاف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔‘‘
خیبرپختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فواد اسحاق کہتے ہیں کہ پشاور میں صنعت کاراور تاجر بھتہ خوروں کے خوف میں اپنا کاروبارکر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث سرمایہ صوبائی دارالحکومت سے نہ صرف ملک کے دیگر علاقوں میں منتقل ہوا ہے بلکہ صنعت کار وں اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد بھی شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئی ہے۔‘‘
فواد اسحاق کے مطابق پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک صنعت کار کراچی میں 10ارب روپے اور ایک دوسرا صنعت کار لاہور میں پانچ ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر سے ایک ہزار عام لوگوں کی نقل مکانی کی نسبت سرمایے اور صنعتوں کی منتقلی کے سماج پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فواد اسحاق کہتے ہیں:’’ ان صنعت کاروں نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی‘ ان کی وجہ سے روزگار کے ہزاروں مواقع دستیاب تھے لیکن اب وہ دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں جس کے باعث محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد کی ملازمت چھوٹ گئی ہے جو کہ خطے میں بے روزگاری کی شرح کے بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پشاور کے باسیوں کی زندگی قیدیوں کی طرح ہوچکی ہے۔ایک صنعت کار اور تاجر نے، جو پشاور میں اپنا کاروبار ختم کرسکتے ہیں، کہاکہ وہ ملک کے کسی بھی دوسرے محفوظ شہر میں منتقل ہونے میں ایک لمحہ بھی ضایع نہیں کرنا چاہتے۔
فواد اسحاق نے کہا:’’ ہم اپنے بچوں کو، خاص طور پر غروبِ آفتاب کے بعد، مسلح گارڈوں کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ کہتے ہیں کہ پشتونوں کو اسلام آباد کے نئے سیکٹروں میں رہایش پذیر دیکھا جاسکتا ہے کیوں کہ کوئی بھی خود کو پشاور میں محفوظ تصور نہیں کرتا۔ 
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، چارسدہ، مردان، نوشہرہ، صوابی، کوہاٹ، لکی مروت اور بنوں میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
فواد اسحاق نے کہا:’’ اگر حکومت عسکریت پسندی سے متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے صنعت کاروں اور تاجروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ ان کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘ وہ خوف زدہ ہیں کہ دوسری صورت میں صوبہ خیبرپختونخوا میں صرف انتہاپسندی کو ہی فروغ حاصل ہوگا۔
وفاقی خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے ایک اہلکار نے نیوز لینز پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھتہ خوری کے واقعات میں عسکریت پسند گروہ جیسا کہ لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان مہمند اور عمر ادیزئی گروپ زیادہ فعال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اغوا ء کرنے کی نسبت بھتہ مانگنا زیادہ آسان اور محفوظ طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کو بھتہ خوری کے لیے صرف ایک رجسٹرڈ موبائل فون سم کی ضرورت ہوتی ہے۔
آئی بی کے اہل کار نے، اپنی حساس نوعیت کی ملازمت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر، مزید کہا:’’ صرف کسی صاحبِ ثروت شخص کا نمبر ملائیے‘ اگر وہ سرنڈر کرجائے تو بہتر ہے‘ دوسری صورت میں اس کے گھر کے باہر بم دھماکہ ہوتا ہے‘ اگروہ شخص اس کے باوجود بھتہ ادا نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔‘‘
پشاور سے تعلق رکھنے والے پھلوں کے ایک بیوپاری حاجی کابل خان کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ آئی بی کے اہل کار نے نیوز لینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ وہ ماہانہ بنیادوں پر عسکریت پسندوں کو بھتہ ادا کرتے تھے لیکن ایک روز اچانک ہی ان سے ایک بڑی رقم کی ادائیگی کا تقاضا کیا گیا۔ حاجی کابل خان نے انکار کر دیا جس کی پاداش میں ان کو 23دسمبر 2013ء کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اسحاق فواد نے کہا:’’ اگر آپ ایک بار سرنڈر کردیتے ہیں اور بھتہ ادا کرنا شروع کردیتے ہیں تو آپ ہمیشہ کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘‘
اگرچہ آئی بی کے اہل کار اس مؤقف سے متفق نہیں تاہم انہوں نے کہا:’’ پشاور کے تقریباً تمام معروف ڈاکٹر بھتہ ادا کرتے ہیں جس کے باعث ہم نے حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں کے اغوا کی شرح میں کمی دیکھی ہے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here