سندھ میں بلدیاتی حکومتوں کا نظام‘ سیاسی فریقین کسی ایک فارمولے پر متفق نہ ہوسکے

0
4700

کراچی (تہمینہ قریشی سے) مقامی حکومت کا منتظم ڈھانچہ نہ ہونے کے باعث اس کے پاکستان کے معاشی مرکز و سب سے بڑے شہر کراچی پر منفی اثرات مرتب ہور ہے ہیں۔ 
جنوری کے اوآخر میں کلفٹن کے رہائشی بلاول ہاؤس کے باہر جمع ہوئے جو سندھ حکومت سے یہ مطالبہ کررہے تھے کہ وہ علاقے میں نہ صرف صفائی کے انتظامات بہتر کرے بلکہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بھی اقدامات کرے۔
پانچ ماہ قبل شہر کی نواحی کچی بستیوں کے باسیوں نے علاقہ میں تین ما ہ سے جاری خشک سالی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ ان کو ہفتہ میں کم از کم ایک روز ضرورپانی فراہم کیا جائے۔
قبل ازیں اپریل 2014ء میں بنارس اور اورنگی کے علاقوں میں اسی نوعیت کے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن پر تشدد کا رنگ غالب آگیا جس کے باعث پولیس کو مظاہرین پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا جب کہ آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔ 
جولائی 2014ء میں سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ء کے تحت قدیم کمشنری نظام بحال کر دیا تھا لیکن یہ نظام کام شروع نہیں کرسکا کیوں کہ مختلف سیاسی عوامل اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء میں موجود خامیوں کے باعث مقامی حکومتوں کا انتخاب عمل میں نہیں آسکا تھا۔ 
سابق بیوروکریٹ غلام عارف، جو لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ وہ قانون، جس کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوتے ہیں،واضح نہیں ہے کہ آیا اپیلیٹ اتھارٹی صوبائی حکومت ہوگی یا وفاقی؟ 
انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی واضح نہیں ہے کیوں کہ اس میں ’’مجوزہ ضابطوں‘‘ کے متعدد حوالے موجود ہیں۔غلام عارف کہتے ہیں:’’مجوزہ ضابطوں سے مراد رائج الوقت قوانین ہیں۔اس وقت 2001ء کے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے علاوہ کوئی قانون رائج نہیں ہے جس میں کمشنری نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ مزید برآں موجودہ مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے فرائض انجام دینے میں کُلی طور پر بے اختیار ہیں۔‘‘
ماضی کی بازگشت
غلام عارف نے جس لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کا حوالہ دیا ہے‘ وہ سابق صدر پرویز مشرف نے متعارف کروایا تھا۔ 
2001ء اور بعدازاں 2005ء میں’’غیرجماعتی‘‘ بنیادوں پر انتخابات ہوئے، تاہم پلڈاٹ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق سیاسی جماعتیں انتخابات کے ہر مرحلے میں شامل رہیں۔مقامی حکومتوں کے اولین انتخابات میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نعمت اللہ خان ضلعی ناظم منتخب ہوئے جب کہ 2005ء میں ہونے والے انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے مصطفی کمال اس عہدے پر منتخب ہوئے۔ 
بیرسٹر ضمیر گھمرو نے کہا:’’ اس نظام کے تحت ضلعی و یونین کونسلیں قائم کرکے جمہوریت کی مرکزیت کا خاتمہ کرنا مقصود تھا جس کے باعث سٹی ڈسٹرکٹ حکومتوں کی تشکیل عمل میں آئی۔ تاہم میئرز بہت زیادہ بااختیار تھے اور وہ سندھ حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاق سے براہِ راست فنڈز حاصل کرلیتے تھے۔‘‘
کراچی یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈیز سنٹر کے ڈائریکٹرپروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چوں کہ ایک آمر کے اس قانون کو پارلیمان کی تائید حاصل نہیں ہوسکتی تھی جس کے باعث ان کے پیشِ نظر غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کروا کر صوبائی حکومت کے اثر و رسوخ کو کم کرکے اپنی طاقت بڑھانا مقصود تھا۔ 
اس آرڈیننس کے تحت حیدرآباد، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں سٹی ڈسٹرکٹ حکومتیں قائم ہوئیں جب کہ صوبہ کے دوسرے علاقوں میں ٹاؤن انتظامیہ کو سیاسی اختیارات منتقل ہوئے۔
کراچی کے پانچ اضلاع کو ایک ضلع میں یکجا کر دیا گیا اورنچلی سطح پر دو انتظامی یونٹ تشکیل پائے جن میں 18ٹاؤن اور 178یونین کونسلیں شامل تھیں۔
2011ء میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی دیوالیہ ہوگئی اور اپنے 80ہزار ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہی۔ 
فیصلوں میں استقامت کا نہ ہونا
بعدازاں پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ حکومت کے قائم مقام گورنر نثارکھوڑو نے 1979ء کے مقامی حکومتوں کے نظام کی جانب واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا جو کہ عمومی طور پر کمشنری نظام کے طور پر معروف ہے۔
کراچی ، حید آباد، جامشورو، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں قائم مقامی حکومتیں ختم کر دی گئیں۔
نثار کھوڑو نے اس بارے میں کہاتھا:’’ اب کوئی ضلعی ناظم نہیں ہوگا اور ہم ٹاؤنوں کے موجودہ نظام سے جان چھڑوا لیں گے۔ جب یہ آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تو اس وقت مقامی حکومتوں کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ یہ فیصلہ مشرف کی جانب سے یکطرفہ طور پر کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے اپنی حکومت کو قانونی جواز بخشنا تھا۔‘‘
ماضی میں موجود رہنے والی اختیارات کی تقسیم یعنی صوبائی حکومت کے بعد ڈویژن کی اکائی کے نظام کو بحال کر دیا گیا جو مشرف کے مقامی حکومتوں کے نظام کو قائم کرنے کے لیے ختم کر دیا گیا تھا ‘ یوں کمشنروں کوایک بار پھر اختیارات حاصل ہوگئے۔
یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم) کو پسند نہیں آیا جس نے اس پر خاصا شورمچایا کہ کمشنری نظام ’’برطانوی عہد میں واپس جانے کے مترادف‘‘ ہے۔ 
جس کے باعث پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مابین مذاکرات کا ایک طویل دور چلا ‘ پیپلز پارٹی کا صوبے کے دیہی علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ قائم ہے تو موخرالذکر جماعت کراچی سمیت صوبے کے شہری علاقوں میں سیاسی طاقت رکھتی ہے۔
دونوں جماعتوں نے ’’درمیانی راستہ‘‘ نکالا جس کے باعث مئی 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات سے ایک برس سے بھی کم عرصہ قبل سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012ء منظور ہوا جس میں کمشنری نظام اور ٹاؤن شپ سسٹم کے اہم نکات یکجا کر دیے گئے تھے۔
اس نظام کے تحت صوبے کے 18اضلاع میں ضلعی کونسلوں کا قیام عمل میں آیا جب کہ دیگر پانچ اضلاع کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشنیں قائم کی گئیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے کہا:’’ یہ دونوں جماعتوں کی جانب سے اختیارات کی تقسیم کا فارمولہ تھا۔ حزبِ اختلاف اورحتیٰ کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں تک نے اس آرڈیننس کو رَد کر دیا۔‘‘
بہرحال شدید ترین احتجاج کی اس لہر کے دوران مذکورہ آرڈیننس سندھ اسمبلی سے منظور ہوگیاجس کے باعث پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزرا احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔
احتجاج کا یہ سلسلہ صوبے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل گیا جہاں پر قوم پرست جماعتوں نے شاہراؤں کو بند کرکے صوبے کے دیہی و شہری علاقوں کی اس’’تقسیم‘‘ کے خلاف احتجاج کیا۔
فروری 2013ء میں ایک بار پھر سندھ اسمبلی نے ایس پی ایل جی او 2012ء کی جگہ ایک اور بل متعارف کروایا اور 1979ء کے مقامی حکومتوں کے نظام کو بحال کر دیا جس کے باعث ایک بار پھر ایم کیو ایم کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔ 
پروفیسر ڈاکٹر سیدجعفر احمد کہتے ہیں:’’ ظاہر ہے دونوں جماعتوں میں تنازع کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی کراچی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
مقامی حکومتوں کے انتخابات
جولائی 2013ء میں اس وقت حال ہی میں منتخب ہونے والی سندھ اسمبلی نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ء کے تحت لوکل باڈیز سسٹم کو بحال کردیا جب کہ 2012ء کے قانون کی رو سے ٹاؤن ایڈمنسٹریشن کو ختم کر دیا گیا۔ 
بعدازاں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشنوں جب کہ دیگر اضلاع میں ڈسٹرکٹ کونسلوں کا قیام عمل میں آیا ۔ 
کراچی کے پانچ اضلاع بحالی کر دیے گئے جن کے انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر تھے جو اپنے اپنے علاقوں میں میونسپل کارپوریشنوں کے نگران بھی تھے۔ 
صوبائی لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سابق سیکرٹری ڈاکٹر مصطفی سوہاق نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے مکمل طور پر نفاذ اور خاص طور پر کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں میونسپل کارپوریشنوں کی بحالی کے لیے بلدیاتی انتخابات کے تحت منتخب ہونے والے نمائندوں کی ضرورت تھی جو پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ایک اور اہم مسئلہ بن کر ابھرا۔ 
انہوں نے کہا کہ دسمبر 2013ء تک انتخابات کروانے کی تمام تر تیاریاں مکمل کی جاچکی تھیں تاہم سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی متعدد حلقوں کی حد بندیوں پر سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اعتراض کے بعد یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ 
نیوز لینز پاکستان کو حاصل ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق دسمبر 2014ء میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں ترمیم کر دی گئی جس کے تحت حلقوں کی حدبندیوں کا ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان قرار پایا۔ قبل ازیں حلقوں کی حد بندیوں کی ذمہ دار صوبائی حکومت تھی۔
ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل سے منسلک حسن ناصر نے کہا کہ ان تمام تر وجوہات سے قطأ نظر قانون میں بہت سے سنجیدہ نوعیت کے سقم موجود تھے۔
میونسپل، ٹاؤن و یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے براہِ راست منتخب ہونے والے نمائندوں کے انتخاب کے طریقۂ کار کا واضح نہ ہونا سب سے بڑی خامی تھی۔
مزیدبرآں انہوں نے کہا کہ اس قانون سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وفاق یاپھر سندھ حکومت میں سے اہم معاملات پرحتمی اتھارٹی کون ہوگی۔
دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد یہ یقین رکھتے ہیں کہ جمہوری عمل کی بقاء کے لیے کچھ خامیوں کو قبول کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام اس وجہ سے بدنام ہوا کیوں کہ ان کو متعارف کرواکر فوجی آمروں کی حکومتوں کو قانونی جوازفراہم کیا جاتا رہا۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر نظام کو چلنے دیا جاتا تو اس سے بالآخر احتساب یقینی ہوجاتا‘ اس سے قطأ نظر کہ ابتداء میں اس میں کس قدر سقم موجود تھے۔ 
انہوں نے کہا:’’ جب علاقے کے لوگ منتخب ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان رہتے ہیں جنہوں نے انہیں مقامی حکومتوں کے نمائندوں کے طور پر منتخب کیا ہو تو اس صورت میں ہی وہ خود کو عوامی امنگوں پر پورا اترنے کے ذمہ دار تصور کریں گے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here